modi3

وزیر اعظم نریندر مودی کا ملائیشیا کا سرکاری دورہ،

انسداد دہشت گردی، انٹیلی جنس اور بحری سلامتی میں بھارت،ملیشیا تعاون مزید مضبوط ہوگا// وزیر اعظم نریندر مودی

سرینگر// یو این ایس// وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشت گردی کے خلاف بھارت کے مؤقف کو واضح، مضبوط اور غیر مبہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی پر بھارت کی پالیسی میں نہ کوئی دوہرا معیار ہے اور نہ ہی کسی قسم کے سمجھوتے کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی آج عالمی امن، استحکام اور ترقی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے اور اس کے خلاف متحد، مضبوط اور غیر متزلزل مؤقف اپنانا ناگزیر ہے۔یو این ایس کے مطابق کوالالمپور میں ملیشیا کے وزیر اعظم داتو سری انور ابراہیم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے اعلان کیا کہ بھارت اور ملیشیا انسداد دہشت گردی، انٹیلیجنس کے تبادلے اور بحری سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دیں گے، تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیر اعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا’’ہم امن کی ہر کوشش کی حمایت کرتے ہیں، لیکن دہشت گردی کے معاملے پر بھارت کا پیغام بالکل صاف ہے ۔ نہ دوہرا معیار، نہ کوئی سمجھوتہ۔‘‘وزیر اعظم مودی نے کہا کہ دونوں بحری ہمسایہ ممالک کے درمیان ریئل ٹائم انٹیلیجنس شیئرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد، شدت پسندی کے خاتمے اور سائبر دہشت گردی جیسے نئے ابھرتے خطرات سے نمٹنے کے لیے قریبی تال میل کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سیکیورٹی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ہی اندرونی و علاقائی سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بحری سلامتی کے شعبے میں تعاون کو وسعت دے کر سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ، عالمی تجارت کے استحکام اور قزاقی، اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں جیسے غیر روایتی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹا جائے گا۔بھارت اور ملیشیا کے تعلقات کو خصوصی اور تاریخی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ دونوں ممالک صدیوں پر محیط تہذیبی، ثقافتی اور عوامی روابط سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملیشیا میں مقیم تقریباً 30 لاکھ بھارتی نڑاد افراد دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط اور متحرک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں توانائی، بنیادی ڈھانچے، مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل معیشت، بایو ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دفاعی تعاون کو مزید جامع بنایا جائے گا جبکہ سیمی کنڈکٹر، صحت، خوراک سلامتی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں شراکت داری کو نئی رفتار دی جائے گی۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم مودی نے انڈو پیسفک خطے کو عالمی ترقی کا نیا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت، آسیان کے ساتھ مل کر پورے خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے آسیان مرکزیت کو بھارت کی خارجہ پالیسی کی بنیادی ترجیح قرار دیا۔وزیر اعظم مودی نے ملیشیا میں مقیم بھارتی نڑاد برادری کو بھارت۔ملیشیا تعلقات کی اصل طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سماجی سلامتی معاہدہ، توسیع شدہ ای-ویزا سہولت اور یو پی آئی ڈیجیٹل ادائیگی نظام جیسے اقدامات نے عوامی سطح پر روابط کو مزید مضبوط بنایا ہے۔قبل ازیں، وزیر اعظم نریندر مودی کو پتراجایا میں واقع پردانا پترا کمپلیکس میں باضابطہ سرکاری استقبالیہ دیا گیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان وفد سطح کی بات چیت ہوئی، جس میں دفاع، سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ بھارت اور ملیشیا کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر سیکیورٹی چیلنجز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ بات اتوار کو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں وزیر اعظم داتو سری انور ابراہیم کے ساتھ وفد سطح کی بات چیت اور مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو متحد، مستقل اور بے لاگ مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم کے مطابق بھارت ہر اس کوشش کی حمایت کرتا ہے جو امن کو فروغ دے، تاہم دہشت گردی کے معاملے میں بھارت کا پیغام بالکل واضح ہے کہ نہ کوئی رعایت دی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی صورت سمجھوتہ ممکن ہے۔وزیر اعظم مودی نے بھارت اور ملائیشیا کے تعلقات کو تاریخی، تہذیبی اور عوامی روابط پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک صدیوں سے بحری پڑوسی رہے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ گہرے ثقافتی و سماجی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا میں مقیم تقریباً 30 لاکھ بھارتی نڑاد افراد دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط اور زندہ پل کی حیثیت رکھتے ہیں، جو دوطرفہ تعلقات کو انسانی بنیاد فراہم کرتے ہیں اور شراکت داری کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں نے بھارت۔ملائیشیا جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور دفاع، سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل معیشت، توانائی، صحت، تعلیم، زراعت، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں بنیادی ڈھانچے، مینوفیکچرنگ، آئی ٹی، بایو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات کے میدان میں دوطرفہ تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جسے آئندہ دنوں میں مزید رفتار دی جائے گی۔یو این ایس کے مطابق سیکیورٹی امور پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت اور ملائیشیا انسداد دہشت گردی، انٹیلیجنس شیئرنگ، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف کارروائی، اور بحری سلامتی کے شعبوں میں قریبی تال میل کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انڈو پیسفک خطہ عالمی ترقی کا نیا مرکز بن رہا ہے اور اس خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے بھارت آسیان ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے اور آسیان مرکزیت کو اپنی خارجہ پالیسی میں کلیدی حیثیت دیتا ہے۔دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون کو دوطرفہ تعلقات کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی تربیت، عملہ جاتی تبادلوں اور دفاعی صنعت میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر باقاعدہ بحری مشقوں اور بحری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، تاکہ تجارتی سرگرمیوں اور علاقائی استحکام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔اقتصادی شعبے میں دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، سپلائی چین کے استحکام، سیمی کنڈکٹرز، قابل تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شراکت داری بڑھانے پر اتفاق کیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی نظام، ای گورننس اور سائبر سیکیورٹی میں تعاون عوام اور کاروباری طبقے کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا اور دوطرفہ معاشی تعلقات کو مزید مستحکم بنائے گا۔قبل ازیں وزیر اعظم نریندر مودی کو پتراجایا میں واقع پردانا پترا کمپلیکس میں باضابطہ سرکاری استقبالیہ دیا گیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تفصیلی مذاکرات ہوئے جن میں علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نے ملائیشیا کی قیادت اور عوام کا پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ بھارت۔ملائیشیا تعلقات کو ایک نئی بلندی تک لے جانے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔