لاکھوں روپے منجمد ، ایک وقت 10سے 30خچر اکاونٹ فراہم کئے جاتے ہیں /سیکورٹی ایجنسیاں
سرینگر/ /اے پی آئی// جموں وکشمیر میں خچر نام کے 8ہزار سے زیادہ کھاتوں کی نشاندہی اور لاکھوں روپے منی لانڈرنگ کے پیچیدہ نظام کا انکشاف ۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق سیکورٹی ایجنسیوں نے جموں وکشمیر میں تیزی سے پھیلے خچر اکاونٹس کے ایک وسیع نیٹ ورک کا پردہ فعاش کیا جو عالمی آن لائن دھوکہ دہی کے نیٹ ورکس کی مالی بنیاد کے طور پر کام کررہا تھا ۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ان کھاتوں کے ذریعے منتقل کی جانے والی رقوم علیحدگی پسند اور ملک مخالف سرگرمیوں میں استعمال ہوسکتی ہے ۔ حکام کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران خطے میں سرگرم 8ہزار سے زائد خچر اکاونٹس کی نشاندہی ہوئی اور ان میں موجود رقومات کو منجمد کیا گیا جس سے منی لانڈرنگ کے ایک منظم اور پیچیدہ نظام کا انکشاف ہوا ۔ ایجنسیوں کے مطابق ان کھاتوں کو سائبر کرائم کی زنجیر کی کمزور مگر نہایت اہم کڑی قرار دیا اور کہا کہ ان کے بغیر چرائی گئی رقم کو ناقابل سراغ کریپٹو کرنسی میں تبدیل کرنا ممکن نہیں ۔ مرکزی سیکورٹی ایجنسیوں نے جموں وکشمیر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کہا کہ وہ بینکوں کے ساتھ ساتھ مشاورت کر کے خچر کھاتوں کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پائیں اور ان درمیانی کرداروں کی نشاندہی کریں جنہیں عام طور پر ’’میولرز ‘‘ کہا جاتا ہے اور جو اس قسم کی مالی دھوکہ دہی میں سہولیت کاری کرتے ہیں۔ این آئی اے کی جانب سے جموں وکشمیر میں غیر قانونی رقوم کے بہائو کے خلاف کریک ڈاون کے بعد ملک مختلف عناصر نے مبینہ طور پر ڈیجیٹل حوالہ کا نیا ماڈل اختیار کیا جس میں خچر کھاتا ہولڈرس یا میولرز کو ملنے والا کمیشن ملک دشمن سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ میولر عموماً وہ شخص ہوتا ہے جو متاثرین سے رابطہ کرے یا جالی رابطہ بھیجے بلکہ اس کا کردار خفیہ مگر نہایت اہم ہوتا ہے ۔وہ ایسے بینک کھاتوں کی فراہمی اور دیکھ بال کو یقینی بنانے کے ذریعے دھوکہ باز اپنی شناخت چھپاتے ہوئے رقم وصول اور منتقل کرتے ہیں۔ ایک دھوکہ باز کو بیک وقت 10سے 30خچر کھاتے فراہم کئے جاتے ہیں ، باز صورتوں میں فرضی کمپنیوں کے نام پر بینک کھاتے کھولے جاتے ہیں جن کے ذریعے ایک ہی دن میں 40لاکھ روپے تک کی بڑی لین دین کی جاتی ہے تاکہ فوری طور پر شبہ نہ ہو ۔ مرکزی سیکورٹی ایجنسیوں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واضح کیا ہے کہ اگر چہ خچر کھاتے ہولڈرز خود دھوکہ دہی کی منصوبہ بندی نہیں کرتے یا متاثرین سے بات نہیں کرتے تاہم وہ منی لانڈرنگ کے فعال سہولیت کار ہوتے ہیں۔ اپنی بینک تفصیلات فراہم کر کے اور کمیشن وصول کر کے وہ بین الاقوامی جرائم کیلئے مالی ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں۔ جموں وکشمیر پولیس نے وادی میں وی پی این کے استعمال پر پہلے ہی پابندی عائد کر رکھی ہے کیونکہ یہ دہشت گردوں اور علیحدگی پسند عناصر کیلئے شناخت سے بچنے کا آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے ۔ ایک سینئر پولیس آفیسر کے مطابق پورا دھوکہ دہی کا نظام ان ہی کھاتوں پر منحصر ہیں ۔










