200 الیکٹرک بسوں اور50 ٹرکوں کی خرید کیلئے 425کروڑ روپے مختص
سرینگر// یو این ایس // وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ، جو محکمہ خزانہ کا قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں، نے بجٹ 2026–27 کی تقریر کے دوران ٹرانسپورٹ شعبے کو مستحکم بنانے کیلئے بڑے اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران جموں و کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (جے کے آر ٹی سی) کی بحالی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل رہے گی۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دربار موو کی بحالی سے ٹرانسپورٹ شعبے سے وابستہ افراد کو خاطر خواہ فائدہ پہنچا ہے اور جے کے آر ٹی سی مسافروں، غذائی تاجروں اور باغبانی سے وابستہ افراد کو بلا رکاوٹ خدمات فراہم کر رہا ہے، جو اسے ایک قابلِ اعتماد عوامی ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک ادارہ بناتا ہے۔ انہوں نے بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ، بالخصوص دیہی اور پسماندہ علاقوں میں، سہل، سستی اور قابلِ اعتماد سفری سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر اعلیٰ کے مطابق حکومت خطے میں رابطہ کاری کو بہتر بنانے اور عوامی سہولیات کو وسعت دینے کیلئے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنا رہی ہے۔گرین موبیلیٹی کو فروغ دینے کیلئے پی ایم ای ڈرائیو اسکیم کے تحت 200 الیکٹرک بسیں شامل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جس پر تقریباً 350 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ ان بسوں کے ذریعے پرانی ڈیزل بسوں کو جدید، زیرو ایمیشن گاڑیوں سے تبدیل کیا جائے گا، جس سے نہ صرف ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ ملے گا بلکہ جے کے آر ٹی سی کی تجارتی اور لاجسٹک صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔اسی طرح مرکزی امداد کے تحت 50 نئے ٹرک خریدے جائیں گے، جن کیلئے 75.7 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس اقدام سے اشیائے ضروریہ اور باغبانی مصنوعات کی ترسیل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔یو این ایس کے مطابق بجٹ میں ٹرانسپورٹ شعبے کیلئے مالی سال 2026–27 کے دوران کیپیٹل ایکسپینڈیچر کے تحت 21 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ حکومت جدید فلیٹ، بہتر کنیکٹیویٹی اور عوامی سہولیات کو ترجیح دے رہی ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کا ہدف جموں و کشمیر میں ایک مضبوط، جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام قائم کرنا ہے، جو عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی سرگرمیوں کو بھی تقویت دے۔










