power

محکمہ بجلی کو 10,800 سے زائد ڈیلی ویجروں کی خدمات حاصل

مستقلی میں کوئی تاخیر نہیں، عمل قواعد و اہلیت کے تحت جاری// حکومت

سرینگر/ یو این ایس// جموں و کشمیر حکومت نے قانون ساز اسمبلی کو بتایا ہے کہ پاور ڈسٹری بیوشن اور ٹرانسمیشن کارپوریشنز میں اس وقت 10,800 سے زائد ڈیلی ویجرز کام کر رہے ہیں۔ حکومت نے واضح کیا کہ ان ملازمین کی مستقلی (ریگولرائزیشن) میں کوئی تاخیر نہیں ہو رہی اور تمام معاملات قواعد و ضوابط اور اہلیت کے مطابق نمٹائے جا رہے ہیں۔یواین ایس کے مطابق یہ جانکاری ایم ایل اے بلونت سنگھ منکوٹیا کی جانب سے پیش کیے گئے ایک اسٹارڈ سوال کے تحریری جواب میں دی گئی۔ محکمہ پاور ڈیولپمنٹ کے مطابق،کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ میں 5,825،جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ میں 4,315اور جموں و کشمیر پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن لمیٹڈ میں 736 ڈیلی ریٹڈ ورکرز خدمات انجام دے رہے ہیں، جس سے مجموعی تعداد 10,876 بنتی ہے۔ریگولرائزیشن سے متعلق سوالات کے جواب میں محکمہ نے بتایا کہ جے پی ڈی سی ایل نے سال 2018 میں 332 پی دی ایل، اور دیگر ورکرز کو مستقل کیا تھا، جبکہ حال ہی میں 167 مزید ملازمین کی مستقلی کی تجاویز بورڈ آف ڈائریکٹرز نے منظور کر لی ہیں۔ حکومت نے کہا کہ ریگولرائزیشن ایک مسلسل عمل ہے جو بورڈ میٹنگز کے ذریعے اور مقررہ قواعد، تعلیمی اہلیت اور دیگر معیارات کی تکمیل سے مشروط ہوتا ہے۔بجلی واجبات کے حوالے سے حکومت نے بتایا کہ گھریلو صارفین کے لیے ایک ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت 31 مارچ 2025 تک جمع شدہ سود اور سرچارج معاف کیا جا رہا ہے۔ یہ اسکیم 31 مارچ 2026 تک نافذ العمل رہے گی۔حکومت نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ انتودیہ انا یوجنا کے مستحق گھروں کو ماہانہ 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کی جائے گی، اور اس منصوبے کی منظوری کا عمل ا?خری مرحلے میں ہے۔چنانی کے لیے اضافی 33 کے وی اے لائن اور نئے گرڈ اسٹیشن کے مطالبے پر جواب دیتے ہوئے حکومت نے کہا کہ اودھم پور میں موجود گرڈ سب اسٹیشن کی نصب شدہ صلاحیت 100 ایم وی اے ہے اور یہ تقریباً 50 میگاواٹ کے زیادہ سے زیادہ لوڈ کو پورا کر رہا ہے۔ حکومت کے مطابق مجوزہ چنانی گرڈ اسٹیشن اس وقت ٹرانسمیشن یوٹیلٹی کے موجودہ منصوبے میں شامل نہیں ہے۔