اسکولوں کیلئے4 برسوں میں 9,542 کروڑ روپے منظور
سرینگر// یو این ایس// مرکزی حکومت نے سمگر شکشا اسکیم کے تحت گزشتہ چار مالی برسوں، بشمول رواں مالی سال، کے دوران جموں و کشمیر کے لیے مجموعی طور پر 9,542.55 کروڑ روپے منظور کیے ہیں۔ اس بارے میں بدھ کے روز راجیہ سبھا کو ا?گاہ کیا گیا۔یواین ایس کے مطابق ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر مملکت برائے تعلیم ینت چودھری نے بتایا کہ منظور شدہ رقم میں سے 2,351.56 کروڑ روپے مرکز کی جانب سے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ اب تک 3,777.03 کروڑ روپے کے اخراجات رپورٹ کیے گئے ہیں۔ایوان میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے لیے مجموعی طور پر (یو ٹی کے حصے سمیت) مالی سال 2022-23میں2,529.42 کروڑ روپے، 2023-24میں 2,492.49 کروڑ روپے، 2024-25میں 2,194.80 کروڑ روپے اور 2025-26میں 2,325.84 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔مرکزی حکومت کے حصے کے طور پر 2022-23میں 1,650.59 کروڑ روپے، 2023-24میں 1,736.49 کروڑ روپے، 2024-25میں 1,721.60 کروڑ روپے اور 2025-26میں 1,435.99 کروڑ روپیی منظوری دی گئی۔ ان منظوریوں کے مقابلے میں بالترتیب 364.97 کروڑ، 865.43 کروڑ، 823.49 کروڑ اور 297.67 کروڑ روپیجاری کیے گئے، جس میں گزشتہ برسوں کی غیر خرچ شدہ رقم کی ایڈجسٹمنٹ بھی شامل ہے۔سمگر شکشا اسکیم کے تحت اخراجات، جن میں جموں و کشمیر کا حصہ بھی شامل ہے، 2022-23میں 1,275.28 کروڑ روپے، 2023-24میں 1,106.56 کروڑ روپے اور 2024-25میں 935.20 کروڑ روپیرپورٹ کیے گئے۔ رواں مالی سال 2025-26میں جنوری تک 459.99 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔یو این ایس کے مطابق وزارت نے واضح کیا کہ سمگر شکشا کے تحت مرکزی حصے کی رقم ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کوچار قسطوں میں جاری کی جاتی ہے، جو محکمہ اخراجات کی ہدایات کے مطابق ہوتی ہیں۔ رقم کی اجرائیگی کا انحصار سابقہ فنڈز کے استعمال، یو ٹی کے حصے کی منتقلی اور دیگر طے شدہ شرائط کی تکمیل پر ہوتا ہے۔ سال وار منظوری، اجرائیگی اور اخراجات کی تفصیلات ایوان کی میز پر رکھ دی گئی ہیں۔










