amit shah

امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کے ساتھ سمجھوتوں میں کسانوں کے مفادات مکمل طور پر محفوظ

راہل گاندھی تجارتی معاہدوں پر گمراہ کن اور جھوٹ پر مبنی بیانیہ پھیلا رہے ہیں// وزیر داخلہ امیت شاہ

سرینگر//یو این ایس/ / بھارت کے تجارتی معاہدوں کو لے کر سیاسی ماحول میں شدت آ گئی ہے، جہاں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کانگریس اور اس کے قائد راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کے حوالے سے کسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے’’جھوٹ پر مبنی بیانیہ‘‘ پھیلا رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق گاندھی نگر میں بھارت کے پہلے سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی پر مبنی عوامی تقسیم نظام کے اجراء کے بعد ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے یہ دعویٰ کہ تجارتی معاہدوں سے ملک کے کسان اور ڈیری صنعت متاثر ہوگی، سراسر بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے ہر معاہدے میں کسانوں، مویشی پالنے والوں اور ماہی گیروں کے مفادات کو اولین ترجیح دی ہے۔شاہ نے کہا، “کانگریس کی ملک کو گمراہ کرنے کی تاریخ رہی ہے۔ آج وہ دوبارہ کسانوں کے نام پر سیاست کر رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ عالمی تجارتی معاہدوں سے بھارتی زراعت تباہ ہو جائے گی۔ یہ دعوے حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔انہوں نے خاص طور پر ڈیری شعبے کے حوالے سے کانگریس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے ڈیری سیکٹر کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط کیا ہے اور تمام بین الاقوامی معاہدوں میں اس شعبے کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔حالیہ پیش رفت میں وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کے بعد امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر عائد محصولات کو 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کرنے کا اعلان کیا، جسے حکومت ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہی ہے۔اسی دوران بھارت اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات مکمل ہونے کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس معاہدے سے دو طرفہ تجارت کو فروغ ملے گا اور اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔امیت شاہ نے راہل گاندھی کو کھلے عام مباحثے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی پلیٹ فارم پر اس موضوع پر بحث کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ بی جے پی یو ماقرچہ کا صدر بھی اس معاملے پر کانگریس قیادت کو جواب دینے کے لیے کافی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ عام انتخابات سے قبل تجارتی پالیسی، کسانوں کے مفادات اور عالمی اقتصادی شراکت داری جیسے موضوعات قومی سیاست کے مرکز میں رہنے کی توقع ہے۔ حکومت ان معاہدوں کو اقتصادی ترقی اور عالمی انضمام کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے، جبکہ اپوزیشن ان کے ممکنہ اثرات پر سوالات اٹھا رہی ہے۔یوں بین الاقوامی تجارتی معاہدوں کا معاملہ اب صرف معاشی نہیں بلکہ ایک بڑا سیاسی ایشو بنتا جا رہا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں مزید گرما گرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔