جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے، ایران ضمانت دینے کو تیار

نئی دہلی/یو این آئی//ایران اس بات کی ضمانت دینے کیلئے تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، تاہم وہ امریکہ سے یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ اس کے پرامن جوہری حقوق محفوظ رہیں گے ۔ یہ بات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہی۔ ایران نے 9 فروری کو عندیہ دیا تھا کہ اگر اس پر عائد تمام پابندیاں ہٹا دی جائیں تو وہ 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کو کم کرنے پر آمادہ ہے ۔ ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا کہ اگر تمام پابندیاں ختم کر ی جائیں تو تہران 60 فیصد افزودگی کو کم کرنے پر غور کر سکتا ہے ۔ یہ بات ایران کی مہر خبر رساں ایجنسی (ایم این اے ) کے حوالے سے سامنے آئی۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی (ارنا) کے مطابق تہران اس بات کی ضمانت دینے کیلئے تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہیں کرے گا، اور ساتھ ہی دوسری جانب کو بھی ایران کے پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے حق کی ضمانت دینا ہوگی، جس میں بجلی کی پیداوار، ادویات سازی، زراعت اور دیگر شعبوں میں استعمال شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں جانب نیک نیتی موجود ہو تو ایسی یقین دہانیاں “ممکن اور قابلِ حصول” ہیں، اور مزید کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ سفارتی حل کیلئے پوری طرح پرعزم ہے۔
عراقچی نے کہا، “جوہری مسئلے کا سفارتی حل کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے “، اور زور دے کر کہا کہ ٹیکنالوجی اور ترقی کو بمباری اور فوجی دھمکیوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ آر ٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عراقچی نے کہا، “ہمیں اب بھی امریکیوں پر مکمل اعتماد نہیں ہے ۔ گزشتہ جون میں ہم مذاکرات کے بیچ میں تھے جب انہوں نے ہم پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ہمارے لیے بہت برا تجربہ تھا۔” عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کا یورینیم افزودگی پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کیلئے ہے اور ملک کے خودمختار حقوق پر مبنی ہے ۔