اچھہ بل علاقے کو موجودہ واٹر سپلائی سکیموں سے مناسب پینے کا پانی فراہم کیا جا رہا ہے ۔ جاوید رانا

اننت ناگ میں سیلاب سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کیلئے دو جہتی حکمت عملی اَپنائی گئی۔ جاوید رانا

جموں//حکومت نے اننت ناگ ضلع میں سیلاب کے خطرات کو کم کرنے اور مجموعی طور پر سیلاب سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے قلیل مدتی اور طویل مدتی اَقدامات پر مشتمل دو جہتی حکمت عملی اَپنائی ہے۔وزیربرائے جل شکتی جاوید احمد رانا نے یہ بات آج ایوان میں رُکن اسمبلی پیرزادہ محمد سعید کی جانب سے ممبر اسمبلی نظام الدین بٹ کے اُٹھائے گئے سوال کے جواب میں بتائی۔وزیر موصوف نے کہا کہ حالیہ اقدامات سے فلڈ مینجمنٹ کے بنیادی ڈھانچے کو نمایاں طور پر مضبوط کیا گیا ہے اور ضلع کی سیلاب سے نمٹنے کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے۔اُنہوں نے ایوان کوبتایاکیا کہ اننت ناگ ضلع میں 195 سیلاب سے متاثرہ دیہات ہیں اور جان و مال اور زرعی اثاثوں کے تحفظ کے لئے مستقل حفاظتی اور تدارکی اَقدامات کے ذریعے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔اُنہوں نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اننت ناگ ضلع کے حساس علاقوں میں فلڈ مینجمنٹ بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے پی ایم ڈِی پی مرحلہ دوم کے تحت مستقل سیلاب سے بچاؤ کے کام شروع کئے گئے ہیں۔وزیر جل شکتی نے بتایا کہ 10.07 کروڑ روپے کی لاگت سے اہم مقامات پر 873 میٹر لمبائی تک کناروں کے تحفظ کے کاموں کو اَنجام دیا گیا ہے جبکہ 18.97 کروڑ روپے کی لاگت سے 9,168 میٹر لمبے سیلاب زدہ حصوں میں بنڈوں کی اُونچائی بڑھائی گئی ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ قلیل مدتی اَقدامات کی توجہ حساس علاقوں میں نقصانات کو کم کرنے پر مرکوز ہیں۔ ان اقدامات میں دریا کے بنڈوں کی حفاظتی جانچ کے دوران نشاندہی کئے گئے حساس مقامات کی عارضی تحفظاتی کاموں کے ذریعے مرمت جیسے بنڈوں پر اِی سی بیگز رکھنا شامل ہے۔وزیر جاوید احمد رانا نے مزید بتایا کہ سیلاب کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی حساس مقامات پر پیشگی طور پر اِی سی بیگز ذخیرہ کئے جاتے ہیں اور اَفرادی قوت و مشینری کو مکمل تیاری کی حالت میں رکھا جاتا ہے۔اُنہوں نے اننت ناگ ضلع میں آبپاشی منصوبوں کے بارے میں بتایا کہ ضلع میں کل 64 آبپاشی سکیمیں ہیں جن میں 47 گریویٹی سکیمیں، 15 لفٹ آبپاشی سکیمیں (ایل آئی ایس) اور 2 ٹیوب ویل آبپاشی سکیمیں (ٹی ڈبلیو آئی ایس ) شامل ہیں۔وزیر موصوف نے کہا کہ اِن سکیموں کے تحت 22,742 ہیکٹر قابلِ کاشت رقبہ آتا ہے جس کے مقابلے میں 18,667 ہیکٹر آبپاشی کی صلاحیت پیدا کی جا چکی ہے جبکہ اِس وقت 18,481 ہیکٹر رقبہ زیرِ اِستعمال ہے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ اے آئی بی پی ۔پی ایم کے ایس وائی کے تحت پہلے 19 آبپاشی سکیمیں شروع کی گئی تھیں جن میں سے سات مکمل ہو چکی ہیں جبکہ باقی تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔مزید برآں، یو ٹی کیپٹل اخراجات کے تحت سات آبپاشی سکیمیں شروع کی گئی ہیںجن میں سے دو مکمل ہو چکی ہیں جبکہ باقی پر کام جاری ہے۔اِس ضمن میں رُکن قانون ساز اسمبلی الطاف احمد کلو نے ضمنی سوالات اُٹھائے ۔