کہا کہ یہ قدم دُور دراز اور پسماندہ علاقوں میں عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنائے گا
جموں//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرتے ہوئے دُور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تعینات ملازمین کو مراعات دینے کا قابلِ ستائش اعلان کیا ہے ۔ وزیرموصوفہ نے یہ بات آج ایوان میں قانون ساز جاوید احمد مرچال کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ اُنہوں نے اُجاگر کیا کہ یہ منفرد قدم دُور دراز علاقوں میں بالخصوص صحت ، تعلیم اور دیگر اہم شعبوں میں عوامی خدمات کی فراہمی کو ہموار کرے گا ۔ وزیر نے ایس ڈی ایچ ٹنگڈار کرناہ میں طبی اور پیرا میڈیکل عملے کی کمی کو دور کرنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ صحت و طبی تعلیم محکمہ نے دُور دراز اورپسماندہ علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے حال ہی میں 480 میڈیکل اَفسران اَسامیوں کو جے کے پی ایس سی کو بھرتی کیلئے بھیجا ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اِنتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد نئے منتخب ڈاکٹروں کو دُور دراز ،کم سہولیات والے علاقوں اور عملے کی کمی کا سامنا کرنے والے صحت اداروں بشمول ایس ڈی ایچ ٹنگڈار کرناہ اور دیگر سرحدی علاقوں میں ضرورت اور موجودہ پالیسی کے مطابق تعینات کیا جائے گا۔ اُنہوںنے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ فیملی ویلفیئر ، میٹر نٹی اینڈ چائیلڈ ہیلتھ ( ایم سی ایچ ) اور امیونائزیشن کی ڈائریکٹوریٹ سے 292 غیر گزیٹیڈ /پیرا میڈیکل زُمروں کی خالی اَسامیوں کو جے کے ایس ایس بی کو بھرتی کیلئے بھیجا گیا ہے اور مناسب اُمیدواروں کے انتخاب کیلئے اشتہار دیا جا چکا ہے ۔ وزیر موصوفہ نے مزید کہا کہ ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز کشمیر سے متعلق 802 غیر گزیٹیڈ ، ایم ٹی ایس کی خالی اَسامیاں اور صفائی کاروں کے عہدے محکمہ میں جانچ کے تحت ہیں تا کہ جے کے ایس ایس بی کو بھیجے جائیں ۔ اُنہوں نے ایوان کو یہ بھی مطلع کیا کہ سال 2024 میں دو ڈاکٹروں کو میڈیکل آفیسر کے طور پر تقرر کیا گیا تھا اور انہیں این ٹی پی ایچ سی حاجی نار اور این ٹی پی ایچ سی گنڈیشور میں پوسٹ کیا گیا تھا ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ دونوں ڈاکٹر ڈیوٹی جوائن کرنے میں ناکام رہے اور ان کی تقرری کے احکامات منسوخ کردئیے گئے ہیں اور خدمات ختم کر دی گئی ہیں ۔ وزیر صحت و طبی تعلیم نے یہ بھی کہا کہ این ایچ ایم کے رہنما خطوط کے مطابق کرناہ حلقہ کے سب سینٹروں میں عام طور پر منظور شدہ عہدوں کے مقابل عملہ تعینات کیا جاتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ چند این ایچ ایم عملے کے ارکان کو استثنائی اور جائز وجوہات جیسے طبی وجوہات یا اِنتظامی ضروریات کی بنیاد پر بغیر سروس کی فراہمی پر منفی اثر ڈالے عارضی طور پر دوبارہ ایڈجسٹ /ری لوکیٹ کیا گیا ہے ۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال کرناہ میں تعینات این ایچ ایم عملہ زیادہ تر موجود ہے ۔ اِس ضمن میں قانون ساز نذیر احمد خان ( گریزی ) نے ضمنی سوال اُٹھایا ۔










