حکومت نے دُور دراز علاقوں میں خالی اَسامیوں کو پُر کرنے کیلئے اَقدامات کئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ

حکومت نے دُور دراز علاقوں میں خالی اَسامیوں کو پُر کرنے کیلئے اَقدامات کئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ

گریز میں بڑی حد تک منظور شدہ تعداد کے مطابق اَسامیاں پُر کی گئیں۔ وزیرا علیٰ عمر عبدا للہ

جموں// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایوان کو بتایا کہ گریز علاقے میں اَسامیوں کی بڑی حد تک منظوری شدہ تعداد کے مطابق تقرری عمل میں لائی جا چکی ہے اور عملہ مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق تعینات کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ رُکن اسمبلی گریز نذیر احمد خان (گریزی) کی طرف سے اُٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت تمام خطوں میں عملے کی تعیناتی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھتی ہے تاکہ دفاتر کے کام کاج اور عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ جن کے پاس جنرل ایڈمنسٹریشن کا قلمدان بھی ہے، نے کہا کہ اگرچہ بعض محکموں میں وقتاً فوقتاً معمول کی اِنتظامی وجوہات کی بنا پر خالی اَسامیاں پیدا ہو جاتی ہیںلیکن سرکاری دفاتر کے مجموعی کام کاج کو متاثر کرنے والے عملے کی کوئی شدید کمی نہیں ہے۔اُنہوں نے کہا،’’حکومت خالی اَسامیوں کو پُرکرنے اور عوامی خدمات کی بلا رُکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ضروری اَقدامات کر رہی ہے۔‘‘اُنہوں نے مزید وضاحت کی کہ موجودہ قانونی ڈھانچے کے تحت جموں و کشمیر میں سرکاری اَسامیوں بشمول درجہ چہارم اسامیوں کی بھرتی جموں و کشمیر سول سروسز (ڈی سینٹرلائزیشن اینڈ ریکروٹمنٹ) ایکٹ 2010 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق کی جاتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ڈی سینٹرلائزیشن اینڈ ریکروٹمنٹ ایکٹ جس میں مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر رِی آرگنائزیشن ایکٹ 2019 کے تحت ترمیم کیا ہے،، نوٹیفکیشن ایس او 1229 (اِی) بتاریخ 31؍ مارچ 2020 کے ذریعے قانون میں بیان کردہ ڈومیسائل کی بنیاد پر ملازمت فراہم کرتا ہے۔اُنہوں نے واضح کیا،’’تقرری کی اہلیت جموںوکشمیر یونین ٹیریٹری کے ڈومیسائل پر مبنی ہے اور اس ایکٹ یا قواعد کے تحت کسی مخصوص علاقے کے لئے کوئی علیحدہ ریزرویشن فراہم نہیں کی گئی ہے۔‘‘