اندرونی سلامتی کے چیلنج پر مرکزی حکومت کا سخت مؤقف

اندرونی سلامتی کے چیلنج پر مرکزی حکومت کا سخت مؤقف

سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائیوں سے نکسل پسپا،31 مارچ تک مکمل خاتمے کا دعویٰ// وزیر داخلہ امیت شاہ

سرینگر// یو این ایس// مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) کے خلاف اختیار کی گئی سکیورٹی مرکوز حکمتِ عملی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور نکسلوں کے مالی نیٹ ورک پر کاری ضرب کے نتیجے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اور 31 مارچ تک نکسل واد کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق امیت شاہ نے یہ بات چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی سکیورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کے بعد کہی۔ یہ اجلاس مرکز کی جانب سے نکسل تحریک کے خاتمے کے لیے مقررہ ڈیڈ لائن سے چند ہفتے قبل منعقد ہوا۔مرکزی وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اجلاس کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا’’آج رائے پور میں چھتیس گڑھ حکومت اور متعلقہ افسران کے ساتھ اینٹی نکسل آپریشنز کا جائزہ لیا۔ سکیورٹی پر مبنی حکمتِ عملی، بنیادی ڈھانچے کی توسیع، نکسلوں کے مالی نیٹ ورک کو نشانہ بنانے اور سرنڈر پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ نکسل واد کو 31 مارچ سے پہلے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔‘‘ اجلاس میں چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائی، نائب وزیر اعلیٰ وجے شرما، مرکزی داخلہ سکریٹری، انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر اور وزارت داخلہ میں خصوصی سکریٹری (اندرونی سلامتی) نے شرکت کی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اجلاس نوا رائے پور اٹل نگر کے ایک ہوٹل میں منعقد ہوا۔اس کے علاوہ سی آر پی ایف، بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرلز کے ساتھ ساتھ چھتیس گڑھ، اڑیسہ، مہاراشٹر، جھارکھنڈ اور تلنگانہ کے ڈی جی پیز اور کئی سینئر افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔واضح رہے کہ چھتیس گڑھ کا بستر علاقہ، جو سات اضلاع پر مشتمل ہے اور مہاراشٹر، تلنگانہ، آندھرا پردیش اور اڑیسہ سے متصل ہے، طویل عرصے سے نکسلوں کا مضبوط گڑھ مانا جاتا رہا ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں یہاں اینٹی نکسل کارروائیوں میں تیزی آئی ہے، جس کے نتیجے میں انتہا پسند تحریک کو شدید کمزوری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔پولیس کے مطابق جنوری 2024 کے بعد سے اب تک چھتیس گڑھ میں مختلف جھڑپوں کے دوران 500 سے زائد نکسل ہلاک کیے جا چکے ہیں، جن میں سی پی آئی (ماؤسٹ) کے جنرل سکریٹری نمبالا کیشوا راؤ عرف بساوراجو جیسے سرکردہ کمانڈر بھی شامل ہیں۔ اسی عرصے میں تقریباً 1,900 نکسل گرفتار جبکہ 2,500 سے زائد نے خودسپردگی اختیار کی ہے۔