یوں تو ہر فرد کی بہت ساری نفسیاتی، معاشرتی، معاشی اور مذہبی ضروریات ہوتی ہیں جن کی تشکیل اور تکمیل کے لیے وہ ہمیشہ کوشاں رہتا ہے۔ بعض اوقات ان خواہشات کا قتل بہت جلد ہو جاتا ہے اور کبھی کبھی ان کی تکمیل دیر سے ہوتی ہے۔ سچ پوچھا جائے تو فرسٹریشن کا جنم یہیں سے ہوتا ہے۔ عموماً مردوں کے برعکس عورتوں اور بچوں میں اس کا تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس فرسٹریشن کی حالت میں وہ ایسے کام کرنے لگتے ہیں یا ایسا رویہ اپنا لیتے ہیں جس سے اپنی زندگی میں مشکلات پیدا کر لیتے ہیں۔ بعض اوقات فرد کی راہ میں ایسے عقائد اور رسم و رواج حائل ہوتے ہیں کہ ان حالات میں اسے اپنی خواہشات کا گلا گھونٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ ہمارے سماجی تقاضے اور تعلقات بھی ہمیں فرسٹریشن کا شکار کرتے ہیں۔
عصرِ مادیت پرستی کی ایسی دوڑ لگی ہے کہ جب نام نہاد خواہشات اور ارمانوں پر چوٹ لگتی ہے تو آج کے دور کا انسان فرسٹریشن کا شکار ہو کر مرنے مارنے پر اتر آتا ہے یا پھر فرار کی راہ اختیار کر کے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو سراسر بھول جاتا ہے۔ یہی وجہ ہوتی ہے کہ اس افراتفری کی نظر ایک فرد اپنی تمام اچھائیاں کر دیتا ہے اور دھیرے دھیرے وہ سماج اور سوسائٹی سے بھی کٹ کر رہ جاتا ہے۔










