پلوامہ میں کان کنی لائسنسوں کا تعطل ختم کرنے کی کوشش

پلوامہ میں کان کنی لائسنسوں کا تعطل ختم کرنے کی کوشش

6 سال بعد مائننگ کمیٹی قائم، متاثرہ کان کنی مالکان کو عبوری ریلیف

سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر حکومت نے ضلع پلوامہ میں پتھر کی کان کنی کے لائسنسوں سے متعلق گزشتہ چھ برسوں سے جاری تعطل کو ختم کرنے کی سمت اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی کثیر محکمانہ مائننگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ضلع میں دس اسٹون کواری بیلٹس کوکان کنی کلسٹرز قرار دیا گیا تھا، تاہم سابقہ کواری ہولڈرز ماحولیاتی منظوری اور دیگر لازمی اجازت نامے حاصل کرنے میں ناکام رہے، جس کے باعث لائسنسوں کا اجرا ممکن نہ ہو سکا۔یو این ایس کے مطابق حکومتی جواب میں بتایا گیا کہ ان دس کلسٹرز میں لیتہ پورہ، لدھو، مندک پال،کھریو اور ویون سمیت کئی علاقے شامل تھے جو پامپور حلقہ انتخاب میں واقع ہیں، تاہم بعد ازاں ان میں سے 3کلسٹرز کو واپس لے لیا گیا۔ محکمہ مائننگ کے مطابق درخواست گزاروں کو متعدد بار ہدایت دی گئی کہ وہ منظور شدہ مائننگ پلان، ماحولیاتی کلیئرنس اور متعلقہ اداروں سے ’کنسنٹ ٹو آپریٹ‘ حاصل کریں، لیکن اب تک کوئی بھی درخواست گزار ان شرائط کو پورا نہیں کر سکا۔محکمے نے واضح کیا کہ مطلوبہ این او سیز اور قانونی منظوریوں کی عدم دستیابی کے سبب کواری لائسنس جاری نہیں کیے جا سکے، جس کے نتیجے میں مقامی کواری مالکان اور ان سے وابستہ سینکڑوں مزدوروں کا روزگار شدید متاثر ہوا ہے۔صورتحال کے پیش نظر حکومت نے عبوری ریلیف کے طور پرکان کنی مالکان کو پرانے مقامات سے ڈھیلا، پھسلا ہوا یا موسم سے متاثر میٹریل ٹھانے کی اجازت دی ہے تاکہ اسے سرکاری تعمیراتی کاموں میں استعمال کیا جا سکے اور متاثرین کو جزوی ریلیف فراہم ہو۔ حکومتی جواب میں بتایا گیا کہ ماضی میں بھی اس نوعیت کی اجازت دی گئی تھی، جس کے تحت بوہ آونتی پورہ کواری کلسٹر کے مالکان کو 34,650 میٹرک ٹن پتھر اٹھانے کی اجازت فراہم کی گئی تھی۔مسئلے کے مستقل حل کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی مختلف متعلقہ محکموں کے ساتھ مشاورت کے بعد روایتی کواری سرگرمیوں کی بحالی کے لیے جامع طریقہ کار وضع کرے گی۔ محکمہ مائننگ کے مطابق کمیٹی متعدد اجلاس منعقد کر چکی ہے اور جلد اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرے گی۔حکومت کا مزیدکہنا ہے کہ کمیٹی کی عبوری رپورٹ متعلقہ اراکین اسمبلی کے ساتھ بھی شیئر کی جائے گی، جس کے بعد حتمی سفارشات کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس دوران حکومت ڈھیلا مٹیریل اٹھانے کی عبوری اجازت جاری رکھنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ متاثرہ کواری ہولڈرز اور مزدوروں کو وقتی سہارا فراہم کیا جا سکے۔