19 ہزار نئے کاروباری اداروں کے قیام کی توقع، 29 منصوبوں کیلئے 5,013 کروڑ روپے کی واگزاری کا امکاں
سرینگر/یو این ایس// جموں و کشمیر کی معیشت میں زراعت بدستور مرکزی حیثیت رکھتی ہے اور براہِ راست یا بالواسطہ طور پر تقریباً 70 فیصد آبادی کا ذریعہ معاش ہے۔ یہ سروے قانون ساز اسمبلی میں پیش کیا گیا۔سروے کے مطابق یونین ٹیریٹری میں زرعی پیداوار میں اضافے، کسانوں کی آمدنی بہتر بنانے، منڈی تک رسائی کو فروغ دینے، فصلوں کی تنوع کاری اور پائیدار زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات عمل میں لائے جا رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت جموں و کشمیر بھر میں 29 منصوبے زیرِ عمل ہیں، جن پر 5,013 کروڑ روپے کی لاگت آ رہی ہے اور یہ منصوبے پانچ سالہ مدت پر محیط ہیں۔ اقتصادی سروے کے مطابق اس پروگرام سے ریاستی مجموعی گھریلو پیداوار میں تقریباً 28,000 کروڑ روپے کا اضافہ، 2.88 لاکھ نئے روزگار کے مواقع اور تقریباً 19 ہزار نئے کاروباری اداروں کے قیام کی توقع ہے۔ اس کے ذریعے 13 لاکھ خاندانوں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے جبکہ 2.5 لاکھ نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کی جائے گی۔سروے میں جموں و کشمیر کمپیٹیٹیو نیس امپروومنٹ پروجیکٹ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جسے 2024 میں 1,800 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا۔ یہ منصوبہ 90 منتخب بلاکس میں سات سال کی مدت کے لیے نافذ کیا جا رہا ہے اور اس سے تقریباً تین لاکھ خاندانوں، یعنی 15 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ منصوبے کے نفاذ کے لیے ایک ڈیجیٹل پورٹل بھی متعارف کرایا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق پیداواری محاذ پر، جموں و کشمیر میں غذائی اجناس کی پیداوار بڑھ کر 20,904 ہزار کوئنٹل سے 21,181 ہزار کوئنٹل ہو گئی ہے۔ سبزیوں کی پیداوار سال 2024–25 کے دوران 496.09 ہزار کوئنٹل رہی، جبکہ بروکلی اور ایسپیراگس جیسی زیادہ مالیت والی فصلوں کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔ مکئی کو کارن فلیکس اور سویٹ کارن میں تبدیل کرنے جیسے ویلیو ایڈڈ اقدامات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔منڈی اصلاحات کے تحت ضابطہ شدہ منڈیوں اور ڈیجیٹل تجارتی نظام کو مضبوط کیا گیا ہے۔ یونین ٹیریٹری کی 19 میں سے 17 تھوک منڈیاں الیکٹرانک نیشنل ایگریکلچر مارکیٹ (e-NAM) سے منسلک کی جا چکی ہیں۔ سروے کے مطابق اس پلیٹ فارم پر 55,355 رجسٹریشنز مکمل ہو چکی ہیں، جن کے ذریعے 28.26 لاکھ کوئنٹل زرعی اجناس کی تجارت ہوئی جس کی مالیت 1,680.64 کروڑ روپے ہے۔ سروے میں کسانوں کو خطرات سے تحفظ اور آمدنی کی مدد فراہم کرنے والی مرکزی اسکیموں کی پیش رفت بھی شامل ہے۔ پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع کو کور کیا گیا ہے۔ سال 2024–25 کے دوران 2.08 لاکھ کسانوں کی فصلیں 80,884 ہیکٹر رقبے پر بیمہ کی گئیں اور 94 ہزار سے زائد کسانوں کو 26.92 کروڑ روپے کے کلیمز ادا کیے گئے۔ خریف 2025 میں 2.015 لاکھ کسان اس اسکیم میں شامل ہوئے۔یو این ایس کے مطابق اسی طرح پردھان منتری کسان سمان ندھی اسکیم کے تحت سال 2024–25 میں 9.19 لاکھ کسانوں کو 3,907.49 کروڑ روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی۔کسان کریڈٹ کارڈ اسکیم کے ذریعے ادارہ جاتی قرض کی رسائی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق اب تک 11.39 لاکھ ’کے سی سی‘جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں 8.78 لاکھ فصل کاشتکاروں اور 2.61 لاکھ مویشی پروری سے وابستہ افراد کو دیے گئے ہیں۔ دسمبر 2025 تک اس اسکیم کے تحت 10,290 کروڑ روپے کا قرض فراہم کیا گیا۔سروے میں جغرافیائی شناخت (GI) ٹیگ کے حوالے سے بھی پیش رفت درج کی گئی ہے۔ کشمیر زعفران، مشکبڈجی چاول، جموں باسمتی چاول، سلیع شہد (رام بن)، بھدرواہ راجماش، کلاڑی (ادھم پور-رام نگر) اور رام بن اناردانہ سمیت سات زرعی مصنوعات کو GI سرٹیفکیشن مل چکا ہے، جبکہ 20 مزید مصنوعات رجسٹریشن کے مختلف مراحل میں ہیں۔ زرعی جامعات نے گزشتہ چار برسوں میں 164 پیٹنٹس درج کرائے ہیں، جن میں 2025–26 کے دوران 47 پیٹنٹس شامل ہیں۔ضمنی زرعی شعبوں میں، سال 2025–26 کے دوران مشروم کی پیداوار 1,061.6 میٹرک ٹن رہی، جبکہ شہد کی پیداوار 6,975.34 میٹرک ٹن تک پہنچ گئی، جس کے لیے 11,532 سے زائد شہد کی مکھیوں کی کالونیاں شامل کی گئیں۔ سبزیوں کی کاشت میں 3,000 ہیکٹر کا اضافہ ہوا، جس سے کل رقبہ 6,500 ہیکٹر تک پہنچ گیا۔اقتصادی سروے کے مطابق آبپاشی کی ترقی، مائیکرو آبپاشی اور پانی کے بہتر استعمال سے متعلق اقدامات موسمیاتی تغیرات سے نمٹنے اور زرعی پیداوار کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔










