حکومت تمام دور دراز بستیوں کو بجلی فراہم کرنے کیلئے پُر عزم ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ
جموں// وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی، دیہات کی توسیع اور نئی بستیاں بننے کے ساتھ یہ عمل وقت طلب ہے لیکن حکومت ہر گھر تک بجلی پہنچانے اور بجلی فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا ِ’’آبادی بڑھ رہی ہے، دیہات پھیل رہے ہیں اور نئے مکانات بنائے جا رہے ہیں۔انہیں بجلی فراہم کرنا ایک دِن کا کام نہیں ہے۔ ڈِی پی آرز تیار کرنے میں وقت لگتا ہے۔ کوئی بھی گاؤں ایسا نہیں ہے جو بالکل غیر بجلی یافتہ ہو۔ تاہم کچھ دیہات میں کچھ بستیاں یا حصے بجلی سے محروم رہتے ہیں اور انہیں بجلی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘وزیر اعلیٰ، جن کے پاس بجلی کا قلمدان بھی ہیں، رُکن اسمبلی بلاور ستیش کمار شرما کی طرف سے اَپنے حلقہ اِنتخاب میں غیر بجلی شدہ بستیوں کے بارے میں اُٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔اُنہوں نے کہا کہ بجلی فراہم کرنے کا کام مرکزی طور پر مالی اِمداد والے منصوبوں کے ساتھ ساتھ یو ٹی کیپکس پروگرام کے تحت بھی جاری ہے۔اُنہوں نے کہا،’’یہ ایک جاری عمل ہے جن علاقوں کے نام رکن اسمبلی نے لئے ہیں، ان کے لئے بھی ڈی پی آر تیار کئے جا رہے ہیں۔ ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ کوئی بھی گھر بغیر بجلی کے نہ رہے لیکن یہ عمل جاری رہے گا۔‘‘وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ بلاور علاقے میں پنچایت مادون اوردیہوٹا کی کچھ دیہی اور دُور دراز بستیاں/موڑہ جات جیسے تھنگنن، کنوڈی اور ہنوک ابھی بجلی سے محروم یا جزوی طور پر بجلی یافتہ ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’دُور دراز علاقوں میں بستیاں بڑھتی رہتی ہیں جس کے لئے ایل ٹی نیٹ ورک کو وقفے وقفے سے توسیع کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جے پی ڈِی سی ایل الیکٹرک ڈویژن کٹھوعہ کے تحت یہ غیر بجلی شدہ گھر ڈی اے۔جے جی یو اے سکیم کے تحت بجلی فراہم کرنے کے لئے تجویز کئے گئے تھے۔ سکیم کے تحت زیادہ تر غیر بجلی شدہ گھروں کو بجلی فراہم کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے اور اسے جے پی ڈِی سی ایل پروجیکٹ ڈویژنجموں کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے۔
تاہم کچھ بستیاں جیسے تھنگنن، کنوڈی اور ہنوک کام کے اخراجات میں اضافے کے سبب ڈی اے۔جے جی یو اے سکیم کے حتمی منظور شدہ ڈِی پی آر سے خارج کر دیا گیا تھا۔وزیر اعلیٰ نے سوال ایک اور حصے کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جموںوکشمیر کے جموں ڈویژن کے تمام دیہاتوں کو یا تو آن گرڈ یا آف گرڈ موڈ کے ذریعے بجلی فراہم کی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا،’’مجموعی طور پر کوئی بھی گاؤں بجلی سے محروم نہیں ہے۔ تاہم، کچھ بستیاں/موڑہ/گھر جو حال ہی میں سامنے آئے ہیں وہ اب بھی بجلی سے محروم ہیں۔ مرکزی معاونت والی سکیم ڈی اے ۔ جے جی یو اے اور یوٹی کیپکس کے تحت ان غیر برقی یا جزوی طور پر بجلی سے چلنے والی بستیوں کو بجلی فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں،۔‘‘نہوں نے مزید کہا کہ پنچایت مدون اوردیہوٹا کی بستیاں جیسے تھنگنن، کنوڈی اور ہنوک کے ڈِی پی آر اس وقت تیار کئے جا رہے ہیں۔










