موجودہ طبی سہولیات کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔ وزیر صحت

اساتذہ کی اسامیوں سے پابندی ہٹانا حکومت کے زیر غورہے ۔ وزیر تعلیم

جموں//وزیر برائے سکینہ اِیتو نے ایوان کو بتایا کہ جموں و کشمیر کے سکولوں میں اَساتذہ کی کمی کو دُور کرنے کے لئے اساتذہ کی اَسامیوں سے پابندی ہٹانے کا معاملہ حکومت کے زیرِ غور ہے۔وزیر موصوفہ نے یہ بات آج ایوان میں تدریسی عملے کی کمی سے متعلق رُکن اسمبلی پون کمار گپتا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتائی۔ اُنہوںنے کہا کہ 2018 میں سٹیٹ ایڈمنسٹریٹیو کونسل ( ایس اے سی ) کے فیصلے کے تحت ٹیچر پوسٹوں پر پابندی لگائی گئی تھی اور حکومت ان پوسٹوں کی ڈی فریزنگ پر فعال طور پر کام کر رہی ہے تا کہ محکمے میں نئی بھرتیاں جلد ممکن ہو سکیں ۔ وزیر تعلیم نے اسمبلی کو بتایا کہ 27 مضامین میں لیکچررز کی 594 پوسٹیں جے کے پی ایس سی کو بھیجی جا چکی ہیں اس کے علاوہ 727 نان ٹیچنگ اور 43 ایم ٹی ایس کی پوسٹیں فائنانس ڈیپارٹمنٹ کو بحالی اورمنظوری کیلئے بھیجی گئی ہیں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اساتذہ کی خالی اَسامیوں کو پُر کرنے کے حوالے سے تمام اساتذہ کی اَسامیاں عبوری مدت کے لئے فریز ہیں تاکہ ایس ایس اے کے تحت مقرر شدہ ان اساتذہ کی تنخواہوں کے مسائل کو حل کیا جا سکے جو آر آر ای ٹیز ، ٹیچر گریڈ سوم/دوم میں منتقل ہو رہے ہیں۔وزیر موصوفہ نے یہ بھی بتایا کہ 2025-26 میں 258 سینئر لیکچرروںکو اِنچارج پرنسپلوںکے طور پر ترقی دی گئی ہے۔ اِس کے علاوہ 56 پی جی ماسٹرز /ٹیچرز کو انچارج لیکچررز بنایا گیا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ 551 پی جی ماسٹروں /ٹیچروں کو انچارج ہیڈ ماسٹرز بنایا گیا ہے اور محکمے میں 500 سے زائد اضافی ماسٹروں کو ہیڈ ماسٹرز بنانے کی تجویز زیر عمل ہے ۔
وزیر نے کہا کہ 80 ہیڈ ماسٹرز کو انچارج زونل ایجوکیشن افسران کے طور پر ترقی دی گئی ہے ۔ نان گزٹیڈ کیڈر میں 1170 ٹیچروں کو 2025-26 میں ماسٹروںکے طور پر ترقی دی گئی ہے ۔ اُنہوں نے ضلع اودھمپور کے حوالے سے بتایا کہ ضلع میں 43 میں سے 42 پرنسپل پوزیشنز ، 11 میں سے 8 زیڈ ای اوز اور 538 میں سے 243 لیکچرروںکی پوسٹیں پُر ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ سی آر سیز کی تعیناتی اور عملے کی ریشنلائزیشن کا عمل جاری ہے تا کہ جموں و کشمیر بھر کے سکولوں میں عملے کی کمی دور کی جا سکے ۔ وزیر تعلیم نے زور دیا کہ ان اقدامات سے تعلیمی نتائج بہتر ہوئے ہیں جو جموں ڈویژن کے 10 ویں اور 12 ویں جماعت کے بورڈ نتایج میں گزشتہ برسوں سے بہتر کارکردگی کی صورت میں ظاہر ہوا ہے ۔ اِس ضمن میں قانون ساز رنبیر سنگھ پٹھانیہ نے ضمنی سوال اُٹھایا ۔