محنت و روزگار شعبے کیلئے 244 کروڑ روپے سرمایہ کی منظوری

محنت و روزگار شعبے کیلئے 244 کروڑ روپے سرمایہ کی منظوری

خود روزگاری، انٹرپرینیورشپ اور اسکل ڈیولپمنٹ حکومت کی ترجیح// حکومت

سرینگر/ یو این ایس // جموں و کشمیر حکومت نے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے انٹرپرینیورشپ کو کلیدی ترجیح قرار دیتے ہوئے محنت و روزگار شعبے کیلئے مالی سال 2026–27 کے دوران کیپیٹل ایکسپینڈیچر کے تحت 244 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ یہ رقم گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 98 کروڑ روپے زیادہ ہے۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ خطاب کے دوران کہا کہ خود روزگاری کو فروغ دینے کیلئیمشن یووا حکومت کی جامع حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بن کر ابھرا ہے، جس نے یونین ٹیریٹری بھر میں نچلی سطح تک مضبوط رسائی حاصل کی ہے۔وزیر اعلیٰ کے مطابق مشن یووا موبائل ایپ کو اب تک تقریباً دو لاکھ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے، جبکہ 95 فیصد پنچایتوں سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اب تک تقریباً 7 ہزار درخواستیں آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے داخل کی گئی ہیں۔کاروباری معاونت کو مؤثر بنانے کیلئے 27 بزنس ڈیولپمنٹ یونٹس اضلاع کی سطح پر قائم کیے گئے ہیں، جبکہ 18 بزنس ہیلپ لائن ڈیسک سب ڈویڑن سطح پر فعال ہیں۔ اس کے علاوہ، تقریباً 2 ہزار یووا رضاکار نچلی سطح پر درخواست گزاروں کی رہنمائی اور معاونت انجام دے رہے ہیں۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں 47 ہزار درخواستیںضلع سطحی کمیٹیوں کے ذریعے منظور کی جا چکی ہیں۔ ان میں سے 16,500 انٹرپرائزز کو بینکوں کی جانب سے منظوری دی گئی ہے، جبکہ پہلے ہی سال میں تقریباً 800 کروڑ روپے کی رقم مستحقین کو جاری کی جا چکی ہے۔ مزید 2 ہزار درخواستیں زیرِ غور ہیں اور جلد منظوری کی توقع ہے، جبکہ واپس کی گئی درخواستوں پر دوبارہ کارروائی جاری ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صلاحیت سازی مشن یووا کا اہم جزو ہے۔ اب تک ہزار سے زائد نوجوان انٹرپرینیورز تربیتی پروگرام مکمل کر چکے ہیں، جبکہ تقریباً 5 ہزار افراد اس وقت مختلف ترقیاتی کورسز میں زیرِ تربیت ہیں۔یو این ایس کے مطابق شفافیت اور نگرانی کو یقینی بنانے کیلئے مشن یووا کو ایک جامع ڈیجیٹل ڈیش بورڈ سے جوڑا گیا ہے، جو حقیقی وقت میں مانیٹرنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ موبائل ایپ ایک ون اسٹاپ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر مکمل طور پر فعال ہے۔وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ آئندہ برسوں میں مشن یووا کو اسکلنگ، قرضہ جاتی سہولتوں اور مارکیٹ لنکیجز کے ساتھ جوڑ کر مزید وسعت دی جائے گی۔ اس مقصد کیلئے ایک جامع فریم ورک تیار کیا گیا ہے، جس میں بنیادی مہارتیں، اسکول سطح پر اسکل ڈیولپمنٹ، گریجویشن کے ساتھ کیریئر لانچ پیڈز، انٹرن شپ، پلیسمنٹ اور کوچنگ شامل ہیں۔اسکل یونیورسٹی اقدام کے تحت پولی ٹیکنکس کی تنظیمِ نو اور انڈسٹری ریڈی ٹیکنیکل اسکلنگ کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ آئی ٹی آئیز کو پی ایم سیٹو کے تحت مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ پی ایم میپس اسکیم کے تحت آن دی جاب ٹریننگ بھی جاری ہے۔اسکل انفراسٹرکچر کی توسیع کیلئے ایک نئی مرکزی اسکیم کے تحت پانچ نئے آئی ٹی آئیز کو حب آئی ٹی آئیز کے طور پر قائم کیا جائے گا، جو اعلیٰ سطحی صنعتی اور پیشہ ورانہ تربیت کے مراکز ہوں گے۔محنت کشوں کی فلاح و بہبود کیلئے حکومت نے ٹول فری ہیلپ لائن قائم کی ہے، جبکہ مزدوروں کی رہائش اور نقل و حرکت کو بہتر بنانے کیلئے اننت ناگ اور راجوری میں نئے لیبر سرائے** تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کٹھوعہ لیبر سرائے کی اپ گریڈیشن، جبکہ بڈگام، واشبوگ اور پلوامہ میں نئی لیبر سرائیں اور نوشہرہ میں ماڈل لیبر سرائے قائم کرنے کا منصوبہ بھی زیرِ عمل ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایک ایسا مضبوط، شفاف اور پائیدار روزگار نظام قائم کرنا ہے جو نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کی معیشت کو بھی تقویت دے۔