بجٹ تقریر2026-2027

بجٹ تقریر2026-2027

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور وزیر خزانہ

عزت مآب سپیکرصاحب!
سفرطویل ہے بوجھ بھی بھاری ہے
پرہرصورت ،یہ سفرجاری ہے ،جاری ہے
-1 نہایت عاجزی اورانکساری کے ساتھ آج میں بحیثیت وزیرخزانہ اپنا دوسرا بجٹ پیش کرنے جارہاہوں۔ ہماری سرزمین کے مالی مستقبل کی تشکیل کی ذمہ داری مجھ پر عائد کیا جانا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ یہ بجٹ محض اعداد و شمار کی ایک فہرست نہیں بلکہ ایک مالیاتی قطب نما ہے جو ہمیں ایک روشن مستقبل کی سمت رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ دیرپا معاشی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور پائیدار خوشحالی کے لیے مضبوط بنیادیں فراہم کرتا ہے۔ اس مشترکہ سفر کے آغاز پر، میں اس معزز ایوان کے ہر معزز رکن سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ متحد ہو کر ایک مضبوط اور خوشحال جموں و کشمیرکی تعمیر کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں۔
-2 جموں و کشمیرکی روح صبر و استقامت سے تشکیل پائی ہے اور اُمید نے اسے تقویت بخشی ہے۔ بدلتے موسموں اور کٹھن ادوار کے دوران ہماری عوام ثابت قدم رہی، ماضی سے دانش اور مستقبل کے لیے حوصلہ حاصل کرتے رہے۔ اسی پائیدار جذبے کی رہنمائی میں ہماری حکومت جموں و کشمیر کو ایک جدید، ترقی پسند اور معاشی طور پر متحرک خطہ بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ ہم مل کر رکاوٹوں کو سنگِ میل اور امنگوں کو کامیابیوں میںبدلیں گے۔
-3 ہم ایک ایسا کاروبار دوست ماحولیا تی نظام قائم کر رہے ہیں جو جدت اور سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہے اور جموں و کشمیر کو صنعت و حرفت کا مرکز بنائے۔ یہ وژن منتخب نمائندوں، صنعتی قائدین اور دیگر شراکت داروں سے وسیع مشاورت کے نتیجے میں تشکیل پایا ہے۔ ان کی آوازوں نے اس بجٹ کو مزید تقویت دی ہے اور اسے عوامی ضروریات سے ہم آہنگ رکھا ہے۔ اس ایوان کے ہر رکن سے براہِ راست رابطے کے ذریعے ہم نے شراکتی طرزِ حکمرانی کی ایک نئی ثقافت کی بنیاد رکھی ہے۔
-4 گزشتہ برس جموں و کشمیراور پورے ملک کے لئے غیر معمولی طور پرچیلنجنگ رہا۔ قومی سطح پر جغرافیائی سیاسی حالات نے ہماری ترقی کی راہ کو اچانک متاثر کیا ۔ اگرچہ قومی معیشت 6 تا 8 فیصدی کی شرح سے ترقی کر رہی ہے، تاہم تجارتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں تک ہماری رسائی محدود ہو گئی ہے۔ جموں و کشمیر میں بھی، عین اس وقت جب ہماری معیشت نئی توانائی کے ساتھ مستحکم ہو رہی تھی، پہلگام میںہونے والے وحشیا نہ دہشت گرد حملے اور اس کے بعد کے حالات نے ہمیں گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔ اگست اور ستمبر میں آنے والے تباہ کن سیلا ب نے جموں خطے کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان دونوں آفات نے ہمارے سامنے موجود مالیاتی چیلنجو ں کو مزید سنگین بنا دیا۔ سیاحت، دستکاری، باغبانی اور زراعت سمیت تمام معاشی شعبے بری طرح متاثر ہوئے۔ ہر شعبے میں روزگار اور کاروبار کا نمایاں نقصان ہوا، جس کے نتیجے میں خاندانوں پر شدید مالی دباؤ پڑا۔
-5 یہ بجٹ ہمیں ان چیلنجو ں کا باریک بینی سے تجزیہ کرنے اور مضبوط اصلاحات کے ذریعے ان کا پُرعزم جواب دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ بجٹ جامع اور پائید ار ترقی کے وژن پر مبنی ہے اور بنیادی ڈھانچے، عوامی خدمات اور طرزِ حکمرانی میںمالیاتی احتیاط کے ساتھ اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے ذریعے متحرک کرتا ہے۔ اس کا مقصد علاقائی فاصلے کم کرنا، امکانات کو بروئے کار لانا اور بالخصوص نوجوانوں اور خواتین جوکہ مستقبل کے معمارہیںکے لیے مواقعے پیدا کرنا ہے۔
مالیاتی صورتحال کی مضبوطی
-6 جموں وکشمیرکودرپیش مالی دبائو کی بنیادی وجوہات میں لازمی اخراجات اورآمدنی پیداکرنے کی محدودصلاحیت شامل ہے۔ٹیکس اورغیرٹیکس ذرائع سے حاصل ہونے والی اپنی آمدنی ہمارے مجموعی بجٹ کی ضروریات کاصرف 25 فیصدہی پورا کرپاتی ہے۔ جغرافیائی دشواریاں، ساختی رکاوٹیں اوربالخصوص بجلی کے شعبے میں پائی جانے والی ناکاریاں اس مالی دبائو کومزیدبڑھادیتی ہیں ،جس کے نتیجے میں مرکزی امداد پر انحصار ناگزیرہوجاتاہے ۔ا ن مسائل سے نمٹنے کے لیے میری حکومت نے مالی اصلاحات کوفروغ دیا ہے جن کامقصد آمدنی میں اضافہ ،اخراجات کومعقول بنانا اورمالی شفافیت کوبہتربناناہے۔
-7 اگرچہ جی ایس ٹی کونسل کی جانب سے شرحوں میں معقولیت (Rate Rationalization) کے باعث ہماری آمدنی متاثر ہوئی ہے، تاہم ہم نے بزنس انٹیلی جنس یونٹ (BIU)، جی ایس ٹی نیٹ ورک (GSTN) اور بھاسکر آچاریہ نیشنل انسٹی ٹیو ٹ آف اسپسیں ایپلی کیشنز اینڈ جیو انفارمیٹکسس (BISAG) کے تجزیاتی وسائل سے فائدہ اٹھا کر ٹیکس چوری کو روکا اور جی ایس ٹی کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا۔ ایکسائز انتظامیہ اور زمین کے اندراج کو مؤثر بنانے کے لیے ای۔آبگاری پورٹل اور ای۔اسٹیمپنگ نافذ کی گئی۔ شفاف نیلامیوں کے ذریعے آمدنی میں اضافہ کیاگیا ۔31 دسمبر 2025 تک ہماری ٹیکس آمدنی10,265 کروڑروپے اورغیر ٹیکس آمدنی4,964 کروڑروپے تک پہنچ گئی۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار گزشتہ سال کی وصولیوں 10,624 کروڑروپے اور5,114 کروڑروپے سے کم ہیں، تاہم ہم 31 مارچ تک گزشتہ سال کی وصولیوں سے تجاوز کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔
-8 حکومت پر مالی دباؤ کی بڑی وجہ تنخواہوں، پنشن اور قرضوں کی ادائیگی جیسے لازمی اخراجات ہیں، جو مجموعی اخراجات کا تقریباً 60 فیصدبنتے ہیں ۔ اسی لیے قرضوں کے بہتر انتظام، مہنگے قرضوں میںکمی اور غیربجٹ شدہ قرضوں کے خاتمے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ منظور شدہ حدود کے اندر رہتے ہوئے قرضوں کو یقینی بنا کر اورغیر بجٹ شدہ قرضوں کے خاتمے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔منظورشدہ حدودکے اندررہتے قرضوں کویقینی بناکر اورنقدی کی دستیابی کاانتظام بہترکرکے قرضوں کی پائیداری کومضبوط کیاجارہاہے ۔مسلسل تیسرے سال غیرترجیحی اخراجات پرکفایت شعاری کے اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔ بجلی کے شعبے میں اصلاحات اوراسمارٹ میٹرنگ کے ذریعے نقصانات کم اوربلنگ کی کارکردگی بہتربنائی جارہی ہے۔ صارفین کی تعدادمیں توسیع ، ایریل بنچڈکیبلز(Bunched Cables) کی تنصیب اورتمام اضلاع میں نقصانات میں کمی کے کام انجام دیئے جارہے ہیں۔ان اصلاحات سے مالی دبائومیں کمی اورمحتاط مالی ترقی کی بنیاد رکھنے کی توقع ہے۔
سرمایہ کاری میں تیزی لانا
-9 اس کے باوجود جموں وکشمیرکوسڑک رابطہ، پانی کی فراہمی ، پانی کی نکاسی ، سیاحت اوربجلی جیسے شعبوں میں نمایاں بنیادی ڈھانچے کی کمی کاسامناہے۔ان مسائل کے حل کے لیے خاطرخواہ مالی وسائل اورمرکزی حکومت کی مسلسل معاونت ناگزیر ہے ۔ میری حکومت نے ان مالی مسائل کے حل کے لیے مرکزی حکومت سے مسلسل رابطہ رکھا۔ میں نے متعدد موقعوں پر مرکزی وزیرِ داخلہ اورمرکزی وزیرخزانہ سے ملاقاتیں کیں۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ مرکزی حکومت نے ہماری مشکلات کاادارک کیااورخصوصی امدادکے ذریعے مسلسل تعاون فراہم کیا۔
-10 رواں برس جموں وکشمیر کوریاستوں کیلئے(SASCI) اسکیم کے تحت خصوصی امداد کے دائرے میں لایاگیا۔یہ فیصلہ حکومت ہند کے اس اعتمادکامظہرہے جوجموں وکشمیرکی اصلاحی سوچ، مالی نظم وضبط اورعمل درآمد کی صلاحیت پرمبنی ہے ۔ SASCI اسکیم کے تحت سرمایہ جاتی اوربنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے 50 سال کیلئے بلاسودقرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔یہ اسکیم ایک انقلابی مالیاتی آلہ بن کر ابھری ہے کیونکہ یہ مختلف کلیدی شعبوں میں ٹھوس اصلاحات پرمالی مراعات فراہم کرتی ہے۔ میری حکومت نے اس موقع سے بھرپورفائدہ اُٹھایاہے ۔
-11 1,431 کروڑ روپے کی غیرمشروط رقم کے تحت ہم سرمایہ جاتی منصوبوں ، بشمول پن بجلی منصوبوں کے عملدرآمد میں تیزی لارہے ہیں۔ہماری سرمایہ جاتی سرگرمیوں کامقصداہم شعبوں میں بنیادی ڈھانچے کومضبوط بناناہے۔ جموں وکشمیرکی جانب سے حاصل کردہ پیش رفت اور فنڈزکے موثراستعمال کوتسلیم کرتے ہوئے ،مرکزی حکومت نے غیرمشروط مد میں مزید1,431 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔
12۔ SASCI کے تحت آسانی اورآفات کے خطرات میں کمی اب ایک کلیدی ترجیح بن چکاہے ۔جموں خطے میں تبا ہ کن سیلابوں کے بعد، ہم نے بین الوزارتی ٹیم کے تفصیلی دوروں اورمعائنوں کویقینی بنایا۔ میری حکومت نے جامع رپورٹیں پیش کیں اورمرکزی حکومت سے فعال طورپرمالی امداد حاصل کی، جس کے نتیجے میں آفات سے نمٹنے اور بحالی کے کاموں کے لیے مزید 1,431 کروڑ روپے کی منظور ی دی گئی۔ ان رقومات کوحفاظتی اورتدارکی بنیادی ڈھانچے کی تعمیراور تیاری کومضبوط بنانے کے لیے استعمال کیاجائے گا۔
13۔ SASCI کے اصلاحاتی اجزاء کے تحت جموں وکشمیرنے کان کنی کے شعبے میں ہمہ گیراصلاحات کی ہیں، جس کے نتیجے میں 100 کروڑروپے کی ترغیبی رقم حاصل کی گئی ۔ اسی طرح زمین کے نظم ونسق میں اصلاحات شفافیت ، کاروبارمیں آسانی اورعوامی اعتمادبڑھانے کے لیے شروع کی گئیں۔تاحال 6,839 دیہات کے زمین ریکارڈ مکمل طورپرکمپوٹرائزڈہوچکے ہیں اور6,464 دیہات کے اراضی ملکیتی نقشے ڈیجیٹائز کیے جاچکے ہیں ۔68 لاکھ سے زائد زمین کے قطعات درج کیے جاچکے ہیں اور 13.25 لاکھ قطعات کوULPIN الاٹ کیاگیاہے۔ ریونیوکورٹ کیس منیجمنٹ سسٹم 881 ریونیوعدالتوں میں فعال ہے،جس سے تاخیر، تنازعات اورعوامی مشکلات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں ڈیجیٹل کراپ سروے(Digital Crop Survey) مکمل ہوا اور 60 کروڑ کی ترغیبی رقم حاصل کی گئی ۔ NAKSHA اقدام کے تحت بشناہ(Bishna) قصبے میں فضائی سروے کومکمل کیاگیا ،جس پر5 کروڑ روپے کی ترغیب حاصل ہوئی۔
14۔ شہری منصوبہ بندی کی اصلاحات کے تحت صنعتی زمین کے GISپرمبنی ڈیٹابینک کوانڈسٹریل لینڈبینک سے مربوط کیاگیاہے۔ لینڈپولنگ ،GIS پر مبنی منصوبہ بندی ،گرین بلڈنگز،لچکدارزوننگ ،سڑکوں کی معقول تنظیم اورتعمیراتی ضوابط میں ترامیم جیسی اصلاحات نافذکی گئیں۔ان بنیادوں پرمیری حکومت نے 415 کروڑ روپے کے حصول کے لیے تجویز پیش کی ہے۔
15۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہے کہ مالیاتی استحکام کے اقدامات،اصلاحات کے مسلسل نفاذ اوراسٹریٹجک سرمایہ کاری کے باعث ہماری معیشت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ہماری مجموعی ریاستی گھریلوپیداوار (GSDP)2023-24 میں 2,36,059 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 2,62,458 کروڑ تک پہنچنے کاتخمینہ ہے اور2025-26 میں 2,88,422کروڑ پہنچنے کی توقع ہے ،جوہماری معیشت میں فیصلہ کن پیش رفت کی علامت ہے۔ 2025-26 میں ابتدائی ،ثانوی اورثالثی شعبوں کاGSVA میں حصہ بالترتیب 20 فیصد، 18 فیصد اور62 فیصدرہنے کاتخمینہ ہے۔
16 ۔جموں وکشمیرکی معیشت کے 11 فیصدکی شرح سے بڑھنے کااندازہ ہے، جوہماری مسلسل کوششوں اوراسٹریٹجک پالیسی اقدامات کانتیجہ ہے ۔ GSDP کی یہ مثبت رفتارپہلگام سانحے اورحالیہ سیلابوں کے بعدپیدادرپیش مالیاتی چیلنجوں سے نمٹنے میں مددگارثابت ہواہے۔اپنی سمت پراعتماد اوراجتماعی طاقت پریقین کے ساتھ، مجھے یقین ہے کہ جموں وکشمیرترقی ، جدت اورمواقع کاایک نمایاں خطہ بن کر اُبھرے گا۔

طرز ِ حکمرانی اورانتظامیہ کو مستحکم بنانا
17 ۔ میری حکومت جموں وکشمیرمیں انتظامی صلاحیت کومستحکم کرنے، سول سروسز کوجدید خطوط پراستوار کرنے، بروقت اورموثر بھرتی کویقینی بنانے اورادارہ جاتی ڈھانچے کومضبوط بنانے کے لیے سرگرم ِعمل ہے۔ہم نے مشن کرما یوگی (Mission Karmayogi)کوموثرانداز میں نافذ کیا ہے جس کامقصد سرکاری ملازمین کوان کے فرائض اورصلاحیت پرمبنی تربیت فراہم کرناہے۔ہمارے کُل 3.74 لاکھ ملازمین میں سے 1.25 لاکھ ملازمین کواس مشن کے تحت شامل کیاجاچکاہے۔ جبکہ 53,073 ملازمین اس وقت سرگرمی کے ساتھ تربیتی عمل میں شریک ہیں۔
18۔ میری حکومت نے روزگار کی فراہمی کو اپنے طرزِ حکمرانی کے ایجنڈے کا ایک مرکزی ستون بنایا ہے، جس میں سرکاری بھرتیوں میں رفتار، شفافیت اور اہلیت پر واضح توجہ دی گئی ہے۔ مجھے اس معزز ایوان کو یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سال 2025 کے دوران 7,650 امیدواروں کو خالصتاً اہلیت کی بنیاد پر، ایک شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی تقرری نظام کے ذریعے سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئیں، جس سے ہمارے نوجوانوں کا عوامی اداروں پر اعتماد بحال ہوا ہے۔
19۔ میںمزید 23,800 آسامیوں پر بھرتی کے عمل کو تیز کرنے کی تجویز پیش کرتا ہوں، جن میں 2,800 گزٹیڈ(Gazatted)، 14,000 نان گزٹیڈ(Non Gazatted) اور 7,000 درجہ چہارم(Class IV) کی آسامیاں شامل ہیں، تاکہ ان خالی اسامیوں کو سختی سے مقررہ مدت کے اندر پُر کیا جا سکے۔
20۔ اس کے علاوہ، سال 2025 کے دوران 910 ہمدردانہ بنیادوں پر تقرریاں بھی کی گئی ہیں، تاکہ وہ خاندان جنہوں نے اپنے واحد کفیل کو کھو دیا ہے، عزت، تحفظ اور امید کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ یہ اقدامات ہمارے اس پختہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہر حقدار نوجوان کو منصفانہ موقع ملے اور جموں و کشمیر میں سرکاری ملازمت شفاف، جوابدہ اور سب کے لیے قابلِ رسائی رہے۔
21۔ میری حکومت ڈیلی ریٹڈ(Daily Rated)، کیجول (Casual)اور عارضی ملازمین کی دیرینہ خواہشات سے پوری طرح آگاہ ہے، جنہوں نے محدود ملازمت کے تحفظ اور مشکل حالات کے باوجود برسوں تک انتظامیہ میں خدمات انجام دی ہیں۔ گزشتہ سال ڈیلی ریٹڈ ملازمین کی مستقلی کے تمام قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، تاکہ ایک منصفانہ، شفاف اور پائیدار پالیسی فریم ورک وضع کیا جا سکے۔ میں اس ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ میری حکومت اس دیرینہ مسئلے کے منصفانہ اور انسانی حل کی تلاش کے لیے پُرعزم ہے، اور کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر مستقلی کے لیے ایک منظم اور مرحلہ وار لائحہ عمل آئندہ مدت میں اعلان کیا جائے گا۔ ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال عوامی خدمت کے لیے وقف کیے ہیں، انہیں قانون اور مالی ذمہ داری کے دائرے میں رہتے ہوئے عزت، تحفظ اور مستحکم مستقبل فراہم کیا جائے۔
22۔ میری حکومت آشا (ASHA)اور آنگن واڑی کارکنان کی گراں قدر خدمات کا اعتراف کرتی ہے، جو ہمارے عوامی صحت اور ابتدائی بچپن کی نگہداشت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ نچلی سطح پر، خاص طور پر سب سے کمزور طبقات تک رسائی میں ان کی لگن ہمارے گہرے ترین اعتراف کی مستحق ہے۔ ہم ان کے مسائل سے باخبر ہیں اور موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے عملی چیلنجز کے حل کے لیے متعلقہ فریقین سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
23۔ مجھے اس معززایوان کو یہ اطلاع دیتے ہوئے بھی خوشی ہو رہی ہے کہ ووکیشنل انسٹرکٹرز
(Vocational Instructors)کے اعزازیہ میں اضافہ کیا گیا ہے، جو ہنرمند اساتذہ کے کردار کو تسلیم کرنے کے ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے، تاکہ روزگار کے مواقع اور فنی تعلیم کو مضبوط بنایا جا سکے۔
24۔ ہم نے تقرری اوراحتساب سے متعلق اداروں کے بنیادی ڈھانچے کومزید مضبوط بنایاہے ۔اینٹی کرپشن بیورو(Anti Corruption Bureau)کے لیے جموں، بارہمولہ اوراننت ناگ میں پولیس تھانوں کی تعمیر مالی سال کے اختتام تک مکمل ہوجائے گی۔ اسی طرح ، جموں میں جے کے ایس ایس بی(JKSSB) کادفترتکمیل کے قریب ہے، جبکہ سرینگرمیں جے کے ایس ایس بی (JKSSB)کی عمارت کی تعمیرجون 2027 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
25۔میری حکومت نے دربار موئو(Darbar Move) کو ایک منظم اور جدید طرزپر بحال کیا ہے، اور اسے ایک منفرد انتظامی روایت کے طور پر دوبارہ مستحکم کیا ہے جو علاقائی یکجہتی اور شراکتی حکمرانی کو مضبوط بناتی ہے۔
26۔ دربار موو(Darbar Move) کی بحالی سے جموں میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ آپریٹرز(Transport Operators)، مہمان نوازی کے شعبے، چھوٹے تاجر اور خدمات فراہم کرنے والے مستفید ہو رہے ہیں جن کا روزگار انتظامیہ کی اس موسمی منتقلی سے وابستہ ہے۔
27۔ میری حکومت دربار موو(Darbar Move) سے وابستہ سرکاری ملازمین کے لیے سہولیات اور فلاحی اقدامات کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے، جن میں بہتر رہائش، بہتر دفتری بنیادی ڈھانچہ، ڈیجیٹل رابطہ کاری اور بہتر لاجسٹک انتظامات شامل ہیں، تاکہ یہ موئو(Move) زیادہ مؤثر، ملازم دوست اور کم خرچ ثابت ہو۔
28۔ یہ طریقۂ کار اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دربار موئو(Darbar Move) محض علامتی نہ رہے بلکہ ایک مؤثر طرزِ حکمرانی کا طریقہ کار بنے جو معاشی سرگرمی اور ملازمین کی فلاح و بہبود دونوں کو سہارا دے۔

زراعت اورملحقہ شعبوں کی ترقی
29۔ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام(HADP) اورزرعی وملحقہ شعبہ جات کی مسابقت میں بہتری کے منصوبے (JKCIP)،جو IFAD کی معاونت سے چل رہے ہیں ،اُن کے تحت زراعت اوراس سے وابستہ شعبے تیزی سے تبدیلی کے مرحلے سے گزررہے ہیں۔ توجہ اب محض گزارہ معیشت سے ہٹ کرمتنوع ،موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اورآمدنی پرمرکوززرعی معیشت کی طرف منتقل ہوچکی ہے ۔زیرکاشت رقبہ 12.71 لاکھ ہیکٹیر سے بڑھ کر13.50 لاکھ ہیکٹر ہوگیاہے۔بیج کی تبدیلی کی شرح (SRR) کی شرح 12 فیصد سے بڑھ کر22فیصد ہوگئی ہے ،جس سے پیداوار اورفصلوں کی قوت ِ برداشت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
30 ۔محفوظ کاشتکاری کے دائرہ کار میں نمایاں توسیع ہوئی ہے اور 29.84 ہیکٹر رقبے پر 332 ہائی ٹیک گرین ہاؤسز(High Tech green houses) اور 848 پولی ہاؤسز(Poly Houses)قائم کیے گئے ہیں۔ ان سہولیا ت سے کاشت کی شدت 250 فیصد تک بڑھانے اور موسمی خطرات کو کم کرنے میںمدد ملی ہے۔ تیل دار اجناس کے زیرِ کاشت رقبے میں 1.4 لاکھ ہیکٹر سے بڑھ کر 2.1 لاکھ ہیکٹر تک اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میںتیل دار اجناس کی پیداوار دوگنی ہوئی ہے اور درآمدی خوردنی تیل پر انحصار میں کمی آئی ہے۔
31۔ کسان خدمت گھر (KKGs)جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسانوں تک آخری سطح تک خدمات کی فراہمی کو ممکن بنارہے ہیں۔ سال 2025-26 تک ،8لاکھ سے زائد کسانوں کو کسان ساتھی (Kissan Sathi)اورKKG ایپس (Apps)پررجسٹرکیاگیا،جبکہ 1,300 کسان خدمت گھر فعال ہوچکے ہیں۔ مارچ 2027 تک ڈیجیٹل کراپ سروے (Digital Crop Survey) کے مکمل انضمام کے ذریعے تمام کسانوں کوڈیجیٹل نظام میں شامل کرنے کاہدف مقررکیاگیاہے ۔پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (PM Fasal Bima Yojana)کے تحت خریف 2025 کے دوران 2.01 لاکھ کسانوں کو 75,732 ہیکٹررقبے سمیت رجسٹرکیاگیا، جس سے فصلوں کے خطرات میں موثرکمی ممکن ہوئی۔
32۔ کمانڈ ایریا ڈیولپمنٹ (CAD) اورجدید کمانڈایریا ڈیولپمنٹ (M-CAD) اسکیموں کے تحت دسمبر 2025 تک 4.53 لاکھ ہیکٹرآبپاشی کی صلاحیت پیداکی جاچکی ہیں۔جبکہ 2026-27 کے دوران مزید 16,207 ہیکٹررقبے کوآبپاشی کے دائرے میں لانے کی تجویزہے ۔مشروم کی کاشت ایک منافع بخش ضمنی سرگرمی کے طورپرابھری ہے ،جہاں گزشتہ تین برسوں میں 31 فیصد ی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور پیداوار 2,100 میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2,742میٹرک ٹن (MT)ہوگئی ہے ،جس میں 227 مشروم یونٹس کے قیام اور1.18 لاکھ کمپوسٹ بیگزکی تقسیم نے اہم کردار ادا کیاہے۔ شہدکی مکھی بانی(Apiculture) کے شعبے میں بھی نمایاں ترقی ہوئی ہے ،جہاں شہدکی پیداوارتین برسوں میں 77 فیصد بڑھ کر 3,895 میٹرک ٹن سے تجاوزکرگئی ہے،جس میں 1.03 لاکھ مکھیوں کے چھتے اور11 شہدپروسیسنگ یونٹوں (Honey Processing Units)کاقیام شامل ہے۔
33۔ باغبانی کے شعبے میں ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن اسکیم (High Density Plantation Scheme)کے تحت 2017-18 سے دسمبر 2025 تک تقریباً 1,119 ہیکٹررقبہ 139 کروڑ کی مالی معاونت سے احاطہ کیاگیاہے۔ جبکہ 18,915 ہیکٹررقبہ میڈیم ڈینسٹی پلانٹیشن کے تحت لایاگیاہے ۔ ہماری پھلوں کی پیداوار 2023-24 میں 26.43 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 26.92 لاکھ میٹرک ٹن ہوگئی ہے اورہمارا ہدف 2029-30 تک اسے 29.72 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچاناہے۔مزیدبرآں ،2026-27 کے دوران 1,455 ہیکٹر رقبہ ہائی اورمیڈیم ڈینسٹی پلانٹیشن کے تحت احاطہ کیاجائے گا۔
34۔جموں کے آرایس پورہ (R S Pura)میں ایک میگافروٹ نرسری (Mega Fruit Nursery)قائم کی گئی ہے جس میں 5 لاکھ اعلیٰ معیار کے نیم گرم خطے کے پھلوں کے پودے تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ اعلیٰ معیارکے پودے فراہم کرنے کے لیے مارٹا (اودھم پور) اورلہوان (اننت ناگ) میںدو Elite نرسریاں /پلانٹ اسٹیبلشمنٹ کوارنٹین (PEQs)تیارکی جارہی ہیں۔
35۔ سال 2026-27 کے دوران سرکاری اورنجی نرسریوں میں 8.00لاکھ پودے اور17.84 لاکھ روٹ اسٹاک پھلدارپودے تیارکرنے کاہدف ہے۔ اسی مدت میں 6 ہیکٹر Mother Orchid (مادرباغات)،15 ہیکٹرروٹ اسٹاک بینکس اور 40 ہیکٹرپلانٹ پروپیگیشن یونٹس قائم کیے جائیں گے۔ تحفظ کے اقدامات کومزیدمستحکم کرتے ہوئے،سکاسٹ،جموں (SKAUST Jammu)نے ایک جدیدترین ایکس سیٹوجین بینک(Ex Setu Gene Bank)قائم کیاہے،جس کے ساتھ یہ ادارہ بھارت کاتیسرا ادارہ بن گیاہے جہاں یہ سہولت دستیاب ہوگی۔
36۔ ڈیری اور پشوپالن کے شعبے میں نمایاں ترقی درج کی گئی ہے، جہاں سالانہ دودھ کی پیداوار 28.75 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے، جس کی وجہ منظم نسلی بہتری، مصنوعی تولید کے دائرہ کار میں توسیع، اور مویشیوں کے بہتر انتظامی طریقے ہیں۔
37۔ میں جموں و کشمیر میں 1 لاکھ لیٹر ہر روز کی گنجائش کے حامل 7 ملک پروسیسنگ پلانٹس کے قیام کی تجویز پیش کر رہا ہوں، جن کی لاگت تقریباً 770 کروڑ روپے ہوگی اور جنہیں UT Capexاور مرکزی سرکارکی اسکیم کے تحت مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس اسکیم سے 11 لاکھ ڈیری کسان مستفید ہوں گے۔ میرا ہدف ہے کہ آئندہ چند برسوں میں جموں و کشمیر میں دودھ کی پروسیسنگ کو موجودہ 4 فیصدسے بڑھا کر 25فیصد تک لے جایا جائے۔
38۔ ہم Integrated Dairy Development Scheme (IDDS) کے تحت PMFME مستفیدین کے لیے جو Milk Processing یونٹ قائم کریں گے، ان کے لیے 15 فیصدٹاپ اَپ سبسڈی کی تجویز پیش کر رہے ہیں۔ 4,000 نئی ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیز (DCS) کی تشکیل، Milk FPOs اور SHG کلسٹرز کے ساتھ مل کر، نچلی سطح پر ملکیت کے احساس اور مؤثر خریداری کے نظام کو مضبوط بنائے گی۔ اس ماحولیاتی نظام کی معاونت کے لیے
40 Bulk Milk Coolers(BMCs) ، 40 ٹیسٹنگ لیبارٹری، 200 Milk-o-chill یونٹس، اور 5 انسٹا چلرز(Insta Chillers)تعینات کیے جائیں گے۔
39۔ ڈیری ماحولیاتی نظام میں تبدیلی لانے کے لیے دودھ کی پروسیسنگ کو5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے کا منصوبہ ہے ،جس سے 10لاکھ لیٹریومیہ دودھ کی موثرہینڈلنگ اورپیداوارمیں اضافہ ممکن ہوگا۔اس سے منظم ڈیری کواپریٹیوز کاسالانہ کاروبار 407 کروڑ روپے سے بڑھ 1,898 کروڑ روپے کااضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں ہرسال3 لاکھ کسانوں کی آمدن میں مجموعی طورپر300کروڑروپے کااضافہ ہوگا۔ان اقدامات کے نتیجے میں سالانہ دودھ کی پیداوار 32 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچنے اوردودھ جمع کرنے اورٹھنڈاکرنے کی صلاحیت 2026-27 تک 5.5 لاکھ لیٹریومیہ ہونے کی توقع ہے۔
40۔ ای نیشنل ایگریکلچر مارکیٹ (e-NAM) پلیٹ فارم کامیابی کے ساتھ نافذ کیا جا چکا ہے، جس سے کسانوں کو اپنی زرعی اور باغبانی پیداوار منڈیوں میں طبعی (Physical)طور پر لائے منڈیوں میںبغیر فروخت کرسکتے ہیں۔ ہماری 19 تھوک منڈیوں (Whole Sale Mandis)میں سے 17 منڈیاں e-NAM پلیٹ فارم کے ساتھ مربوط کی جا چکی ہیں۔ 2020–21 میں اس کے آغاز سے اب تک 55,000 سے زائد کسان، تاجر، ایف پی اوز(FPO’s) اور کمیشن ایجنٹس درج ہو چکے ہیں اور دسمبر 2025 تک e-NAM کے ذریعے مجموعی طور پر 1,721 کروڑ روپے کی تجارت انجام دی جا چکی ہے۔
41۔ پولٹری کے شعبے کو مزید فروغ دینے کے لیے ہم 800 تجارتی پولٹری یونٹس اور 50,000 گھریلو پولٹری یونٹس قائم کریں گے تاکہ تقریباً 250 ملین انڈے پیدا کیے جا سکیں۔ اس سے پولٹری فارمنگ زیادہ منافع بخش بنے گی اور درآمد شدہ پولٹری اجزاء پر انحصار کم ہوگا۔ مزید برآں، مچھلی کی پیداوار 2025–26 میں 31,000 میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2026–27 میں 33,000 میٹرک ٹن ہونے کی توقع ہے، جس سے مچھلی کی دستیابی بہتر ہوگی اور مچھلی پالنے والوں کی آمدنی میں اضافہ ہو گا۔

زرعی اور معاون شعبہ سال2026-27کے لیے زرعی اور معاون شعبے کے تحت سرمایہ جاتی اخراجات کی مد میں 1878 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
دیہی ترقی
42۔مہاتما گاندھی نریگا (MG-NREGA)کے تحت سال 2025-26 میں 250.07 لاکھ دن روزگار فراہم کیا گیا۔ پنچایت کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر مسلسل پیش رفت کر رہی ہے، جس کے تحت 367 پنچایت بھونوں (Panchayat Bhawans)کے ٹینڈر کیے گئے، 354 مختص ہوئے اور 297 کام شروع کیے جا چکے ہیں۔ پردھان منتری آواس یوجنا (PMAY) کے تحت 3.21 لاکھ مکانات مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ باقی 14 ہزار مکانات کی تعمیر جاری ہے۔ آئی ڈبلیو ایم پی(IWMP) کے تحت مٹی اور نمی کے تحفظ سے متعلق سرگرمیاں جیسے بندھ بندی(Contour Bunding) ، تہہ دارکھیتی (Terracing)، آبی ذخیرہ کاری کرنے اور کھیتوں کے تحفظ کے کام شروع کیے گئے، جس کے نتیجے میں 1,219 ہیکٹرتباہ شدہ زمین کوقابل کاشت بنایاگیااور 5,286 ہیکٹر پر محیط 369 تحفظاتی منصوبے 2025-26 میں مکمل ہوئے۔
43۔ لکھ پتی دیدی مہم (Lakhpati Didi Campaign)کے تحت اب تک 2,00,952 خود امدادی گروپ (SHG) کی خواتین لکھ پتی دیدی بن چکی ہیں۔ بقیہ 32,048 اہل کنبوں کو جون 2026 تک شامل کیا جائے گا تاکہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنایا جا سکے اور دیہی کاروبار کو فروغ ملے۔ اُمیداسکیم(UMEED)کے تحت 2025-26 میں 98,312 خواتین کسانوں کو تربیت دی گئی۔ جے کے آر ایل ایم (JK-RLM)کے ذریعے 13,103 خود امدادی گروپوں (SHGs)کو418 کروڑ روپے کے قرض فراہم کیے گئے، جس سے تقریباً 26,200 کنبے مستفید ہوئے۔
44۔ راشٹریہ گرام سوراج ابھیان (RGSA) کے تحت استعداد سازی کے پروگراموں میں 14,685 افسران اور اہلکاروں کو تربیت دی گئی، جن میں پنچایت سیکریٹری بھی شامل ہیں۔ سال 2025 کو ’’جموں و کشمیر گرین مشن 2025‘‘J&K Green Mission قرار دیا گیا، جس کا مقصد کمیونٹی کی سطح پر ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری مہمات کو فروغ دینا ہے۔

سال2026-27 کے لیے دیہی شعبے میں سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 3,456 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جوسال 2025-26 کی نظرثانی شدہ رقم سے 40 کروڑروپے زیادہ ہیں۔
سیاحت
45َِ۔میری حکومت جموں و کشمیر میں سیاحت کو معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھتی ہے۔ سال کے دوران درپیش چیلنجز، جن میں پہلگام کا افسوسناک واقعہ اور اس کے بعد آنے والے سیلاب شامل ہیں، اس کے باوجود جموں و کشمیر میں 2025 کے دوران ایک کروڑ اکسٹھ لاکھ (1.61 Crore)سے زائد سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جو ہماری سیاحتی منزل پراعتماد اوراستقامت کی عکاسی کرتی ہے۔میں ایک پائیدار، جامع اور سال بھر جاری رہنے والی سیاحتی معیشت کی تشکیل کی تجویز پیش کرتا ہوں، جس میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ماحولیاتی تحفظ اور مقامی برادری کی شمولیت کے ساتھ متوازن رکھا جائے گا۔ ہماری توجہ عالمی معیار کے سیاحتی مقامات کی ترقی، سیاحتی سڑکوں کو مضبوط بنانے، اور وزارتِ سیاحت، حکومتِ ہند کی مالی و تکنیکی معاونت سے جموں و کشمیر کو ایک عالمی سیاحتی برانڈ (Global Tourism Brand)کے طور پر متعارف کرانے پر مرکوز ہوگی۔
46۔ ماحولیاتی انفراسٹرکچر کو ترجیح دیتے ہوئے گلمرگ میں 3.2 ایم ایل ڈی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ
(MLD)STPکی منظوری دی گئی ہے اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پلانٹ (Solid Waste Management Plant)کی بہتری کاکام شروع کی جا چکی ہے۔ سونمرگ میں بھی ایسے ہی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں تاکہ نازک ماحولیاتی نظام کا تحفظ ممکن ہو۔ حکومت شعبۂ ثقافت
(Culture department) کے ذریعے تاریخی ورثے اور مقدس مقامات کی بحالی پر بھی کام کر رہی ہے، جس کا مقصد ثقافتی شناخت کا تحفظ، سیاحت کے ذریعے مقامی معیشت کو فروغ اور کمیونٹی کے فخر کو مضبوط بنانا ہے۔
47۔ سرمائی کھیلوں، آبی کھیلوں اور ایڈوینچرسیاحت (Adventure Tourism)کے فروغ کے لیے ضروری ڈھانچے کی خریداری اور تعمیر کا عمل جاری ہے۔وُلر–مانسبل اور بنی–بسوہلی میں آبی کھیل(Water Sports) کی سہولیات تیار کی جا رہی ہیں۔
کھیل سیاحت کوحکمت عملی کے تحت منعقدکی جانے والی تقریبات کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے۔ کشمیر میراتھن اور جموں میراتھن جموں و کشمیر کو قومی اور بین الاقوامی کھیلوں کے نقشے پر نمایاں مقام دلا رہے ہیں۔ دوسری کشمیر میراتھن 2025 میں 3,000 سے زائد اندراج ہوئے ، جن میں 27 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور 11 ممالک کے شرکا ء شامل تھے۔ اس میگاایونٹ سے 2.11 کروڑ روپے اسپانسرشپ اور 0.20 کروڑ روپے رجسٹریشن فیس کی صورت میں حاصل ہوئے۔ سال 2026-27 میں نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے اشتراک سے ایک بین الاقوامی فلم فیسٹیول(International Film Festival) منعقد کرنے کا منصوبہ ہے، جو عالمی سینما کو جموں و کشمیر سے متعارف کرائے گا، ثقافتی تنوع کو فروغ دے گا اور مقامی معیشت کو تقویت دے گا۔
48۔ مستند اور فوری معلومات، مربوط بکنگ سہولیات اور مصنوعی ذہانت(AI) پر مبنی معاونت فراہم کرنے کے لیے جے کے ٹورزم موبائل ایپ (JK Tourism Mobile App)لانچ کی گئی ہے۔ یہ ایپ سیاحوں کے لیے مرکزی پلیٹ فارم بنے گی اور مقامی ہوٹلوں و کاروباری افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ Home Stay پالیسی کے تحت سیاحتی موسم میں رہائش کی کمی کو دور کیا گیا اور مقامی خاندانوں کو بااختیار بنایا گیا۔ کشمیر ڈویژن میں 1,600 سے زائد اور جموں صوبہ میں 300 سے زائد اندراج شدہ Home Stay قائم کیے گئے ہیں۔ جموں و کشمیر بینک کے تعاون سے ان منصوبوں کے لیے رعایتی مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
49۔ ہنر مندی اور کاروباری صلاحیتوں کی ترقی جموں و کشمیر میں روزگار کی حکومتی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے۔ نوجوانوں کو اعلیٰ مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے ایک جامع اسکل مشن شروع کرنے کی تجویز ہے، جس میں بنیادی تربیت، انٹرن شپ اور صنعت کے مطابق تکنیکی مہارت شامل ہوگی۔ اس مشن کے تحت پولی ٹیکنکس اور آئی ٹی آئیز(ITIs) کی درجہ بندی میں بہتری ،دورانِ ملازمت تربیتی مواقع اور تاحیات تعلیم پر زور دیا جائے گا۔

سال2026-27 کے لیے سیاحت اور امورِ نوجوانان(Youth Affairs) کے شعبے میں سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 472کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جوسال 2025-26 کی نظرثانی شدہ رقم سے61 کروڑروپے زیادہ ہیں۔
ثقافت(Culture)
50۔میری حکومت جموں و کشمیر کے بھرپور ثقافتی اور ورثہ جاتی اثاثوں کے تحفظ، بحالی اور فروغ کو اعلیٰ ترجیح دیتی ہے، کیونکہ یہ ہماری شناخت، تاریخ اور سیاحتی صلاحیت کا بنیادی حصہ ہیں۔
51۔سال 2026–27 کے دوران وراثت کے احیاء(Heritage Revival)،
Restoration and Maintenance اسکیم کے پہلے مرحلے کے تحت جاری تمام منصوبوں کی تکمیل کے لیے انتظام کیا گیا ہے، جبکہ فیز دوئم اور فیز سوئم کے منظور شدہ منصوبوں پر عمل درآمد کو تیز کرنے کے اقدامات بھی اُٹھائے جائیں گے۔ میں مزید تجویز پیش کرتا ہوں کہ ورثے کے تحفظ کو جامع انداز میں یقینی بنایا جائے، جس میں محکمہ سیاحت کے تحت جموں و کشمیر بھر میں ورثہ جاتی منصوبوں کی تکمیل اور سرینگر کے مغلیہ دور کے نشاط باغ کی قدر پر مبنی بحالی شامل ہو۔
52۔میں ایس پی ایس میوزیم کی جدیدکاری کو تیز کرنے، عوامی کتب خانوں کے نیٹ ورک کو مضبوط اور جدید بنانے، اور ثقافتی ڈھانچے کو ہمہ گیر بنانے کے لیے بانڈی پورہ، شوپیاں، اننت ناگ، کشتواڑ، ادھم پور، پونچھ اور بڈگام میں نئے ثقافتی مراکز کے قیام کی بھی تجویز پیش کرتا ہوں۔
53۔مزید برآں، (J&K Academy of Art,culture and Languages)اکادمی برائے فن،ثقافت اورلسانیات کے بجٹ میں اضافی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ ثقافتی پروگراموں اور قومی اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کی شمولیت کو فروغ دیا جا سکے، اور اس بات کو یقینی بنایا جا ئے گا کہ ہمارا ثقافتی ورثہ متحرک، قابلِ رسائی اور مستقبل سے ہم آہنگ رہے۔
محکمہ ثقافت (Culture department) کو مالی سال 2026-27 کے دوران سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 109 کروڑروپے مختص کئے گئے ہیں۔
صنعتیں
54۔ مشکل حالات کے باوجود سال2025-26 میں صنعتی شعبے نے نمایاں پیش رفت کی، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاس ہے۔ سال 2020 سے اب تک منظم شعبے میں2,227 صنعتی یونٹس نے پیداوار شروع کی، جن میں 15,940 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی اور 73,827 افراد کو روزگار ملا۔ دسمبر 2025 تک سرمایہ کاری کا حجم 5260 کروڑ روپے کی تاریخی سطح تک پہنچ گیا۔ نئی مرکزی شعبہ جاتی اسکیم (NCSS) کے تحت 28,400 کروڑ روپے میں سے 971 درخواستیں، جن میں 14,292 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری درج کی گئیں، جبکہ نئی اور توسیعی اکائیوں میں سے 87 فیصد نے پیداوار کا آغاز کر دیا ہے۔NCSS کے تحت 403 کروڑ روپے کے دعوے منظورکیے گئے جس کے بعد مجموعی منظوریوں کی رقم بڑھ کر840 کروڑروپے ہوگئی ہے ۔سال 2026-27 کے لیے NCSS کے بعد صنعتی ترقی کوبرقراررکھنے اور روزگارکے تسلسل اورآمدنی کے تحفظ کویقینی بنانے کی غرض سے جموں وکشمیرصنعتی پالیسی 2021-30 میں ترمیم کی تجویزکی گئی ہے۔
55۔میری حکومت درمیانے اور چھوٹے کاروباری اداروںایم ایس ایم ایز (MSMEs)کی معاونت اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کر رہی ہے۔ میں ایم ایس ایم ایز (MSMEs)کے لیے سیلف سرٹیفکیشن اسکیم (Self Certification Scheme) متعارف کرانے کی تجویز پیش کرتا ہوں، جس کے تحت کاروباری افراد کو اصولی طور پر ایک واحد منظوری دی جائے گی اور ضروری کلیئرنسز کے حصول کے لیے تین سال کی مہلت ہوگی، تاکہ وہ طریقہ کار کی تاخیر اور تعمیلی رکاوٹوں کے بغیر اپنے کاروبار کا آغاز کر سکیں۔
میں مزید تجویز پیش کرتا ہوں کہ بیمار ایم ایس ایم ایز کو نئی صنعتی اکائیوں کے برابر مراعات دی جائیں، تاکہ قابلِ عمل اداروں کی بحالی ممکن ہو، موجودہ روزگار محفوظ رہیں اور کاروبار کی بندشوں کو روکا جا سکے۔سی جی ٹی ایم ایس ای (CGTMSI)کریڈٹ گارنٹی فنڈ ٹرسٹ فار مائیکرو اینڈ اسمال انٹرپرائززکے تحت 10 لاکھ روپے تک کے قرضوں پر گارنٹی فیس کی واپسی کی منظوری دی گئی، جس کے لیے 41.30 کروڑ روپے مختص کئے گئے۔
نومبر 2025 میں جموں و کشمیر نے کاروبار کرنے میں آسانی(Ease of Doing Business)کے حوالے سے ملک بھر میں پانچواں درجہ حاصل ہوا۔
56۔ پہلی مرتبہ MSME ہیلتھ کلینک کا آغاز IIM جموں کے اشتراک سے کیا گیا، جس میں 417 اکائیوں کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ بیماری کے خطرے سے دوچار 70 MSMEs کی بحالی کے لیے مخصوص منصوبے زیرِ عمل ہیں۔ MSME کی باضابطہ رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں اُدیام رجسٹریشن 2021 میں 0.24 لاکھ سے بڑھ کر 2025-26 میں 5.85 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، اور 2027 تک 7.1 لاکھ اکائیوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ہمیں MSME تنازعات کے آن لائن اور بروقت حل کے لیے قومی MSEFC ایکسی لینس ایوارڈ حاصل ہوا ہے۔ اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم 2020 میں 69 سے بڑھ کر 2025-26 میں 1,342 اسٹارٹ اپس تک پہنچ چکا ہے، جن میں 490 خواتین کی قیادت میں قائم ادارے شامل ہیں۔
57 ۔ایک نئی اسٹارٹ اپ پالیسی لانچ کی گئی ہے اور 18 سٹارٹ اپس کو 20 لاکھ فی سٹارٹ اپ کے حساب سے سیڈ فنڈنگ منظور کی گئی ہے۔ بوٹ کیمپس اور آؤٹ ریچ پروگراموں کے ذریعے 1,100 سے زائد خیالات سامنے آئے ہیں۔ 2026-27 میں موجودہ صنعتی اسٹیٹس میں انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے اضافی بجٹ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ MSMEs کو مزید سہارا مل سکے۔ سری نگر اور جموں میں انکیوبیٹرز اور کو-ورکنگ اسپیسز کے ذریعے اسٹارٹ اپ سپورٹ کو مضبوط کیا جائے گا۔ دیہی خود روزگاری کو برقرار رکھنے کے لیے جموں و کشمیر رورل ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام (JKREGP) کے تحت مالی سال 2026-27 میں زیادہ رقم مختص کرنے کی تجویز ہے۔
58 ۔ہینڈلوم اور ہینڈیکرافٹس کا شعبہ براہِ راست اور بالواسطہ طور پر تقریباً 4.45 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے، جن میں اکثریت معاشی طور پر کمزور طبقات سے تعلق رکھتی ہے۔ GI سرٹیفکیشن کی صلاحیت میں پانچ گنا اضافہ کیا گیا ہے، 2025 میں آٹھ نئی دستکاریوں کو GI رجسٹریشن دی گئی، جبکہ 17 مزید آخری مراحل میں ہیں۔ ہم QR کوڈ پر مبنی سرٹیفکیشن اور جانچ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ ہمیں مسلسل دوسرے سال قومی ODOP گولڈ ایوارڈ حاصل ہوا ہے۔ آرٹیزن کریڈٹ کارڈ کی مکمل کوریج پر تیزی سے کام جاری ہے، اور 2025-26 کے دوران 1,011 کاریگروں کو 21.06 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ ہمارے چار کاریگروں کو قومی اعزازات سے نوازاگیا، جن میں شلپ گرو ایوارڈ(Shilp Guru Award) اور قومی ایوارڈ برائے دستکاری شامل ہیں۔
صنعت و دستکاری کے شعبے کے لیے 2026-27 میں 461 کروڑ روپے سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت مختص کیے گئے ہیں، جو 2025-26 کی نظرِ ثانی شدہ رقم سے137 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔
شعبۂ نقل و حمل (TRANSPORT)
59۔ جموں میں سڑکوں کی حفاظت کو پیشہ ورانہ بنانے کے لیے انسٹی ٹیوٹ آف ڈرائیونگ ٹریننگ اینڈ ریسرچ (Institute of Driving Training & Research)، کوٹ بھلوال میں رواں سال فعال کیا جائے گا۔ IDTR میں سات خودکار ڈرائیونگ ٹریکس اور جدید ترین مشینری نصب ہوگی، تاکہ ہر نیا ڈرائیور قومی حفاظتی معیارات کے مطابق تربیت حاصل کرے۔
60 ۔اس کے ساتھ ساتھ، گاڑیوں کی فٹنس اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ماحول کے تحفظ کے لیے آٹومیٹڈ ٹیسٹنگ اسٹیشنز (Automated Testing Stations) کی طرف منتقلی جاری ہے۔ اس ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے تحت بریکس، سسپنشن اور اخراج (Emissions) کی الیکٹرانک جانچ ہوگی، جو دستی فٹنس ٹیسٹنگ کی جگہ لے گی۔ نجی آپریٹرز کو رجسٹریشن سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں، اور پہلا ATS ستمبر 2025 سے فعال ہے۔ سانبہ میں واقع انسپیکشن اینڈ سرٹیفکیشن سینٹر کو جلد ہی سرکاری شعبے کے خودکار ٹیسٹنگ مرکز کے طور پر شروع کیا جائے گا۔
61 ۔جموں و کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (JKRTC) مسافروں، غذائی اجناس اور باغبانی مصنوعات کی بلِا تعطُل نقل و حمل فراہم کر رہی ہے، جس سے ایک قابلِ اعتماد عوامی ٹرانسپورٹ اور رسدوترسیل ادارے کے طور پر اس کا کردار مضبوط ہوا ہے۔ دیہی اور کم سہولت یافتہ علاقوں میں بین الضلعی نقل و حمل کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ قابلِ اعتماد، آرام دہ اور کم لاگت خدمات فراہم کی جا سکیں۔ 2026-27 میں JKRTC کی بحالی ایک اہم ترجیح ہوگی۔PM e-DRIVE
اسکیم کے تحت گرین موبیلیٹی اقدام کے طور پر 200 الیکٹرک بسیں شامل کی جائیں گی، جن پر اندازاً 350 کروڑ روپے لاگت آئے گی، اور پرانی ڈیزل بسوں کی جگہ جدید، زیرو ایمیشن گاڑیاں لائی جائیں گی۔ JKRTC کی تجارتی اور رسدوترسیل صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے کے لیے SASCI فنڈنگ کے تحت 75.70 کروڑ روپے کی لاگت سے 50 نئے ٹرک خریدے جائیں گے۔
نقل و حمل کے شعبے کے لیے 2026-27 میں سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 21 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

شعبہ ٔمعدنیات (MINING)
62 ۔اگرچہ ہمیں منفرد معدنی وسائل سے نوازا گیا ہے، لیکن ضروری ہے کہ ان کا استعمال شفاف اور پائیدار انداز میں کیا جائے۔
ہم Integrated Mining Surveillance System(IMSS) کو BISAG-N کے اشتراک سے نافذ کر رہے ہیں۔ یہ نظام سیٹلائٹ کی مدد سے کان کنی کے علاقوں کی نگرانی کرے گا، غیر قانونی کان کنی پر بر وقت خبردار کرے گا، اور انہیں فوری تصدیق اور قانونی کارروائی کے لیے نفاذی افسران کوباخبر کرے گا۔ IMSS کا پہلا مرحلہ فعال ہو چکا ہے اور اب تک 110 سے زائد الرٹس ٹیکنالوجی پر مبنی کارروائی کے لیے پیدا کیے جا چکے ہیں تاکہ غیر قانونی کان کنی پر قابو پایا جا سکے۔
63۔زمینی سطح پر نفاذ کو مضبوط بنانے کے لیے جموں و کشمیر بینک کے اشتراک سے ای۔چالان مشینیں متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ خلاف ورزی کرنے والوں کو موقع پر ہی چالان جاری کیے جا سکیں۔ جموں و کشمیر میں چونے کے پتھر (Limestone) کے سات معدنی بلاکس کی پہلی بار نیلامی کا عمل معدنی اصلاحات کے نفاذ میں ایک اہم قدم ہے۔ اس سے معدنی وسائل کی شفاف ڈیجیٹل نیلامی ممکن ہوگی اور ہماری آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
کان کنی سیکٹر کو 2026-27 کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 4 کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ 2025-26 کی نظرثانی شدہ مختص رقم سے 2 کروڑروپے زیادہ ہے۔
صحت اور طبی تعلیم
64۔ حالیہ برسوں میں صحت کے ڈھانچہ کی نمایاں بہتری نے عوامی صحت کی فراہمی اور طبی تعلیم کو بہتر بنایا ہے۔ 4,000 سے زیادہ صحت کے ڈھانچہ کی سہولیات تیار کی جا چکی ہیں، جن میں 15 میڈیکل کالج، دو AIIMS، اور 2 اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں۔
65۔ بون اینڈ جوائنٹ اسپتال، سری نگر میں 160 بستروں پر مشتمل نیا بلاک جس کی لاگت 140 کروڑروپے ہے کوجولائی 2025 سے فعال کر دیا گیا ہے۔ لمبیڑی (راجوری) میں 100 بستروں پر مشتمل زچہ وبچہ نگہداشت اسپتال کی کمیشننگ، ایس ڈی ایچ بلاور کو 100 بستروں کی سہولت کی سطح میں اضافہ کرنا، سندربنی میں 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر، نوشہرہ کے 100 بستروں والے ہسپتال کی بہتری، اور ریشی پورہ، بڈگام کے 125 بستروں والے ضلع ہسپتال کے کام کو تیز کیا گیا ہے۔
66۔ تشخیص کو مضبوط بنانے کے لئے نئے جی ایم سیز (GMCs)میں 1.5 ٹیسلا ایم آر آئیز اور جی ایم سی جموں، جی ایم سی سری نگر اور سکمز میں 3 ٹیسلا ایم آر آئیز کی تنصیب کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ تنصیب کی سی ٹی اسکین مشینوں کی تنصیب بڑے ہسپتالوں میں جاری ہے، جیسے ڈی ایچ بڈگام، ایس ایس ایچ سری نگر، ڈی ایچ پونچھ، ایس ایم جی ایس جموں، سی ڈی اسپتال جموں اور ایس ایم ایچ ایس سری نگر۔ اس اقدام کو مزید وسعت دی جائے گی۔ پی ای ٹی اسکین سہولیات جی ایم سی سری نگر میں نصب کی جائیں گی اور 2026–27 کے دوران کینسر کی تشخیص کو بہتر بنانے کے لیے اسے جی ایم سی کٹھوعہ تک توسیع دی جائے گی۔
67۔ موبائل میڈیکل یونٹس اور موبائل ڈینٹل یونٹس دور دراز علاقوں میں رسائی بہتر بنانے کے لیے تجویز کیے گئے ہیں۔ صحت ایپ (SEHAT APP)کو صحت کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے لانچ کیا گیا ہے تاکہ خدمات، فراہم کنندگان اور مریضوں کو ایک واحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر مربوط کیا جا سکے۔ 16 لاکھ سے زیادہ صارفین نے ایپ پر فوائد حاصل کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ڈیجیٹل ہیلتھ اور ریموٹ کیئر کوبہتر کیا جا رہا ہے 32 کروڑروپے کی فراہمی کے ساتھ 80 ٹیلی میڈیسن سینٹرز قائم کرنے اور دور دراز علاقوں میں کلینیکل مشاورت کو ممکن بنانے کے لیے۔ ڈی ایڈکشن OPDsفعال ہیں اور 6 نئی سہولیات ڈی ایڈکشن سپورٹ کو بڑھانے کے لیے زیرِ تعمیر ہیں۔
68۔ رکھ ۔ہوشیاری، کٹھوعہ میں ہومیوپیتھک کالج اور امرگڑھ، سوپور میں آیورویدک کالج کی تعمیر 2026–27 میں شروع کی جائے گی تاکہ آیوش تعلیم اور نگہداشت کے اختیارات کو وسعت دی جا سکے۔ آیوش خدمات کے لیے مختص تمام 523 آیوشمان آروگیا مندر پورے یو ٹی میں مکمل طور پر فعال ہو چکے ہیں، جو آیوش علاج اور احتیاطی صحت کی مداخلتیں فراہم کر رہے ہیں۔ آیوش انفراسٹرکچر کو جموں میں 10 بستروں والے انٹیگریٹڈ آیوش اسپتال اور کُلگام میں گورنمنٹ آیورویدک اسپتال کو کمیشن کر کے وسعت دی گئی ہے۔
69۔ طبی تعلیم کی استعداد کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ موجودہ سال کے دوران 548 میڈیکل نشستیں شامل کی جائیں گی، جن میں 340 ایم بی بی ایس(MBBS)، 128 پی جی، 34 پی جی (آیوروید) اور 46 ڈی این بی نشستیں شامل ہیں۔ ایمس (AIIMS)کشمیر کو جون 2026 تک کمیشن کیا جائے گا۔ جی ایم سی سری نگر اور جی ایم سی جموں میں ہر ایک کو 20 اضافی ایم بی بی ایس نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ مزیدیہ کہ جی ایم سی ڈوڈہ، جی ایم سی اننت ناگ، جی ایم سی بارہمولہ اور جی ایم سی کٹھوعہ میں ہر ایک کو 50 اضافی MBBS نشستیں مختص کی گئی ہیں، اس طرح طبی پیشہ ور افراد کے ذخیرے میں اضافہ ہوگا۔ معیاری نرسنگ تعلیم کو 10 نرسنگ کالجوں میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری کے ذریعے بہتر بنایا جائے گا۔ 240 ایم بی بی ایس اور 120 پی جی نشستوں کی بے مثال منظوری کے ساتھ، مالی سال 2026–27 میں تمام GMCs کے ڈھانچوں کو 216.00 کروڑروپے کے بجٹ سے مضبوط بنایا جائے گا۔
ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن سیکٹر کو 2026-27 کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 1866کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں۔
سکول اور اعلیٰ تعلیم
70۔ تعلیم کے شعبے میں انقلابی اصلاحات کی گئی ہیں تاکہ قومی تعلیمی پالیسی (NEP) کے جامع نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ابتدائی بچپن تعلیم کو مضبوط بنانے کے لیے 15,550 اسکولوں میں پری پرائمری کلاسیں شروع کی گئی ہیں۔ ہم نے بچوں کے موافق ڈھانچے کے ساتھ 5,000 کنڈرگارٹنز قائم کرنے کے لیے 30 کروڑروپے مختص کیے۔ 2025–26 میں 1,735 کنڈرگارٹنز قائم کیے گئے اور 7,672 اسکولوں کو بچوں کے موافق فرنیچر فراہم کیا گیا۔ مزید برآں، سمگر شکشا کے تحت 122 کروڑروپے لاگت کی 188 جدید کنڈرگارٹن عمارتوں کی منظوری دی گئی ہے۔
71۔ اسکولوں کے ڈھانچے کو بہتر کیا جا رہا ہے جس میں 396 سکولوں کوPM-SHRIکے تحت مثالی اسکولوں کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ مزیدیہ کہ 160 کروڑروپے مالیت کے 762 اضافی درسی کمرے(Class Rooms) کی منظوری دی گئی ہے۔ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کے فروغ کے لیے 2,036 اسکولوں میں آئی سی ٹی(ICT) سہولیات قائم کی جائیں گی۔ سمگر شکشا اور پی ایم-شری کے تحت 4,200 اسمارٹ کلاس رومز (Smart Class Rooms)کو فعال کیا جا رہا ہے۔ جدت کی صلاحیت کو جاری 172 اٹل ٹنکرنگ لیبز اور مجوزہ 500 اے ٹی ایل کے ساتھ بڑھایا جا رہا ہے۔
72۔ ہنرمندی سے منسلک تعلیم اور طرزِ حکمرانی کی اصلاحات ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ 554 اسکولوں میں ووکیشنل تعلیم متعارف کرائی گئی ہے، جس میں 2,294 ووکیشنل ٹرینرز ہیں۔ مزید برآں، 2,214 ووکیشنل لیبز(Vocational Labs) نفاذ کے مرحلے میں ہیں۔ تدریسی صلاحیت کو 594 لیکچرر کی خالی آسامیوں کو بھرتی کے لیے بھیج کر بہتر بنایا جا رہا ہے۔ مزیدیہ کہ 2,217 اسکولوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ نگرانی اور تعلیمی نتائج کو بہتر بنانے کے لیے ضلع ودیا سمیکھشا کیندرز تعلیمی تجزیات کے لیے قائم کیے جا رہے ہیں۔
73۔ ہماری حکومت کی جانب سے شروع کی گئی اصلاحات کے نتیجے میں 2025–26 کے اسکولی تعلیمی نتائج میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس میں جماعت 10 اور 12 کے پاس ہونے کی شرح تقریباً 85 فیصدتک پہنچ گئی ہے، جو حالیہ برسوں کی بہترین کارکردگیوں میں سے ایک ہے۔ اعلیٰ کارکردگی کی حامل طالبات کی کامیابی کی شرح 86 فیصدرہی جبکہ سرکاری اسکولوں کی کارکردگی میں قابل ذکر اضافہ ہوا۔
74۔ میری حکومت اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اہم اقدامات کر رہی ہے تاکہ ہمارے نوجوان ہنرمند اور مسابقتی بن سکیں۔ چار سالہ انڈرگریجویٹ (FYUG) پروگرام تمام ڈگری کالجوں میں عام کیا جا رہا ہے۔ جماعت دہم، یازدہم اور دوازدہم کے 34.50 لاکھ طلبہ کا ریکارڈ ڈیجی لاکر پرJKBOSE کی جانب سے ڈیجیٹل تبدیلی کے اقدام کے حصے کے طور پر اپ لوڈ کیا گیا ہے۔ مزیدیہ کہ 74 سرکاری ڈگری کالجوں کو این اے اے سی(NAAC) منظوری کے ساتھ بہتر کیا گیا ہے۔ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے جموں اور کشمیریونیورسٹیوں کے انفراسٹرکچر کو روسا 1.0 اور 2.0 کے تحت معاونت کے ساتھ مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
75۔ محکمۂ اعلیٰ تعلیم کے کلیدی اقدامات اور ترجیحات یو نیورسٹیوں اور کالجوں کے لیے کلاس رومز(درسی کمروں)، لیبارٹریوں اور لائبریریوں کی ترقی، خود مختار اور ملحقہ کالجوں کی بہتری، اور ان کے کھیلوں کے ڈھانچے کی ترقی اوربہتری پر مرکوز ہوں گی۔ جموں و کشمیر کے تمام کالج اساتذہ اور طلبہ کے لیے نیشنل ڈیجیٹل لائبریری آف انڈیا (این ڈی ایل آئی) تک رسائی فراہم کر رہے ہیں۔ پائیداری کے اقدام کے تحت 494 عمارتوں کو کل 50 کروڑ کی لاگت سے شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی تجویز ہے۔
76۔ اگلے مالی سال 2026–27 کے دوران جی ڈی سی کاککریال کٹرا، GDC زینہ پورہ، GDC وائیلو لارنو، GDC تلیل ، GDC چہنینی ، اور جموں میں کالج آف انجینئرنگ کے آرکیٹیکٹ کالج کی پانچ عمارتوں کو فعال بنایاجائے گا۔ مزیدیہ کہ GDCفریسل، GDC قاضی گنڈ، GDC درہال، GDC ویری ناگ، اورGDC مجالتہ میں عمارتوں کی تعمیر 2026–27 کے دوران مکمل کی جائے گی۔ GDC کنجوانی، منڈی، اجاس، ڈوڈو بسنت گڑھ، مرہین، رام کوٹ، اور بٹوت کے سرمایہ جاتی پروجیکٹس کو تیز کیا جا رہا ہے۔
77۔اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھانے اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے نجی جامعات کے قیام سے متعلق ایک پالیسی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ تحقیقی صلاحیت کو وسعت دینے کے لیے جموں ڈویژن میں چار اور کشمیر ڈویژن میں تین ریسرچ ہبس کو این ای پی کے اہداف کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ مضبوط تحقیقی نظام کی تعمیر کے لیے 22 لیڈ ریسرچ کالجوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں این ای پی معیارات کے مطابق لیبارٹریوں اور تعلیمی بنیادی ڈھانچے سے آراستہ کیا جائے گا۔
سکول اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو 2026-27 کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 513کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں۔
سائنس اور ٹیکنالوجی
78۔ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک انقلابی اقدام کریں گے جس کے تحت 30 کروڑروپے کی سرمایہ کاری کر کے کٹھوعہ اور ہندواڑہ میں دو غیر فعال انڈسٹریل بایوٹیکنالوجی پارکس کو فعال بنایا جائے گا۔ یہ SKAUST-Jammu اورSKAUST-Kashmir کے ساتھ ادارہ جاتی شراکت داری سے فائدہ اٹھائے گا اور ان پارکس کو جدید آلات اور مستند سائنسی عملے سے آراستہ کر کے انہیں متحرک تحقیق اور کاروباری مراکز میں تبدیل کرنے میں مدد دے گا۔ یہ بایوٹیکنالوجی اختراعی نظام معیشت میں 1,000 کروڑروپے کی قدر پیدا کرے گا اور اعلیٰ قدر والی سائنسی ملازمتیں پیدا کرے گا۔
79۔ پی ایم-کسم (PM-KUSUM)کے تحت 5,000 شمسی زرعی پمپ نصب کیے جا چکے ہیںجن کے ذریعے تقریباً 14 ہزارایکڑ رقبہ سیراب ہورہاہے جبکہ ان کی مجموعی صلاحیت 14 میگاواٹ ہے۔ اس سے ہر کسان کوسالانہ اوسطاً تقریباً 18,000 روپے کی بچت ہوگی۔ ڈیزل کے استعمال کو کم کرنے کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے زرعی پمپوں کی توسیع کے لیے پی ایم-کسم 2.0 کے تحت 20 کروڑروپے کی رقم تجویز کی گئی ہے۔
80۔ سرکاری شعبے میں 2,725 عمارتوں کو 39 میگاواٹ صلاحیت کے ساتھ شمسی بنایا گیا ہے جس سے خاطر خواہ مالی بچت حاصل ہو رہی ہے۔ مزیدیہ کہ 35 میگاواٹ صلاحیت کے 13 چھوٹے ہائیڈرو پاور پروجیکٹس آئی پی پی موڈ کے ذریعے عمل درآمد میں ہیں۔ صاف توانائی کی جامع منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے ہم 100 قبائلی دیہات کو سولر ویلیجز(Solar Villages) کے طور پر مکمل کرنے کی تجویز رکھتے ہیں۔ ہم نے قبائلی علاقوں میں توانائی تک رسائی اور صحت کے نتائج بہتر بنانے کے لیے 15,000 دھواں سے پاک چولہے اور 11,200 شمسی گھریلو روشنی کے نظام تقسیم کیے ہیں۔
81۔ ہم اس وقت 274 جاری تحقیقی وترقیاتی (RRD) منصوبوں کی معاونت کررہے ہیں اوراعلیٰ تعلیم وتحقیق کی حمایت کے لیے +2 سطح سے لے کر Ph.D تک طلباء کو 130 وظائف(Scholarships) فراہم کررہے ہیں ۔ابھرتے ہوئے شعبوں میں ہنرمندافرادی قوت کی تیاری کے لیے ہم قابل تجدیدتوانائی ،صاف ٹیکنالوجیز اوربائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں تقریباً0 200 نوجوانوں کے لیے مہارتوں کی تربیت اورروزگارسے جوڑنے (Placement Linkages)کی تجویزپیش کرتے ہیں۔
82۔ ایک بڑا مجوزہ اقدام 15 میگاواٹ کے ہائبرڈ سولر پارکس کا قیام ہے تاکہ عوامی سہولت کی شمسی تنصیب کے لیے مکمل تیارشدہ بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جا سکے۔ اس سے منصوبوں کے خطرات کم ہوں گے اور شمسی منصوبوں کی تیز تر تکمیل ممکن ہوگی۔ صاف ٹیکنالوجی کو اپنانے میں تیزی لانے کے لیے ہم الیکٹرک وہیکل چارجنگ ڈھانچے کی توسیع کی تجویز رکھتے ہیں، جس میں شمسی بنیادوں پر چارجنگ اسٹیشنز اور موزوں سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن شامل ہے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو 2026-27 کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 177کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں، جو 2025-26 کی نظرثانی شدہ مختص رقم سے 42 کروڑروپے زیادہ ہے۔
کھیل
83۔ میری حکومت کھیل، ثقافت، فٹنس اور شہری شمولیت کے لیے مربوط طریقۂ کار کے ذریعے نوجوانوں کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے جدید کھیلوں کا ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اب تک 2 سینٹرز آف ایکسی لینس اور 92 کھیلو انڈیا سینٹرز قائم کئے جا چکے ہیں۔
84۔ ڈیجیٹل سہولت کاری کو عملی بنایا جائے گا تاکہ مائی بھارت پورٹل(My-BHARAT Portal) پر نوجوانوں کی رجسٹریشن 5.5 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ تک کی جا سکے۔ ہمارا مقصد ایک ڈیجیٹل ایتھلیٹ نظام قائم کرنا ہے جس میں منفرد شناختی کارڈز، کارکردگی ڈیش بورڈز، تصدیق شدہ سرٹیفکیٹس اور بنیادی سطح سے اعلیٰ سطح تک ٹریکنگ شامل ہو۔ ایک منظم ٹورنامنٹ راستہ ادارہ جاتی بنا دیا گیا ہے اور اب 15.39 لاکھ سے زائد طلبہ مختلف سطحوں پر حصہ لے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 2,500 کھلاڑی قومی اسکول کھیلوں میں جموں وکشمیر کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
85۔ جموں و کشمیر نے اپنے فلیگ شپ ونٹر اسپورٹس پروگرام کے پانچویں ایڈیشن کا کامیابی سے انعقاد کیا، جس سے بھارت کے نمایاں سرمائی کھیلوں کے دارالحکومت کے طور پر اس کی پوزیشن مضبوط ہوئی۔ ہم نے پہلی بار کھیلو انڈیا واٹر اسپورٹس فیسٹیول کی بھی میزبانی کی، جس سے روئنگ، کائیکنک اور دیگر آبی کھیلوں کے شعبوں کو نئی رفتار ملی۔ تیسرے ایشیائی پنچک سِلات چیمپئن شپ کی میزبانی، جس میں 12 سے زائد ممالک کے تقریباً 300 کھلاڑیوں نے حصہ لیا، نے جموں وکشمیر کی تنظیمی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
86۔ جموں وکشمیر کے کھلاڑیوں نے شاندار نتائج دیے، جن میں 69ویں نیشنل اسکول گیمز میں 11 طلائی، 9 چاندی اور 18 کانسی کے تمغے شامل ہیں اور بین الاقوامی مقابلوں میں بھی نمایاں کارکردگیاں دکھائیں جن میں پیرس 2024 پیرا لمپکس شامل ہیں۔
87۔ دسمبر 2025 تک 29 لاکھ سے زائد نوجوانوں کی شمولیت یقینی بنائی گئی، جس میں کھیلوں کی بڑی تعداد میں سرگرمیاں شامل تھیں، جن میں 1 قومی ایونٹ(تقریب)، 20 یو ٹی سطح کی چیمپئن شپس، 5 بڑی لیگز اور 338 کمیونٹی اسپورٹس پروگرام شامل ہیں، اس کے ساتھ نمایاں تقریبات جیسے جموں سائیکلو تھون، فٹبال اور کرکٹ پریمیئر کپ، ساؤتھ کشمیر والی بال لیگ، سنو فیسٹیولز اور چھٹا کھیلو انڈیا ونٹر گیمز 2026 جو گلمرگ اور سری نگر میں منعقد ہوئے۔
کھیل اور امورِ نوجوانان (Youth Affairs)کے شعبے کو 2026-27 کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 155کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں، جو 2025-26 کی نظرثانی شدہ مختص رقم سے17 کروڑروپے زیادہ ہے۔

محنت و روزگار
88۔کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے روزگار کی فراہمی اس حکومت کی ایک اہم ترجیح ہے۔ جموں و کشمیر بھر میں منظم انداز میں خود روزگاری کو فروغ دینے کے لیے ہم نے مشن یووا کا آغاز ایک مشن موڈ اقدام کے طور پر کیا ہے، جو 4-C فریم ورک کلچر، کیپسٹی، کیپیٹل اور کنیکٹیویٹی پر مبنی ہے۔ مشن یووا نے نچلی سطح تک وسیع اور مؤثر رسائی حاصل کی ہے۔
89۔مشن یووا ایپ کو تقریباً دو لاکھ ڈاؤن لوڈز حاصل ہوئے ہیں، اور یونین ٹیریٹری کی تقریباً 95 فیصد پنچایتوں سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اب تک تقریباً 70,000 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، اور ضلعی سطح پر مضبوط ادارہ جاتی نظام کے ذریعے 53,000 تفصیلی پراجیکٹ رپورٹس (DPRs) تیار کی جا چکی ہیں۔ ضلعی سطح پر 20 اسمال بزنس ڈیولپمنٹ یونٹس، سب ڈویژن سطح پر 80 بزنس ہیلپ لائن ڈیسک، اور نچلی سطح پر 2,000 یووا دوت درخواست گزاروں کی مسلسل رہنمائی کر رہے ہیں اور کاروباری سفر کے ہر مرحلے میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
90۔اس منظم طریقہ ٔکار کے نتیجے میں 47,000 درخواستوں کو ضلعی سطحی عمل درآمد کمیٹیوں نے منظور کیا ہے، جبکہ 16,500 کاروباری منصوبوں کو بینکوں نے منظوری دے دی ہے اور تقریباً 800 کروڑ روپے کی رقم پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے۔ مزید 20,000 درخواستیں بینکوں میں زیرِ عمل ہیں اور جلد منظوری کی توقع ہے۔ بینکوں کی جانب سے واپس کی گئی درخواستوں کو ایک سہولت کار، غیر مستردی نظام کے تحت دوبارہ عمل میں لایاگیا ہے، جس کی معاونت ایک مخصوص بزنس ہیلپ لائن کرتی ہے۔
91۔صلاحیت سازی (Capacity Building)مشن یووا(Mission Yuva) کا بنیادی حصہ ہے۔ 8,000 سے زائد نوجوان کاروباری افراد باقاعدہ تربیت مکمل کر چکے ہیں، جبکہ مزید 5,000 اس وقت انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگراموں میں شریک ہیں۔ شفافیت، مؤثریت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے مشن یووا ایک جامع ڈیجیٹل ڈیش بورڈ سے تقویت یافتہ ہے جو درخواستوں اور نتائج کی حقیقی وقت میں نگرانی ممکن بناتا ہے۔
92۔مشن یووا ایپ ایک جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہے، جو کاروبار شروع کرنے، اے آئی کی مدد سے ڈی پی آر تیار کرنے، ڈی پی آر ذخیرے تک رسائی، مہارت سیکھنے کے مراکز، صلاحیت سازی کورسز میں اندراج، کیریئر کونسلنگ اور ملازمت سے متعلق خدمات فراہم کرتی ہے۔ مارکیٹ تک رسائی کو او این ڈی سی (ONDC)پر مبنی سیلر پلیٹ فارم کے ذریعے مضبوط بنایا جا رہا ہے، جو پہلے ہی فعال ہے۔
آنے والے سال میں حکومت مناسب بجٹ فراہمی کے ساتھ ہنر مندی، قرضہ جاتی سہولیات اور مارکیٹ لنکیج اقدامات کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے مشن یووا کو مزید وسعت دے گی۔ مشن یووا نوجوانوں کو روزگار پیدا کرنے والا بنانے اور جموں و کشمیر میں خود کفیل اور مضبوط معیشت کی تعمیر کے لیے حکومت کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
جموں و کشمیر میں سکلنگ ایکوسسٹم کی تبدیلی
93۔جموں وکشمیرمیں ہنرمندی کے نظام کی تشکیل نو، جموں وکشمیرمیں سرکاری روزگارکی حکمت عملی کاایک بنیادی ستون ہے ۔ ایک جامع چار-ٹریک اسکل اور انٹرپرینیورشپ فریم ورک اپنایا گیا ہے، جس میں اسکولی سطح پر بنیادی مہارتوں کی تربیت؛ نوجوانوں کے لیے کیریئر لانچ پیڈ کے تحت گریجویشن کے ساتھ چھوٹی مدت کی مہارتیں، انٹرن شپس، پلیسمنٹ سپورٹ اور قابلِ رسائی کوچنگ؛ مجوزہ Skill یونیورسٹی کے تحت پولی ٹیکنکس کی تنظیم نو کے ذریعے صنعت سے ہم آہنگ تکنیکی مہارتیں، پی ایم-سیٹو (PM-Setu)کے تحت آئی ٹی آئیز کی بہتری، اور پی ایم-نیپس (PM-NAPs)کے تحت آن دی جاب (on-the-job)ٹریننگ کو مضبوط بنانا؛ نیز ماڈل اسکل سینٹرز اور حکومتِ ہند کے اقدامات کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے مسلسل مہارت میں اضافہ اور تاحیات سیکھنے کے مواقع شامل ہیں۔
ان تمام اقدامات کو ایک مضبوط نظام کی معاونت حاصل ہوگی، جس میں منظم پلیسمنٹ میکانزم، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور پوڈکاسٹس کے ذریعے کیریئر رہنمائی، سالانہ اسکل کنووکیشن، اور ودیا سمیکھشا کیندر کی طرز پر اسکل سمیکھشا کیندر شامل ہوں گے۔ اسکل اسکور اور اسکل پاسپورٹ کے اجراء سے شفاف جانچ، مہارتوں کی منتقلی کی سہولت، اور نوجوانوں کے لیے بہتر روزگار کے مواقع یقینی بنائے جائیں گے۔
94۔نئی مرکزی سکیم کے تحت 5 نئے آئی ٹی آئیز کو ہب آئی ٹی آئیز کے طور پر ترقی دی جائے گی، جو جدید تکنیکی تربیت، اعلیٰ درجے کی مہارت سازی، اور صنعت سے منسلک پیشہ ورانہ تعلیم کے لیے مخصوص مراکز کے طور پر کام کریں گے۔
95۔ مزدوروں کی فلاح و بہبود اور شکایات کے ازالے کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک ٹول فری ہیلپ لائن’’شرم مترا‘‘”Shram Mitra” (18008905457) قائم کی گئی ہے تاکہ کارکنوں کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔ مزدوروں کی نقل و حرکت اور سماجی تحفظ کے لیے ڈھانچے کو بھی ونپوہ (اننت ناگ) اور راجوری میں نئی مزدور سرائے کی تعمیر کے ذریعے بہتر بنایا جا رہا ہے، ساتھ ہی مزدور سرائے کٹھوعہ کی بہتری کی جا رہی ہے تاکہ مہاجر مزدوروں کے لیے محفوظ رات کا ٹھکانہ فراہم کیا جا سکے۔ واشبگ (پلوامہ) اور بڈگام میں اضافی مزدور سرائے، اور نوشہرہ میں ایک ماڈل مزدور سرائے بھی منصوبہ بندی میں شامل ہیں۔
محنت و روزگار کے شعبے کو 2026-27 کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت244 کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں، جو 2025-26 کی نظرثانی شدہ مختص رقم سے 98 کروڑروپے زیادہ ہے۔

مہاجرین کی زندگی میں بہتری
96۔ میری حکومت کشمیری مہاجر خاندانوں کی باز آبادکاری اور فلاح و بہبود کے لیے پُرعزم ہے۔ ہم کشمیری مہاجر سرکاری ملازمین کے لیے 6,000 ٹرانزٹ رہائش گاہوں کی تعمیر کو تیز کر رہے ہیں۔ اب تک مکمل شدہ 4,096 فلیٹوں میں سے 3,250 فلیٹ مختص کیے جا چکے ہیں۔ موجودہ مالی سال کے دوران 944 فلیٹ مکمل کیے گئے ہیں اور ہم 2026–27 کے دوران ہدف شدہ 1,200 فلیٹوں کو مکمل کرنے کی تجویز رکھتے ہیں۔
97۔ سُکیتَر، جموں میںPoJK بھون کی تکمیل 2026–27 کے دوران متوقع ہے۔ تکمیل کے بعد یہ PoJK اور مغربی پاکستان سے بے دخل افراد کی ثابت قدمی کو ایک مضبوط خراجِ تحسین کے طور پر ابھرے گا۔ جگتی منی ٹاؤن شپ، جموں میں ملٹی پرپز کمیونٹی ہال جلد کمیشن کیا جائے گا تاکہ مہاجر برادریوں کی فلاح کو آگے بڑھایا جا سکے۔
98۔ میری حکومت مہاجر خاندانوں کے لیے باوقار رہائشی حالات اور بنیادی خدمات تک بلِا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنانے کے لیے بھی مضبوطی سے پُرعزم ہے۔ اس سمت میں ہم جموں اور تمام ٹرانزٹ کیمپوں میں مہاجر کالونیوں میں شہری اور بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کا ہدف رکھتے ہیں۔ ہم آیوشمان بھارت – (SEHAT) صحت بیمہ اسکیم کے فوائد کو مہاجر خاندانوں تک بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم مہاجرین کے لیے ضروری دستاویزات تک رسائی کو آسان اور تیز کرنے کے لیے ڈیجیٹل سروس ڈیلیوری کو مضبوط کریں گے۔
99۔ مہاجرین کے لیے اہم سرٹیفکیٹس کے اجرا، رجسٹریشن اور مہاجر املاک سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے ایک مخصوص آن لائن پلیٹ فارم قائم کیا گیا ہے۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہے کہ اس ڈیجیٹل اقدام کے ذریعے اب تک 1.64 لاکھ سے زائد ڈومیسائل سرٹیفکیٹس، 36,541 مہاجر سرٹیفکیٹس، 2,325 آر بی اے سرٹیفکیٹس، 1,597 ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹس، اور 2,789 انکم سرٹیفکیٹس کشمیری مہاجرین کو جاری کیے جا چکے ہیں۔ مزیدیہ PoJK سے تعلق رکھنے والے کشمیری مہاجرین اور بے دخل افراد کو 14,619 رجسٹریشن سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے ہیں، جس سے مہاجر برادری کو بااختیار بنایا جا رہا ہے۔
غذائی تحفظ کو یقینی بنانا
100۔ اسمارٹ پی ڈی ایس(Smart PDS) کو 2026-27 میں نافذ کرنے کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنایا جا سکے، رساؤ لیکیج(Curb Leakage) پر قابو پایا جا سکے اور جموں و کشمیر میں ضروری اشیائے خورد و نوش کی تقسیم میں شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔ سماجی تحفظ کے ایک اہم اقدام کے طور پر حکومت نے یکم اپریل 2025 سے تمام اے اے وائی (AAY) مستفیدین کو فی کس 10 کلوگرام مفت راشن فراہم کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے ذریعے سب سے زیادہ کمزور گھرانوں کے لیے غذائی معاونت میں اضافہ یقینی بنایا گیا ہے۔
101۔ وعدے کے مطابق اہل اے اے وائی مستفیدین کو اضافی غذائی اجناس پہلے ہی مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ مزید برآں، رسائی کو بہتر بنانے اور تقسیم کے نظام کو ہموار کرنے کے لیے مناسب قیمت کی دکانوں کو بہتر کیا جا رہا ہے، جس سے ایک مؤثر، جامع اور شہری مرکز غذائی تحفظ کے نظام کے لیے ہمارے عزم کو تقویت ملتی ہے۔
فوڈ اینڈ سول سپلائی شعبے کے لیے 2026-27 کے دوران سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 331 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ 2025-26 کی نظرثانی شدہ رقم کے مقابلے میں 57 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔

قبائلی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا
102۔ میری حکومت تعلیم، رہائش، دیہی بنیادی ڈھانچے اور ذریعۂ معاش کو مضبوط بنا کر قبائلی فلاح و بہبود کو جامع انداز میں یقینی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس وقت 28 قبائلی ہوسٹلوں جن کی گنجائش تقریباً 2,900 طلبہ کی ہے، مفت رہائش، کھانا اور تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 26 ہوسٹل زیرِ تعمیر ہیں۔ آئندہ مہینوں میں ہم ایسے 10 ہاسٹلز کو فعال کریں گے۔
6 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول(EMRS) فعال ہیں اور 260 سے زائد چھوٹے کلاس روم قائم کیے جا چکے ہیں۔ پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم بدستور ایس ٹی طلبہ کو فائدہ پہنچا رہی ہے اور تعلیمی رسائی اور طلبہ کی برقرار ی (Retention) کو بہتر بنا رہی ہے۔
103۔ دھرتی آبا جنجاتیہ گرام اتکرش ابھیان کے تحت، 20 اضلاع میں 393 قبائلی اکثریتی دیہات کو شامل کیا گیا ہے، جس میں 2025–26 کے دوران ڈھانچے اور متعلقہ کاموں کے لیے 39.21 کروڑروپے جاری کیے گئے۔ تقریباً 1,500 منی بھیڑ، بکری اور ڈیری یونٹوں، کے ساتھ ساتھ 10 Milk Villages اور 3 ملک چلنگ پلانٹس (Milk Chilling Plants)کے ذریعے روزگار کے ذرائع مضبوط بنائے جا رہے ہیں۔ خانہ بدوش اور ٹرانس ہیومنٹ قبائل کے لیے نقل مکانی کے راستوں پر 7 عارضی رہائشی یونٹ زیرِ تعمیر ہیں، جن میں سے 2 مکمل ہو چکے ہیں۔
104۔ جنجاتیہ گورو دیوس 15 نومبر 2025 کو ضلع پونچھ کے مینڈھر میں، جو بھارت کا سرحدی ضلع ہے، قبائلی مجاہدِ آزادی شری برسا منڈا کی 151ویںیومِ پیدائش کی یاد میں منایا گیا۔ ٹرائبل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کھمبیر، سری نگر سرویز، بنیادی مطالعات، اثرات کے جائزوں اور قبائلی ثقافت، زبان اور ورثے کی دستاویز بندی کے ذریعے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی حمایت کر رہا ہے۔ فارسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آراے) Cells کو یو ٹی اور ضلع سطح پر 3.77 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم کیا جا رہا ہے تاکہ فارسٹ رائٹس ایکٹ کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔
قبائلی امور کے شعبے کو 2026-27 کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 235 کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں۔
سماجی تحفظ اور خواتین کو بااختیار بنانا
105۔ ہم نے اِنٹگریٹیڈ سوشل اسسٹنس اسکیم (آئی ایس ایس ایس)اور نیشنل سوشل اسسٹنس پروگرام (این ایس اے پی) کے ذریعے کمزور اور مالی طور پر پریشان گھرانوں کے لیے سماجی تحفظ کے دائرے کو وسعت دی ہے۔ 2025–26 میں پنشن کے دائرہ کار کو بڑھایا گیا اور نئے اہل اراکین شامل کیے گئے۔ میری حکومت نے ماہانہ پنشن کی شرح کو 60 سال سے کم عمر مستحقین کے لیے 1,000روپے سے بڑھا کر 1,250روپے کیا، 60 سے 80 سال عمر والوں کے لیے 1,500روپے کیا، اور 80 سال اور اس سے زیادہ عمر والوں کے لیے 2,000روپے کیا۔
106۔ سماجی پنشن سے مستفید بزرگ افراد، بیواؤں اور معذور افراد کی تعداد مارچ 2024 میں 7.35 لاکھ سے بڑھا کر جنوری 2026 میں 10.19 لاکھ کر دی گئی۔ ان میں سے 8.83 لاکھ مستفیدین انٹیگریٹڈ سوشل سکیورٹی اسکیم (Integrated Social Security Scheme)کے تحت اور 1.36 لاکھ نیشنل سوشل اسسٹنس پروگرام (NSAP) کے تحت ہیں۔ سالانہ پنشن اخراجات کو 1,209روپے کروڑ سے بڑھا کر 1,755روپے کروڑ کیا گیا، جس سے سب سے زیادہ کمزور شہریوں کے لیے زیادہ مالی تحفظ اور وقار یقینی ہوا۔ ہم مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر معذوری پنشن میں مزید 25 فیصداضافہ کریں گے، جس سے 1.62 لاکھ سے زائد پنشنر مستفید ہوں گے۔
107۔ 2025–26 میں میرج اسسٹنس اسکیم (Marriage Assistance Scheme)کے تحت مالی امداد کو اے اے وائی خاندانوں کی غریب لڑکیوں کے لیے 50,000 روپے سے بڑھا کر 75,000 روپے کیا گیا۔ آٹھویں جماعت پاس ہونے کی سابقہ شرط کو بھی نرم کیا گیا تاکہ تمام اہل لڑکیوں کے لیے اسکیم کادائرہ مکمل ہو سکے۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں مستفیدین کی تعداد 2024–25 میں 26,000 سے بڑھ کر 2025–26 میں 44,302 ہو گئی، جبکہ دسمبر 2025 تک اخراجات 234 روپے کروڑ تک پہنچ گئے۔
108۔ جامع تعلیم کو بارہمولہ اور اننت ناگ میں خصوصی طور پر معذور بچوں کے لیے اسپیشل اسکولوں کے ذریعے مضبوط بنایا جائے گا۔ نانیل، اننت ناگ میں کمپوزٹ ہوم جلد فعال ہو جائے گا۔ گاندربل میں ہاف وے ہوم بحالی اور دوبارہ سماجی انضمام کی خدمات کو مضبوط کرے گا۔ مُٹھی میں ایس سی/ایس ٹی عمارت کا افتتاح اپریل 2026 میں متوقع ہے۔
109۔ میری حکومت لاڈلی بیٹی سکیم کے ذریعے بچیوں کے لیے مالی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ آغاز سے اب تک اس اسکیم کے مستفیدین کی تعداد 2017 میں صرف 16,095 سے بڑھ کر 2025 کے آخر تک تقریباً 1.92 لاکھ بچیوں تک پہنچ گئی ہے۔2025-26میں 450 کروڑروپے کی فراہمی کے ساتھ اس اسکیم کے دائرے کو مزید بڑھایا گیا، جس سے 16,165 بچیاں مستفید ہوئیں۔
110۔ این آر ایل ایم(NRML) کے تحت 96,000 خودامدادی گروپ(SHGs)تشکیل دیئے جا چکے ہیں، جن کے ذریعے 7.84 لاکھ سے زائد دیہی گھرانوں کو متحرک کیا گیا ہے تاکہ بچت، قرض تک رسائی اور کاروباری ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ اپریل 2025 سے سرکاری ملکیت کی تمام پبلک ٹرانسپورٹ، بشمول اسمارٹ سٹی بسیں اور جے کے آر ٹی سی (JKRTC)کی خدمات میں خواتین کے لیے مفت سفر کامیابی سے نافذ کیا گیا ہے۔ ایسی بسوں میں خواتین کے سفرکی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے خواتین کے لیے محفوظ، ماحول دوست اور سہل نقل و حمل میسر آئی ہے۔ یہ ایک انقلابی اصلاح ثابت ہوئی ہے، جس سے جموں و کشمیر ملک کے ان چند علاقوں میں شامل ہو گیا ہے جہاں خواتین کے لیے سفرکرایہ کو عملی شکل دی گئی ہے۔
سماجی بہبود کے سیکٹر کو2026-27 کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 170 کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں
ڈیزاسٹرمنیجمنٹ
111۔ ہم سب نے حالیہ عرصے میں قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی کا مشاہدہ کیا ہے۔ اسی لیے حکومت ایسی تباہ کاریوں سے بچاؤ کی تیاری پر زور دے رہی ہے۔ مستقبل کی آفات کے مقابلے کے لیے مضبوطی پیدا کرنے کی خاطر، میری حکومت نے پہلی مرتبہ 39 کروڑ روپے کے ابتدائی سرمائے کے ساتھ ایک ڈیزاسٹر رسک مٹیگیشن فنڈ (Disaster Risk Mitigation Fund)قائم کرنا شروع کیا ہے۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ڈیزاسٹر رسک مٹیگیشن فنڈ کے اصولوں کی حتمی شکل دی جارہی ہے۔ نیشنل لینڈ سلائیڈ رسک مٹیگیشن پروگرام (NLRMP) کے تحت بروقت حفاظتی اقدامات کے لیے چھ ترجیحی منصوبوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
112۔تباہ کاریوں سے نمٹنے کی تیاری اور ردِعمل کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے، حکومت جموں و کشمیر میں جدید ترین ایمرجنسی آپریشنز سینٹرز (EOCs) کی تعمیر اور فعال بنانے کا کام کر رہی ہے۔ تمام 20 اضلاع میں ضلعی ایمرجنسی آپریشنز سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں، جو آفات کے خطرے کے انتظام، مربوط ردِعمل اور مضبوط بحالی کی ہماری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کریں گے۔ یو ٹی سطح کا ایمرجنسی آپریشنز سینٹر اومپورہ، بڈگام میں تعمیر کیا جا رہا ہے، جو آفات کے انتظامی کاروائیوںکے لیے مرکزی کمانڈ اور کنٹرول سینٹر کے طور پر کام کرے گا۔
113۔ سکون (SAKOON)2.0 پلیٹ فارم نے تباہ کاری سے متعلق امدادی عمل کے پورے نظام کو ڈیجیٹل بنا دیا ہے، جس سے دستی طریقۂ کار کی جگہ ابتدا سے انتہا تک آن لائن نظام نے لے لی ہے۔ امدادی رقم کی فراہمی کا دورانیہ 5-6 ماہ سے کم ہو کر 15–20 دن رہ گیا ہے، جس سے شفافیت، جوابدہی اور براہِ راست فائدے کی منتقلی یقینی ہوئی۔
سال 2026-27- کے لئے سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت ڈیزاسٹرمنیجمنٹکے لیے351 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
منصوبہ بندی میں پیش رفت (Planning Progress)
114۔ ادارہ جاتی صلاحیتوں اور پالیسی سازی کو بہتر بنانے کے لیے ہم نے آئی آئی ایم جموں کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ سینٹر فار انوویشن اینڈ ٹرانسفارمیشن اِن گورننس (CITaG) کو فعال بنایا جا سکے۔ CITaG نے اسکل ڈیولپمنٹ پلان، پی پی پی پالیسی، ایف ڈی آئی پالیسی فریم ورک، پی پی پی منصوبوں کے جائزے، اور نئے سیاحتی مقامات کے منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ CITaG نے منصوبہ بندی اور مالیات کے محکموں کے 400 افسران کو کامیابی سے تربیت بھی دی ہے، جس سے پالیسی پر عمل درآمد کی صلاحیت مضبوط ہوئی ہے۔
115۔ جموں و کشمیر نے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ نیتی آیوگ(NITI Aayog) کے ایس ڈی جی انڈیا انڈیکس 2024-25 کے مطابق، جموں و کشمیر تیزی سے بہتری لانے والی یونین ٹیریٹریز (UTs)میں سے ایک بن کر ابھرا ہے۔ زیرو ہنگر(zero Hunger) کے ہدف کے تحت بڑی بہتری حاصل ہوئی ہے، جو غذائی مداخلتوں کی کامیابی کو ظاہر کرتی ہے۔
116۔ جموں و کشمیر میں 1,421 سرحدی دیہات ہیں، جن میں سے 124 حکمت عملی کے طور پر اہم دیہات کو وائبرنٹ ولیجز پروگرام۔دوم(Vibrant Villages Programme-II) کے تحت ترقی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ایسی منصوبہ بندی سے سرحدی دیہات میں رہائشی حالات، روزگار کے مواقع اور بنیادی سطح کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر زور دیں گے۔ ان دیہات میں ہر موسم میں قابلِ استعمال سڑک رابطے کے لیے PMGSY-IV کے تحت کام کیے جا رہے ہیں، ڈیجیٹل بھارت ندھی (Digital Bharat Nidhi)کے ذریعے ٹیلی کام رابطہ، براڈکاسٹنگ انفراسٹرکچر نیٹ ورک ڈیولپمنٹ (BIND) اسکیم کے تحت ٹیلی وژن رابطہ، اور ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم (RDSS) کے تحت گرڈ سے منسلک بجلی کاری کی جا رہی ہے۔
منصوبہ بندی سیکٹرکے لیے مالی سال 2026-27 کے سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 331 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔جو گزشتہ مالی سال2025-26 کے مقالبے میں 16 کروڑ سے زیادہ ہے۔
محکمہبجلی
117۔ ہم نے بجلی کے لیے ایک جدیدمنصوبہ تیارکیاہے جس سے تمام صارفین کو 2027-28 سے24 گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔ یہ حکمتِ عملی میں بجلی کی پیداوار، ترسیل، تقسیم اور اصلاحات کا احاطہ کرتی ہے تاکہ پائیدار توانائی تحفظ اور طویل مدتی مالیاتی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔ ہم نے ان تمام پہلوؤں پر فیصلہ کن اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
118۔ چار بڑے ہائیڈروپاورپراجیکٹ (HEPs)پکل ڈل، رٹلی، کیرو، اور کوار، جن کی مجموعی صلاحیت 3,014 میگاواٹ ہے، تیزی سے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
119۔ ہم نے ان منصوبوں کے لئے اپنی سرمایہ کاری کوتیزرفتاری سے فراہم کرنے کے لیے SASCI کی فنڈنگ سے فائدہ اٹھایا ہے تاکہ کام کو تیز رفتار بنایا جا سکے۔ پکل دل HEP 1000
میگاواٹ اور کیرو HEP 624 میگاواٹ کی تکمیل اس سال کے لیے مقرر ہے۔ فعال ہونے کے بعد یہ منصوبے بالترتیب تقریباً 3,230 ملین یونٹ اور 2,272 ملین یونٹ توانائی سالانہ پیدا کریں گے۔کرناہ HEP 12 میگاواٹ کا بھی اس سال مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ 37.5 میگاواٹ پرنئی HEP تکمیل کے ایک اعلیٰ مرحلے تک پہنچ چکا ہے۔ کئی دیگر منصوبے، جن میں کوار HEP، رٹلی HEP، کِرتھائی-I اور کِرتھائی-II شامل ہیں، تعمیریا جانچ کے اعلیٰ مراحل میں ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے صاف اور کم لاگت بجلی کی دستیابی بڑھے گی اور مارکیٹ سے بجلی خریدنے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔اس کے علاوہ ساول کوٹ 1856 HEP میگاواٹ کومرکزی حکومت کی حمایت سے دوبارہ شروع کیاجائے گا۔
120۔ ہم نے مالی سال 2026-27 کے لیے ایک جامع قابلِ تجدید توانائی پالیسی کو حتمی شکل دے دی ہے، جس میں شمسی، ہوا، روف ٹاپ ہوا اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز شامل ہیں۔ پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت 16,816 گھروں کو مفت اور صاف بجلی کی فراہمی کے لیے سولرائز کیا جا چکا ہے۔ مزیدیہ کہ سرکاری عمارتوں میں بھی تیزی سے شمسی نظام کونصب کیاگیاہے۔ ان اقدامات سے بجلی کی فراہمی میں اعتماد بڑھے گااور بجلی کے بلوں میں کمی لائیں گے۔
121۔ مجھے ایوان کو یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ وزارتِ جدید اور قابلِ تجدید توانائی نے RESCO ماڈل کے تحت 2.22 لاکھ AAY گھروں میں ہر ایک پر 2 کلو واٹ کے روف ٹاپ شمسی نظام کی تنصیب کی منظوری دے دی ہے۔ ہم بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے یہ کام قابل اداروں کو سونپیں گے۔ توقع ہے کہ یہ نظام ہر گھر کے لیے ماہانہ 200 یونٹ پیدا کریں گے، اور پی ایم سوریہ گھر(PM-Surya Ghar) مفت بجلی یوجنا کے تحت 20 سالہ عملی مدت تک مستفیدین کے لیے مکمل طور پر مفت ہوں گے۔ امرناتھ یاترا کے لیے بلا تعطل اور محفوظ بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کی خاطر بال تل اور پہلگام راستوں کے ساتھ بجلی کے ڈھانچوں کو مضبوط بنانے کے لیے مستقل زیرِ زمین کیبلنگ کے ذریعے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
122۔بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے گزشتہ پانچ برسوں میں تقسیم کے سیکٹر میں ریکارڈ 5,708 Mega Volt Ampere اور ترسیل کے سیکٹر میں 4,239Mega Volt Ampere کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ہم مزید نئے 220/132کلو وولٹ اور 132/33 کلووولٹ Subاسٹیشنوں کی تعمیر، موجودہ Sub اسٹیشنوں کی توسیع، اور تمام اضلاع میں ترسیلی صلاحیت بڑھانے کے لیے HTLS کنڈکٹروں کے ساتھ لائنوں کی ازسرنوتنصیب عمل میں لائی جائے گی ۔سرمایہ کاری کے ان اقدامات سے بجلی کابوجھ سنبھالنے کی صلاحیت بہترہوگی ۔بجلی کی بندش میں کمی آئے گی ۔وولٹیج کانظام بہترہوگا اورتمام علاقوں کے درمیان متوازن ترقی ممکن ہوسکے گی۔
123۔ میری حکومت نقصانات میں کمی، خدمات کی بہتری اور صارفین کے اطمینان میں اضافہ پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے نئے اور توسیع شدہ ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز کی جامع HT/LT نیٹ ورک کی بہتری، رِسیوِنگ اسٹیشنز اور سب ٹرانسمیشن لائنوں کی مضبوطی، اور دور دراز علاقوں جیسے کٹھوعہ، پونچھ، راجوری، گریز اور بانڈی پورہ میں بجلی سے محروم گھروں تک بجلی فراہم کرنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ہم بجلی کے شعبے میں AT&C نقصانات اور کم وصولی کو کم کرنے کے لیے اسمارٹ میٹر نصب کر رہے ہیں۔ پہلے ہی 10.44 لاکھ میٹروں کی تنصیب کے ساتھ نقصانات میں 9فیصد کمی آئی ہے جبکہ آمدنی میں 16 فیصداضافہ ہوا ہے۔
124۔ صارفین کے اعتماد کو مزید بہتربنانے کے لیے مخصوص Power Management Cells قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ فیڈر وار بجلی کٹوتی کی نگرانی ممکن ہو اور انحراف کی صورت میں جوابدہی مقرر ہو۔ جہاں AT&C نقصانات 10 فیصد سے کم کر دیے گئے ہیں وہاں 24×7 بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ ایسے اقدامات سے بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کو بہتر اور پائیدار بجلی تحفظ کو مضبوط کر رہے ہیں۔ گزشتہ موسمِ سرما میں دسمبر 2024 میں زیادہ سے زیادہ مانگ پوری کی گئی جو 3,157 میگاواٹ تھی۔ اس موسم سرما میں جموں وکشمیرمیں بجلی کی مانگ نے ہمہ وقت کی بلندترین سطح کوچھوتے ہوئے 3,362 میگاواٹ کاریکارڈ قائم کیا۔ ہم نے کٹوتیوں میں کمی لا کر فراہمی کے تسلسل کو بھی کامیابی سے بہتر بنایا ہے۔
125۔ میری حکومت جلد ہی توانائی کے مؤثر استعمال، لاگت میں بچت اور پائیدار بجلی کے انتظام کو ترجیح دینے کے لیے انرجی کنزرویشن بلڈنگ کوڈ(Energy Conservation Building Code) نافذ کرے گی۔ ہم اینڈ ٹو اینڈ انرجی ٹریکنگ سسٹم
(End to End Energy Tracking System)کے نفاذ کا آغاز کریں گے تاکہ پیداوار، ترسیل، تقسیم اور SLDC آپریشنوں میں توانائی کے بہاؤ کی نگرانی کی جا سکے۔ بجلی لوڈ کی پیش گوئی، اثاثہ جاتی نظام، نقصانات میں کمی، صارفین کی خدمات اور سائبر سیکیورٹی کے لیے مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی پر مبنی حل نافذ کیے جائیں گے۔
پاور ڈیولپمنٹ سیکٹر کو مالی سال 2026-27 کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 1718 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
عملی /طبعی روابط(فزیکل کنکٹیوٹی)
126۔ ادھم پور–سرینگر–بارہمولہ ریل رابطہ (USBRL) کی تکمیل کے ساتھ کشمیر ہر موسم میں چلنے والی ٹرین سروس کے ذریعے ملک کے باقی حصے سے جوڑدیا گیا ہے، اور ایک دیرینہ خواب پورا ہو گیا ہے۔ USBRL منصوبہ، جس میں بھارت کی طویل ترین ٹرانسپورٹ سرنگیں اور دریائے چناب پر دنیا کا بلند ترین ریلوے محرابی پل شامل ہے، نقل و حرکت، سیاحت اور معاشی سرگرمی کو بہت زیادہ فروغ دے گا۔ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (FCI) کی تاریخ کی پہلی غذائی اجناس کی مال بردار ٹرین جو کشمیر کو قومی مال برداری نیٹ ورک سے جوڑتی ہے، فعال کر دی گئی ہے۔ اس قدم سے ہر موسم میں مال برداری ممکن ہوگی، 44قومی شاہراہ پر دباؤ کم ہوگا، اور معاشی ترقی تیز ہوگی۔ جموں توی ریلوے اسٹیشن اور جموں ہوائی اڈے کی توسیع اور جدید کاری کا کام بتدریج جاری ہے۔
127۔ جموں و کشمیر کے سڑک نیٹ ورک میں بڑے پیمانے پر بہتری آ رہی ہے جس کے تحت دہلی–امرتسر–کٹرا ایکسپریس وے کی تعمیر و بہتری، پانچ قومی شاہراہوں، اور جموں و سری نگر شہروں کے لیے دو رنگ روڈز پر 61,528 کروڑروپے کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ تین سرنگیں، جن میں سونمرگ ٹنل شامل ہے، مکمل ہو چکی ہیں جبکہ آٹھ سرنگیں، جن میں زوجیلا ٹنل شامل ہے، تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ اس کے علاوہ رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے 10,637 کروڑروپے کی تخمینہ لاگت سے 19 نئی قومی شاہراہوں کے منصوبوں کی منظوری پر اظہارِ تشکر کرتا ہوں۔
128۔ اہم رنگ روڈ منصوبوں پر بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ جموں میں 58 کلومیٹر میں سے 54 کلومیٹر حصہ مکمل ہو چکا ہے اور سری نگر میں 44 کلومیٹر رنگ روڈ کے پہلے مرحلے کا 75 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ غیر معمولی بارشوں اور اچانک سیلاب کے باعث سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے شدید نقصان کے پیش نظر ہم نے 861روپے کروڑ کی تخمینہ لاگت سے مستقل بحالی کے کام شروع کیے ہیں۔
129۔ پی ایم جی ایس وائی چہارم (PMGSY-IV) کے تحت جموں و کشمیر میں 2,400 غیر منسلک دیہی بستیوں کو سڑکوں سے جوڑا جائے گا۔ جموں و کشمیر نے تعمیر کے لیے 316 سڑک منصوبوں کی منظوری حاصل کر لی ہے۔PMGSY-IVکے بیچ-اوّل کے تحت 1,781 کلومیٹر سڑکوں کی اپ گریڈیشن کی جا رہی ہے، جس سے 429 مستحق بستیوں کو فائدہ پہنچے گا، جس کی تخمینہ لاگت 4,224 کروڑروپے ہے۔اس کے علاوہ PMGSY-IV کے تحت 1400 سے زائد اضافی منصوبے پیش کیے جارہے ہیں جوتقریباً 7000 کلومیٹرسڑکوں پرمشتمل ہوں گے جن کی مجموعی لاگت 13,200 کروڑروپے ہے۔ان منصوبوں کے ذریعے 1209 غیرمربوط دیہی بستیوں کوہرموسم میں قابل استعمال سڑک رابطہ فراہم کیاجائے گا۔
130۔ مالی سال 2026–27 کے دوران ہم تقریباً 3,500 کلومیٹر سڑکوں کی میکاڈمائزیشن اور بلیک ٹاپنگ کرنے کی تجویز رکھتے ہیں۔ یہ کام متعددکلیدی منصوبوں کے ذریعے انجام دیا جائے گا، جن میں پی ایم جی ایس وائی(PMGSY)، سنٹرل روڈ اینڈ انفراسٹرکچر فنڈ، نبارڈ(NABARD)، شہروں اورقصبوں کاترقیاتی پروگرام اورگڑھوں سے صاف سڑکیں پروگرام شامل ہیںتاکہ محفوظ، ہموار اور زیادہ قابلِ اعتماد سڑک رابطے کو یقینی بنایاجائے ۔اس کے علاوہ ہم نے NABARD RIDF-XXXI کے تحت منظوری کے لیے 116 منصوبہ جاتی تجاویز بھی اٹھائی ہیں، جن کی تخمینہ لاگت 364 کروڑروپے ہے۔
تعمیرات عامہ کے سیکٹر کے لئے مالی سال 2026–27 کے سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 4061 کروڑروپے مختص کئے گئے ہیں، جو مالی سال 2025–26 کی نظرثانی شدہ رقم سے 333 کروڑروپے زیادہ ہے۔
جل شکتی
131۔ ہر گھر کو صاف نلکے کا پانی فراہم کرنے کے عزم کی تکمیل کے سلسلے میں جل جیون مشن کے تحت 15.62 لاکھ سے زائد دیہی گھرانوں (81 فیصد) کو کامیابی کے ساتھ پائپ کے ذریعے پانی کے کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ مزیدیہ کہ ہر گھر جل (HGJ) کی تصدیق 867 دیہات میں حاصل ہو چکی ہے، جو آفاقی آبی فراہمی کی جانب نمایاں پیش رفت کی علامت ہے۔ ہم تمام کاموں کی جانچ پڑتال اور ذرائع کی پائیداری کی تصدیق کے بعد جاری جے جے ایم کاموں کو تیز کرنے کے لیے مرکزی حکومت کے ساتھ کام کریں گے۔
132۔ ایمز اونتی پورہ (AIMS)میںپانی کی فراہمی کا منصوبہ، جس کی لاگت 54.58 کروڑ روپے ہے، ابتدائی عملی ضرورتوں کوپوراکرنے کے لیے، 1,600 کلولیٹریومیہ کی گنجائش پید ا کرے گا۔ مرحلہ دوم( 2,400 کے ایل ڈی)، جس میں دریائے جہلم سے سطحی پانی حاصل کیا جائے گا، اور ایمز وجے پور میں پانی کی فراہمی کے منصوبے پر بھی خاطر خواہ پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔
133۔ یو ٹی کیپیکس کے تحت مجوزہ 810 پانی کی فراہمی کی اسکیموں میں سے 393 مکمل کی جا چکی ہیں، جن سے مختلف اضلاع میںپینے کے صاف پانی تک رسائی میں بہتری آئی ہے۔ مزید برآں، گاندربل میںلار کنا ل پروجیکٹ (لاگت 25 کروڑ روپے) کو نبارڈ RIDF-XXX (2024-25) کے تحت عملایا جا رہا ہے۔ پانی کے معیار اور ضابطوں کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے 2یو ٹی سطحی اور 20 ضلع سطحی لیبا رٹریوں نے NABL کی منظوری حاصل کر لی ہے، جبکہ 28 ذیلی ڈویژنل لیبا رٹریوں کو بھیNABL کی شناخت حاصل ہو چکی ہے۔
134۔ شاہ پور کنڈی ڈیم پروجیکٹ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ 22 ستمبر 2025 سے پانی کے منظم ثقلی بہاؤ(regulated gravity flow) کا آغاز ہو چکا ہے، اور فی الحال نہر کے ذریعے تقریباً 150 کیوسک پانی منتقل کیا جا رہا ہے۔ میر ی حکومت نے کمانڈ ایریا ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت آبپاشی کے دائرہ کار میںنمایاں توسیع کی ہے، جس سے 2.25 لاکھ ہیکٹیئر سے زائد قابلِ کاشت اراضی مستفید ہوئی ہے، جبکہ جاری منصوبوں کے ذریعے آبپاشی کی سہولت مزید بڑھائی جا رہی ہے۔ سال 2025-26 کے دوران نبارڈ کے تحت 26 آن فارم چینل پروجیکٹس شروع کئے گئے، جن کا ہدف 21,745 ہیکٹیئر رقبے کو سیراب کرنا تھا۔ اس میں سے 17,212 ہیکٹیئر ہدف پہلے ہی حاصل کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید 5,585 ہیکٹیئر اراضی کو مکمل شدہ کاموں کے ذریعے آبپاشی کے دائرے میں لایا گیا ہے۔
135۔ مجھے خوشی ہے کہ محکمہ کوسیلاب کنٹرول کے شعبے میں مرکزی مالی امداد موصول ہوئی ہے، جو گزشتہ چند برسوں سے زیرِ التوا تھی۔ بارانی اور حساس علاقوںمیں پانی کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے کے لیے پی ایم کے ایس وائی (PMKSY) 2.0کے واٹرشیڈ ڈیولپمنٹ کمپوننٹ کے تحت زمین کی ہمواری، کونٹور بنڈنگ، چک ڈیمز، فارم تالاب اور نکاسی آب لائنوں کے علاج جسے اقدامات نافذ کے جا رہے ہیں ، تاکہ پانی کے بہاؤ کو منظم کیا جا سکے، پانی کے جمع ہونے سے بچاؤ ہو اور مٹی کے کٹاؤ پر قابو پایا جا سکے۔
سال 2026-27 کے لئے جل شکتی سیکٹر کو سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 2558 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ، جو کہ 2025-26 کی نظرِ ثانی شدہ رقم کے مقابلے میں545 کروڑ روپے زیادہ ہے۔
ہاؤسنگ اور شہری ترقی
136۔میر ی حکومت بہتر شہری سہولیات، سستے مکانات، ماحولیاتی نظم و نسق اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے پائیدار شہری تبدیلی کو اعلیٰ ترجیح دی ہے۔ جموں اور سرینگر میں شہری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے 277 اسمارٹ سٹی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ ان شہروں میں 200 ای-بسیں پہلے ہی چل رہی ہیں ، جبکہ پی ایم ای-بس سیوا اسکیم کے تحت مزید 200 ای-بسیں خریدی جا رہی ہیں۔ مالی پائیداری کو فروغ دینے کے لیے جنرل بس اسٹینڈ جموں میں ملٹی لیول کار پارکنگ کے اثاثہ جاتی مالی استعمال (Asset Monetization) کا عمل PPP موڈ کے تحت جاری ہے، جس سے سالانہ 12 کروڑ روپے کی متوقع آمدنی ہوگی۔
137۔ ویسٹ واٹر منیجمنٹ کو مضبوط بنانے کے لیے SBM-Urban 2.0 کے تحت 100MLD صلاحیت کے ساتھ ایس ٹی پیزکی تعمیر 445 کلومیٹرکے انٹرسپشن ا ینڈ ڈائیورشن نیٹ ورک اور 490KLD گندے فضلے کے نکاس کی سہولیات کے منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔ چھوٹے شہری مقامی اداروں (ULBs) کے فضلے کے نکاس کے بڑے ایس ٹی پیز کے مشترکہ طورٹھکانے لگانے کے لیے کلسٹر پر مبنی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ اس طرح کے 10 کو۔لوکیشنس منصوبوں کو 270 کروڑ روپے کی رقومات کے ساتھ منظوری دی جا چکی ہے۔
138۔ AMRUT 2.0 کے تحت پانی کی فراہمی اور سیوریج کے شعبے میں 1,000 کروڑ روپے سے زائد مالت کے 90 منصوبے منظور کیے گئے ہیں، جن میں سے 17 مکمل اور 67 زیرِ تکمیل ہیں۔ مزید برآں، 622 کروڑ روپے مالیت کے 65 منصوبوں کی ڈی پی آرز منظور کی جا چکی ہیں اور ان کے ٹینڈر جاری کیے گئے ہیں۔
139۔ میونسپل سالڈ اینڈ ویٹ ویسٹ مینجمنٹ کے تحت تمام ULBs میں خشک کچرے کی پروسسنگ کے لیے میٹیریل ریکوری فیسلٹیز قائم کی جا رہی ہیں۔ جموں اور سرینگر میں تعمیراتی و انہدامی کچرے کی پروسسنگ سہولیات پر کام جاری ہے۔ 28 لاکھ مٹریک ٹن پرانے (Legacy) کچرے کی بائیوریمیڈیشن بھی اسی سال مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ صفائی ستھرائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحت انفرادی گھریلو بیت الخلاء، برادری بیت الخلاء، عوامی بیت الخلاء، پیشاب خانے اورمعیاری مثالی بیت الخلائوں کی تعمیر ULBs میں جاری ہے۔ 217 کموینٹی ٹوائلٹ سیٹس، 578 پبلک ٹوائلٹ سیٹس، 227 یورینلز اور 375 ایسپرِیشنل ٹوائلٹ سیٹس کے ٹینڈر جاری کیے جا چکے ہیں۔
140۔ Integrated Waste Management کے لیے سرینگر شہر کو CITIIS 2.0 پروگرام کے تحت منتخب کیاگیا ہے۔ 67 کروڑ روپے کا ایکشن پلان تیارر کھا گیا ہے، جس میں 700 TDPپری پروسیسنگ یونٹ، 150 کے ایل ڈی لیچیٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ، 300 ٹی پی ڈی بریکیٹنگ پلانٹ اور 2.40 لاکھ گھروں اور 80,000 تجارتی یونٹس کیRFID ٹیگنگ شامل ہے۔ آبی ذخائر کی آلودگی کے خاتمے کے تحت 358 کروڑ روپے کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن سے 28 ایم ایل ڈی سوتریج ٹریٹمنٹ صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ ڈل جھیل کی آلودگی کے خاتمے کے لیے احاطہ شدہ علاقوں میں 30 ایم ایل ڈی ایس ٹی پی کی تعمیر 306 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کی گئی ہے۔
141۔ شہری منصوبہ بندی کے شعبے میں 25 درجہ دوم (Class-II) شہروں کے لیےGIS پر مبنی ماسٹر پلانز کی منظوری دی گئی ہے، جن کے لیےAMRUT 2.0 کے تحت 22 کروڑ روپے کی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ جموں اور سرینگر کے ماسٹر پلانز آخری مرحلے کے جائزے میںلائی اور جلد ہی مشتہر کیے جائیں گے تاکہ منظم توسیع اور ماحولیاتی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ چھوٹے شہروں کے لیے کریڈٹ اینہانسمنٹ اقدامات کے تحت 300 کروڑ روپے کا AMRUT 2.0 کریڈٹ گارنٹی فنڈ شروع کیاگیاہے، جس سے شہری بنیادی ڈھانچے کے لیے رسمی قرض تک رسائی ممکن ہوگی۔
142۔ سب کے لیڈ رہائش بدستور ایک اہم ترجیح ہے۔ PMAY-U 1.0 کے تحت 42,585 مستحقین کی منظوری دی جا چکی ہے، جن میں سے 34,730 رہائشی یونٹ مکمل ہو چکے ہیں PMAY-U 2.0 کے تحت 26,582 درخواستیںرجسٹر کی گئی ہیں، جن میں سے 2,522 مکانات منظور کے جا چکے ہیں۔ JDA Heights Phase II Project، جس میں 6 ٹاوروں پر مشتمل 144 فلیٹ شامل ہیں، جون 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
143۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی رہائشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بڑے شہروں اور قصبوں کے نزدیک خود مالی اعانت / پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) موڈسرینگراورجموں کے تحت بڑے پیمانے پر رہائشی کالونیوں کے لیے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
144۔ شہری بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے پارکنگ مقامات، بس اڈوں، شہری سڑکوں، سیوریج اور نکاسی آب کے نظام، ذبح خانوں اور شہری سہولیات میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ جموں، رام بن، ڈوڈہ، اُدھم پور، کشتواڑ، کٹھوعہ، سانبہ، ریاسی، شوپیان اور بانڈی پورہ میں ملٹی لیول کار پارکنگ سہولیات کی تعمیر جاری ہے۔ اس کے علاوہ، بارہمولہ اور وجے پور میں اضافی پارکنگ منصوبے، بانڈی پورہ اور سانبہ میں بس اڈوں، مبارک منڈی جموں میں ملٹی لیول کار پارکنگ، نیز پارم پورہ بس اسٹینڈ اور ٹرانسپورٹ نگر کی ازسرِ نو ترقی کے کام بھی شروع کیے جا رہے ہیں۔
145۔ تفریحی سرگرمیوں سے متعلق ایک نمایاں اقدام کے طور پر جگتی، نگروٹہ میں 11.64 ایکڑ پر مشتمل ایک واٹر پارک کی تعمیر پی پی پی موڈ کے تحت کی جا رہی ہے، جس میں آبی سواری، Resort، ریٹیل سہولیات اور خاندانی تفریحی ڈھانچہ شامل ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی، جموں و کشمیر اربن چیلنج فنڈ کے تحت قابلِ مالیاتی (Bankable) منصوبوں کو آگے بڑھائے گا، جن میں دریائے توی کے ریور فرنٹ کا دوسرا مرحلہ، قلعہ اندر سرینگر کی بحالی، نگین ریور فرنٹ اور اننت ناگ ریور فرنٹ کے منصوبے شامل ہیں۔
146۔ شہری تعمیرات کے شعبے میں کاروبار میں آسانی( (Ease of Doing Businessکو فروغ دینے کے لیے بلڈنگ بائی لاز میں نرمی کی گئی ہے اور عمارتوں کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے آٹو-ڈی سی آر (Auto-DCR) کومطلع کیا گیا ہے۔ شہری روزگار اور سماجی تحفظ کے تحت جموں اور سرینگر، دارالحکومتوں، کو دین دیال جن آجی وِکا یوجنا (شہری) کے تحت منتخب کیا گیا ہے، جہاں کمزور طبقات کے گھروں کی سماجی و معاشی پروفائلنگ اور ہدفی مداخلتیں عمل میں لائی جائیں گی۔
147۔ انِٹگریٹیڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو اِنٹگریٹیڈ ڈیٹا سینٹر، انٹیلی جنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم، ای-بل جی آئی ایس، ویڈیو مینجمنٹ سسٹم، ایمرجنسی ریسپانس سسٹم اور ماحولیاتی سینسرز کے ساتھ فعال کر دیا گیا ہے۔ انٹیلی جنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کو ایم پی ایل ایس فائبر پر مبنی کنیکٹیوٹی کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے، جس سے حقیقی وقت میں نگرانی اور خودکار نفاذ (Automated Enforcement) ممکن ہو سکا ہے۔
سال 2026-27 کے لیے ہاؤسنگ و شہری ترقی کے شعبے میں سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 2809 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جو مالی سال 2025-26 سے 791کروڑ زیادہ ہے۔
قانون و پارلیمانی امور
148۔ میری حکومت معیاری عدالتی ڈھانچے کی تعمیر کے ذریعے مؤثر اور قابلِ رسائی نظامِ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ اس مقصد کے تحت نئی عدالتی عمارتیں، عدالتی افسران کے لیے رہائشی کمپلیکس اور وکلاء کے لیےChambers تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ سرینگر میں نئے ہائی کورٹ کمپلیکس کی تعمیر، جو کہ 908 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور شدہ ایک بڑا منصوبہ ہے، کو مالی سال 2026-27 کے دوران تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جائے گا، جس سے عدالتی ڈھانچہ مضبوط ہوگا اور انصاف تک رسائی میں بہتری آئے گی۔
149۔ ہماری حکومت جموں میں ایک جدید ترین Legislative Complex کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہے، جو سول سیکریٹریٹ میںصدی پرانی عمارت کی جگہ لے گا۔ اس منصوبے پر کام جموں میں قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، جس کی منظوری 208.53 کروڑ روپے کی لاگت سے دی گئی ہے، کو مزید آگے بڑھایا جائے گا تاکہ ایک جدید قانون ساز اسمبلی کمپلیکس تیارکیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی قومی ای-ودھان ایپلیکیشن (NeVA) منصوبے پر بھی عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے، جسے مرحلہ وار طریقے سے فعال بنایا جا رہا ہے۔NeVA منصوبے کے تحت نیٹ ورک آلات، ڈیسک ٹاپس (Desktops)اور دیگر آئی ٹی آلات کی خریداری شامل ہوگی تاکہ کاغذ سے پاک (Paperless) نظامِ کار کو ممکن بنایا جا سکے۔
150۔ حکومت جموں و کشمیر میں ایک قومی قانون یونیورسٹی National Law University)) کے قیام کے لیے پُرعزم ہے، جس کا مقصد قانونی تعلیم کو فروغ دینا، تحقیقی سرگرمیوں کو تقویت دینا اور شعبہ انصاف میں ادارہ جاتی اصلاحات میں مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔
سال 2026-27 کے لیے قانون و پارلیمانی امور کے شعبے میں سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 257 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ 2025-26 کی نظرِ ثانی شدہ رقم کے مقابلے میں 17 کروڑ روپے زیادہ ہے۔
اطلاعاتی ٹیکنالوجی
151۔ جموں و کشمیر کو ای-اُنّت پورٹل (E-unnat Portal)کے لیے باوقار ٹیکنالوجی سبھا ایوارڈ(Technology Sabha Award) 2025 سے نوازا گیا، جس نے 100 فیصد خدمات دستیابی کے ساتھ مختلف خدمات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر ضم کر کے ڈیجیٹل گورننس میں انقلابی تبدیلی پیدا کی ہے۔ خدمات کی تعداد 1,166 سے بڑھ کر 1,547 ہو گئی ہے، جبکہ 162 اضافی خدمات اس وقت ترقی کے مرحلے میں ہیں۔ ای-سروسز کی تعداد کے لحاظ سے جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میں پہلے اور قومی سطح پر چوتھے مقام پر ہے، جو ڈیجیٹل اختیار(Digital Adoption) اور عوام کے لیے بہتر رسائی کی عکاسی کرتا ہے۔
152۔ جے اینڈ کے اسٹیٹ ڈیٹا سینٹر کوبہتربنانے پر کام کیا جا رہا ہے۔ میگھراج کلاؤڈ سروسز(Meghraj Cloud Services) کی خدمات حاصل کرنے کا عمل جاری ہے۔ میگھراج سرکاری محکموں کو ڈھانچہ، پلیٹ فارم، سافٹ ویئر اور اسٹوریج کی سہولیات فراہم کرے گا،جس کے ذریعے آئی سی ٹی (ICT)پر اخراجات کو مؤثر اور بہتر انداز میں استعمال ممکن ہوگا اور ای-سروسز(e-services) کی تیز رفتار تعیناتی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ عوامی شعبے کی ایپلی کیشنز کے لیے ڈیٹا کی مقامی موجودگی(Data Residency) اور مضبوط سیکیورٹی معیارات کو بھی یقینی بنائے گا۔
153۔ میری حکومت جموں اور سرینگر میں جدید ترین آئی ٹی / آئی ٹی ای ایس پارکس (IT/ITES Parks)قائم کرنے کا ہدف رکھتی ہے، تاکہ سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور ایک مضبوط ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام تشکیل دیا جا سکے۔ اس اقدام میں حکومت، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان باہمی اشتراک پر زور دیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ایک سینٹر آف ایکسی لینس (Centre of Excellence)کی منظوری دی گئی ہے، جس کے لیے چار برسوں میں 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ مرکز تعلیم، حکمرانی اور علاقائی اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیق اور اطلاق کو فروغ دے گا۔
154۔ اہم انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل اثاثوں کے تحفظ کے لیے سائبر سیکیورٹی کو اعلیٰ ترجیح دی گئی ہے۔ مختلف محکموں کے 14 سائبر کرائسِس مینجمنٹ پلانز (Cyber Crisis Management Plans) کو پہلے ہی سرٹ-اِن (CERT-In) سے منظوری حاصل ہو چکی ہے۔ 200 سے زائد محکمانہ ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز کو محفوظ بنایا گیا ہے، جبکہ 5,100 ای ڈی آر اور یو ای ایم تنصیبات کے ذریعے اینڈ پوائنٹ پروٹیکشن کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ’’ڈیجیٹل لٹریسی اور سائبر ہائجین‘‘ کے اقدام پر بھی عمل کیا جا رہا ہے۔ مسلسل سائبر نگرانی اور فوری ردِعمل کو یقینی بنانے کے لیے ایک منی سیکیورٹی آپریشنز سینٹر (SOC) قائم کیا جا رہا ہے۔
155۔ ورک فلو کو سادہ بنانے اور آن لائن خدمات کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے حکومت کے طریقۂ کار کی ازسرِ نو تشکیل(Government Process Re-engineering) کا ایک جامع عمل شروع کیا جائے گا۔ محکمے مکمل اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائزیشن کی جانب بڑھیں گے اور آدھار، ڈیجی لاکر، اُمنگ، مائی اسکیم اور میری پہچان جیسے قومی پلیٹ فارموں کے ساتھ انضمام کریں گے۔ تحصیل اور بلاک سطح تک ای-آفس(e-office) 2.0 کے نفاذ نے Paperlessگورننسحکمرانی کو ادارہ جاتی شکل دے دی ہے۔ تاحال 4,061 دفاتر کے 21,972 صارفین کو اس نظام سے جوڑا جا چکا ہے۔ اس نظام نے فائلوں کی شفاف نقل و حرکت، تیز تر فیصلہ سازی اور انتظامی کارکردگی میں بہتری کو یقینی بنایا ہے، جس سے جوابدہ اور عوام دوست حکمرانی کو مزید تقویت ملی ہے۔
156۔ ہماری ای-گورننس(e-Governance) کا سفر لائن ٹو آن لائن، کیو ٹو کیو آر، (Ask Only Once)، میرا ڈیٹا، سیکیور بائی ڈیزائن اور پرائیویسی بائی ڈیفالٹ کے اصولوں پر مبنی ہے۔ اسٹیٹ ڈیٹا سینٹر کو سال 2026-27کے دوران بہتری اور توسیع دی جائے گی تاکہ تیزی سے پھیلتے ہوئے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کو تقویت دی جا سکے۔ سرکاری کلاؤڈ پلیٹ فارموں کے ساتھ انضمام کے ذریعے ہائبرڈ کلاؤڈ آرکیٹیکچر ممکن بنایا جائے گا، جس سے اہم ایپلی کیشنز کی اعلیٰ دستیابی، توسیع پذیری اور قابلِ اعتماد کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ اس میں نزدیکی ڈیزاسٹر ریکوری(Near DR) سینٹر اور دور دراز ڈیزاسٹر ریکوری (Far DR)سینٹر کا قیام بھی شامل ہوگا۔
157۔ سرکاری خدمات کو مزید قابلِ رسائی بنانے کے لیے واٹس ایپ پر مبنی ایک مرکزی سروس ڈیلیوری پلیٹ فارم متعارف کرایا جائے گا۔ شہری جلد ہی 15 محکموں کی 100 سے 150 زیادہ استعمال ہونے والی خدمات تک محفوظ اور کثیر لسانی چیٹ بوٹس کے ذریعے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ میری حکومت شہریوں کی صلاحیت سازی میں جدید سرمایہ کاری کرے گی۔ سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ای-گورننس کے شعبوں میں تربیتی پروگراموں کو وسعت دی جائے گی، جبکہ چیف منسٹر کے آئی ٹی انٹرن شپ پروگرام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ ڈیجیٹل جموں و کشمیر کے لیے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہنرمند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔ ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے کے لیے نچلی سطح پر ڈیجیٹل خدمات اور ڈیجیٹل ہُنر تک رسائی فراہم کرنے کے مقصد سے ڈیجیٹل ولیج سینٹر اقدام کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
158۔ ہم بہاشِنی (BHASHINI) کو سرکاری ویب سائٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ساتھ مربوط کرنے پر کام کر رہے ہیں، جس سے بھارتی اور مقامی زبانوں میں کثیر لسانی رسائی ممکن ہو سکے گی۔ یہ پورے یونین ٹیریٹری میں شمولیتی، عوام دوست اور قابلِ رسائی ڈیجیٹل گورننس کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا۔ 900 نئے سی ایس سی ٹچ پوائنٹس قائم کیے جا چکے ہیں اور اس وقت فعال ہیں۔ ڈیجی دوست گھر بیٹھے خدمات کے تحت 39,000 خدمات فراہم کی گئیں۔ سی ایس سیز کے ذریعے 16 لاکھ مالی لین دین 350 کروڑ روپے کی مالیت کے ساتھ انجام دیے گئے، 80,000 کسانوں کو پی ایم ایف بی وائی کے تحت رجسٹر کیا گیا، اور تقریباً 20 لاکھ شہری خدمات فراہم کی گئیں، جس سے دیہی اور دور دراز علاقوں میں آخری سطح تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
سال 2026-27کے لیے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ / انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکٹر کو سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 109 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ 2025-26 کی نظرِ ثانی شدہ رقم کے مقابلے میں 36 کروڑ روپے کا اضافہ ہے۔
محکمہ جنگلات
159۔ محکمہ جنگلات میں ہماری توجہ جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ، موسمیاتی اقدامات کو ادارہ جاتی شکل دینے اور ترقی کے لیے جامع نقطۂ نظر اپنانے پر مرکوز ہے۔ شجرکاری کو فروغ دینے کے لیے گزشتہ پانچ برسوں میں 510 لاکھ سے زائد پودے لگائے گئے ہیں تاکہ درختوں کے رقبے میں اضافہ کیا جا سکے۔ سال 2025-26 میں تقریباً 5,000 ہیکٹر رقبے پر شجرکاری کی جائے گی اور مختلف اسکیموں کے تحت مجموعی طور پر 100 لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے ایکشن پلان کے تحت مقامی برادریوں کے لیے 46,000 کوئنٹل چارہ پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کی مالیت 1.40 کروڑ روپے ہے اور یہ چارہ بلا معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔
160۔ جنگلاتی زمین کے تحفظ کے لیے جنگلاتی حدود کی نشاندہی اور ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے۔ 19,752 تنصیبات اور 55,056 سروے کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ جموں میں بغیر کسی تجاوز کے جنگلات کے لیے سروے اور ڈیجیٹائزیشن مکمل کی جائے گی۔ محفوظ علاقوں میں سرحدی ستونوں کی تنصیب کا عمل بھی جاری ہے، اور متعدد وائلڈ لائف سینچوریز، کنزرویشن ریزروز اور ویٹ لینڈ ریزروز میں کام مکمل ہو چکا ہے۔
161۔ ویٹ لینڈز اور چڑیا گھر کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 35 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ وولر جھیل کے لیے 25 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں ایکو پارکس، ساحلی تحفظ، ثقافتی پیدل گزرگاہ، سائیکلنگ ٹریکس اور تفریحی مقامات شامل ہیں۔ واٹلاب، ادی پورہ اور ننگلی سے سائیکلنگ ٹریکس کے کام آئندہ سال شروع کیے جائیں گے۔ سال 2026-27میں فارسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعے ماحولیاتی سیاحت منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔
162۔ جنگلی حیات کے تحفظ اور ریسکیو انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ جمبو چڑیاگھر میں عوام کے لیے 24 احاطے(انکلوژر) کھلے ہیں جبکہ مزید 11 منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں۔ اس کے علاوہ دھاری دار لگڑ، زیبرا، گینڈا، برفانی تیندوہ، سُرخ پانڈا اور دیگر بندرنماجانوروں جیسی نئی انواع کو مرحلہ وار شامل کیا جا رہا ہے۔
163۔ بڑے منصوبوں سے وابستہ کیچمنٹ علاقوں میں ماحولیاتی تحفظاتی اقدامات بھی نافذ کیے جا رہے ہیں۔ کیمپا (CAMPA) کے تحت پکل ڈل اور شاہ پور کنڈی ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹس کے لیے دو کیچمنٹ ایریا ٹریٹمنٹ (CAT) منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ پکل دل کے لیے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے منصوبہ پر عمل درآمد جاری ہے۔ کیرو اور کوار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹس کے لیے CAT منصوبے سال 2026-27میں شروع کیے جائیں گے۔
سال 2026-27کے لیے محکمہ جنگلات و محکمہ وائیلڈلائف کے شعبے کو سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 241 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ 2025-26 کی نظرِ ثانی شدہ رقم کے مقابلے میں60 کروڑ روپے زیادہ ہے۔
کوآپریٹیوسیکٹر
164۔ کثیر المقاصد پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز (M-PACS) ماڈل کے نفاذ اور ترقی و مالی استحکام کے لیے مختلف اصلاحات کے ساتھ کواپریٹیوسیکٹرایک بڑی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ تمام 537 پی اے سی ایس نے مشترکہ بائی لاز اختیار کر لیے ہیں تاکہ وہ ایم-پی اے سی ایس کے طور پر کام کر سکیں، جس سے ڈیری، ماہی پروری اور باغبانی جیسے ذیلی شعبوں میں تنوع ممکن ہوا ہے۔ پی اے سی ایس کی کمپیوٹرائزیشن تیزی سے جاری ہے، اور تمام 537 پی اے سی ایس نے ڈائنامک ڈے اینڈ(Day End) عمل مکمل کر لیا ہے، جس سے وہ ای-پی اے سی ایس کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ موجودہ پی اے سی ایس اور کواپریٹیو دفاتر کی اپ گریڈیشن، نئے دفتری مقامات کی تعمیر اور کوآپریٹو ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس کی جدید کاری بھی کی جا رہی ہے۔ صارف دوست سہولیات کے فروغ کے لیے سپر بازارز، اسٹوریج رومز اور ڈیجیٹل سروس کاؤنٹرز کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے۔
165۔ اناج ذخیرہ کرنے کے منصوبے بھی اسٹریٹجک مقامات پر ذخیرہ گاہوں کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے شروع کیے جا رہے ہیں۔ ایف سی آئی نے ان مقامات کو لیز پر لینے کی اصولی منظوری دے دی ہے، جس سے پی اے سی ایس کے لیے غذائی اجناس کے ذخیرے میں کاروباری مواقع پیدا ہوں گے۔ 1,000 میٹرک ٹن کے تین ذخیرہ منصوبے راج باغ، کٹھوعہ اور 2,500 میٹرک ٹن کے منصوبے مرہامہ، کولگام اور ترک پورہ، کپواڑہ میں زیر تعمیر ہیں۔ یہ سہولیات کسانوں کے لیے بہتر قیمت کے حصول اور غذائی اجناس کے تحفظ کو یقینی بنائیں گی۔
166۔ زرعی پیداوار میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے کے لیے تعاونی اور پی اے سی ایس سطح پر فوڈ پروسیسنگ یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ یونٹس مقامی مصنوعات کی پروسیسنگ، پیکجنگ اور برانڈنگ میں مدد دیں گے، جس سے مارکیٹ تک رسائی اور تعاونی اراکین و سیلف ہیلپ گروپس کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
167۔ گزشتہ سال کے بجٹ میں اعلان کردہ2 نئی سکیموں کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ پی اے سی ایس کے لیے کیش کریڈٹ لمٹ اسکیم ورکنگ کیپیٹل کی دستیابی بہتر بنائے گی اور کسانوں کو قلیل مدتی قرضوں کی بروقت فراہمی ممکن بنائے گی۔ اسی طرح کوآپریٹیو انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے تاکہ کواپریٹیوڈھانچے کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کے لیے مخصوص مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔
سال 2026-27کے لیے کواپریٹیوسیکٹر کو سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت 27 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اپنی حکومت کی جانب سے مختلف شعبہ جات کی ترجیحات اور بجٹ کی تخصیصات کا خاکہ پیش کرنے کے بعد، میں اب چند مرکوز اقدامات کی جانب توجہ مبذول کراتا ہوں جو براہِ راست ہمارے عوام کی زندگیوں کو متاثر کریں گے۔ یہ اقدامات سماجی انصاف، ہمہ گیر ترقی اور ہدفی فلاح و بہبود کے لیے ہمارے عزم کی عکاسی کرتے ہیں، اور ان کا مقصد معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور طبقات کو فوری ریلیف اور طویل مدتی بااختیار بنانا ہے۔

1۔میری حکومت جموں و کشمیر ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن (JKTPO) کو بجٹ کی معاونت میں اضافہ کرے گی تاکہ خرید و فروخت اجلاسوں(Buyer-Seller Meets) کے باقاعدہ انعقاد کے ذریعے دستکاری اور ہینڈلوم مصنوعات کو فعال طور پر فروغ دیا جا سکے، اور مقامی ہنرمندوں کو قومی اور بین الاقوامی خریداروں سے براہِ راست منڈی روابط فراہم کیے جا سکیں۔ یہ اقدام ہنرمندوں کے لیے مارکیٹ تک رسائی، برانڈنگ اور آمدنی کے مواقع کو مضبوط کرے گا، اور جموں و کشمیر کی دستکاریوں کو ایک عالمی سطح پر مسابقتی ثقافتی اور معاشی اثاثہ کے طور پر نمایاں کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
2 ۔مجھے یہ بتاتے ہوئے مسرت ہو رہی ہے کہ ہمیں یونٹی مال کی تعمیر کے لیے 200 کروڑ روپے تک کی مالی معاونت بھی حاصل ہوئی ہے۔ یہ یونٹی مال ایک دستکاری بازار کے طور پر کام کرے گا جو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے مقامی مصنوعات، دستکاری، ہینڈلوم اور روایتی صنعتوں کو ایک مستقل پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔SASCI کے تیسرے جز کے تحت، جموں و کشمیر کو 210 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جنہیں اہل مرکزی معاونت یافتہ اسکیموں (CSS) میں ریاستی حصہ فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
3 ۔میری حکومت نے مالی نظم و نسق میں اصلاحات کے میدان میں تیز رفتار پیش رفت کی ہے اور تمام مرکزی معاونت یافتہ اسکیموں (CSS) کو ٹریژری موڈ سے SPARSH (ریاستی ادائیگی، وصولی اور محاسبہ نظام) موڈ میں کامیابی کے ساتھ منتقل کیا ہے۔ہم نے تمام CSS DBTکے لیے آدھار پر مبنی ادائیگیوں کو لازمی قرار دیا ہے۔SPARSH ماڈیول کے نفاذ کے تحت، ریزرو بینک آف انڈیا میں 151 SNAاکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں، سائبر ٹریژری مکمل طور پر فعال ہے، 2500 کروڑ روپے سے زائد کی منظوریاں موصول ہو چکی ہیں اور 23,000 سے زیادہ بل پہلے ہی نمٹائے جا چکے ہیں۔میں SASCI فریم ورک کے تحت سرینگر اور جموں میں واقع اکاؤنٹنسی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس کو 10 کروڑ روپے کی لاگت سے جدید بنانے کی تجویز پیش کرتا ہوں۔میری حکومت نے اس ترغیبی اسکیم کے تحت 350 کروڑ روپے حاصل کرنے کے لیے تجویز بھی پیش کر دی ہے تاکہ طویل مدتی ادارہ جاتی صلاحیت کو فروغ دیا جا سکے۔یہ اقدام جموں و کشمیر کو ڈیجیٹل مالی حکمرانی کے میدان میں صفِ اوّل کی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں شامل کرے گا اور ایک شفاف، بدعنوانی سے پاک اور شہری مرکز مالیاتی نظام کے لیے ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
4۔میری حکومت اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں رہائش اور کام کے مشکل حالات کے باعث متعدد آسامیاں طویل عرصے سے خالی چلی آ رہی ہیں، جس کے نتیجے میں صحت، تعلیم اور انتظامیہ جیسے اہم شعبوں میں خدمات کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔ میں اس معزز ایوان کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ میری حکومت ایسے دور افتادہ اور سخت حالات والے علاقوں میں تعینات ملازمین کے لیے ایک منظم مراعاتی اسکیم پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، جس کا مقصد ملازمین کو برقرار رکھنا اور دشوار گزار علاقوں میں بسنے والے شہریوں کو سرکاری خدمات تک منصفانہ رسائی فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدام ملازمین کی فلاح و بہبود اور مؤثر حکمرانی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرے گا، تاکہ عملے کی کمی کے باعث جموں و کشمیر کا کوئی بھی علاقہ سرکاری خدمات سے محروم نہ رہے۔
5 ۔میری حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ جو بھی صنعتی یونٹ کسی بھی قسم کی سرکاری رعایت حاصل کرے، خواہ وہ سبسڈی، بجلی یا زمین کی شکل میں ہو، وہ جموں و کشمیر کے مقامی نوجوانوں کو روزگار میں ترجیح دے۔اس طرح صنعتی ترقی براہِ راست روزگار، مہارتوں اور آمدنی کے مواقع میں تبدیل ہو گی۔ یہ پالیسی سرمایہ کاری کو جامع ترقی سے ہم آہنگ کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ صنعتی ترقی کے فوائد مقامی برادریوں تک منصفانہ طور پر پہنچیں اور علاقائی خوشحالی میں مؤثر کردار ادا کریں۔
6 ۔باغبانی سے وابستہ افراد کی معاونت کے لئے، میں جموں و کشمیر میں ری اسٹرکچرڈ ویدر بیسڈ انشورنس سکیم (RWBIS) کے نفاذ کا اعلان کرتا ہوں، جس کے تحت کشمیر ڈویژن میں سیب (روایتی اور ہائی ڈینسٹی دونوں) اور زعفران اور جموں ڈویژن میں آم، لیچی اور زعفران شامل ہوگے۔اس اسکیم کے تحت بیمہ شدہ رقم 6,594.93 کروڑ روپے ہوگی۔
7 ۔اس وقت 68 کنٹرولڈ ایٹموسفیر (CA) اسٹورز کام کر رہے ہیں جن کی مجموعی گنجائش 2.92 لاکھ میٹرک ٹن (LMT) ہے، جبکہ اصل ضرورت 6.00 LMT ہے۔سال 2025-26 میں مزید 15,000 میٹرک ٹن CA گنجائش شامل کی جا رہی ہے اور 2026-27 میں 38,000 میٹرک ٹن اضافی CA گنجائش کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
8 ۔علاقائی توازن اور CA اسٹوریج انفراسٹرکچر کی وسیع تر تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے، میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ پلوامہ اور شوپیان کے علاوہ دیگر اضلاع میں CA اسٹوریج کے لیے ٹاپ اَپ سبسڈی پر توجہ مرکوز کی جائے، کیونکہ ان اضلاع میں CA گنجائش پہلے ہی سیر ہو چکی ہے۔اس ہدف کے حصول کے لیے40 CA اسٹورز درکار ہوں گے جن پر 1400 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوگی۔ حکومت 600 کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی اور 2026-27 سے ان سی اے اسٹورز کو ٹاپ اَپ سبسڈی دستیاب ہوگی۔
9۔ حکومت مائیکرو اور اسپرنکلر آبپاشی اسکیم کو فروغ دینے کے لیے 25 فیصد ٹاپ اَپ سبسڈی فراہم کرے گی۔ابتدائی مرحلے میں اس مقصد کے لیے 116.86 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے پانی کے استعمال کی افادیت میں 60 سے 80 فیصد تک اضافہ ہوگا اور 3 لاکھ ہیکٹیئر زرعی زمین کے کسان مستفید ہوں گے۔
10۔ میں خوشبودار اور طبّی پودوں کے لئے 150 کروڑ روپے کے مالی حجم پر مشتمل ایک مشن کا اعلان کرتا ہوں، جس کے لیے آئندہ مالی سال میں 10 کروڑ روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔
11۔ جموں و کشمیر حکومت 1980 کی دہائی سے دنیا بھر سے اعلیٰ جینیاتی نسل کے جانور درآمد کرتی رہی ہے، مگر کچھ سال بعد کراس بریڈ جانور ہی باقی رہ گئے۔گزشتہ سال آسٹریلیا سے 600 ڈورپر اور ٹیکسل بھیڑیں اور امریکہ سے 40 بیل درآمد کئے گئے ہیں اور یہ عمل آئندہ برسوں میں بھی جاری رہے گا۔اعلیٰ جینیاتی نسل کو برقرار رکھنے کے لئے، میری حکومت مرحلہ وار بنیادوں پر 65 کروڑ روپے کی لاگت سے ہر ضلع میں ایک ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی لیبارٹری (ETT Lab)قائم کرے گی۔
12۔میں مختلف مرکزی سکیموں کے باہمی اشتراک اور ان کے بہترین و مؤثر استعمال کے ذریعے دیہی بنیادی ڈھانچے، صفائی و ستھرائی اور ذریعۂ معاش کی معاونت کو مزید مضبوط بنانے کی تجویز پیش کرتا ہوں، جس میں دیہی جموں و کشمیر میں او ڈی ایف پلس (ODF-Plus) درجہ کے حصول پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
13۔ان اثاثوں کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے میں مزید یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ سال 2026–27 سے ضلع کیپیٹل اخراجات (District Capex) فنڈز کو بروئے کار لاتے ہوئے اہل اور باصلاحیت ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی جائیں، تاکہ دیہی صفائی کے بنیادی ڈھانچے کی پیشہ ورانہ انداز میں دیکھ بھال اور نگہداشت کی جا سکے اور یہ سہولیات مسلسل کارآمد، صحت بخش اور برادری کی ملکیت میں رہیں۔ یہ اقدام اثاثوں کی محض تخلیق سے بڑھ کر ان کی پائیداری کی جانب ایک فیصلہ کن پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے اور دیہی علاقوں میں عوامی صحت، ماحولیاتی نتائج اور معیارِ زندگی کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔
14۔میری حکومت مقدس شری امرناتھ جی کے درشن کے لیے آنے والے یاتریوں کی سلامتی، سہولت اور روحانی تجربے کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ سال 2025–26 کے دوران شری امرناتھ جی یاترا سے متعلق 200 سے زائد بنیادی ڈھانچے کے کام مکمل کیے گئے، جس سے یاتریوں کی سلامتی اور مجموعی تجربے میں نمایاں بہتری آئی۔ میں سال 2026–27 کے دوران 180 کروڑ کے تخمینے کے ساتھ بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے اشتراک سے زیارت گاہوں کے بنیادی ڈھانچے کو مزید جدید بنانے کی تجویز پیش کرتا ہوں، تاکہ سڑک رابطہ، ہنگامی ردِعمل کے نظام اوررسدو ترسیلی سہولیات کو بہتر کیا جا سکے۔ یہ اقدام اس امر کو یقینی بنائے گا کہ شری امرناتھ جی یاترا ملک بھر سے آنے والے عقیدت مندوں کے لیے زیادہ محفوظ، ہموار اور باوقار بنے۔
15۔میری حکومت نے جموں و کشمیر بھر کے طلبہ، بالخصوص دور دراز اور پہاڑی علاقوں کے لیے معیاری تعلیم تک یکساں رسائی کو یقینی بنانے کے مقصد س JK e-Pathshala ، DTH چینل کا آغاز کیا ہے۔
16۔یہ فری ٹو ایئر چینل، دوردرشن DTH کے ذریعے نشر کیا جا رہا ہے، جو کلاس اول سے بارہویں تک نصاب سے ہم آہنگ اسباق انٹرنیٹ کنکشن کے بغیر فراہم کرتا ہے۔JK e-Pathshala کے ذریعے براہِ راست اور ریکارڈ شدہ لیکچرز، دہرائی کا مواد اور بار بار نشریات فراہم کی جائیں گی، جس سے کلاس روم کی حدود سے باہر بھی تعلیم کا تسلسل برقرار رہے گا۔اس مقصد کے لیے دو خصوصی ڈیجیٹل اسٹوڈیوز قائم کیے گئے ہیں اور اب تک 300 سے زائد تعلیمی ویڈیوز تیار کی جا چکی ہیں۔ یہ اقدام ڈیجیٹل خلیج کو پاٹنے اور جموں و کشمیر میں شاملاتی، ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیمی نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
17۔آئندہ سال سے ہم e-Pathshala اقدام کے تحت ہر جماعت کے لیے الگ مخصوص چینل بھی تیار کریں گے، جو ہماری تدریسی برادری کی کوششوں کو مؤثر انداز میں تقویت دے گا۔
18۔میری حکومت طلبہ کی ہمہ جہت نشوونما کو فروغ دینے کے لیے جموں و کشمیر کے تمام سرکاری اسکولوں میں اِن ڈور کھیلوں کی سہولیات متعارف کرائے گی۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ میں ذہنی صلاحیتوں، حکمتِ عملی پر مبنی سوچ، یکسوئی اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ کھیل منظم تعلیمی ماحول میں مثبت مسابقت، ٹیم ورک، نظم و ضبط اور ذہنی دباؤ میں کمی کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کھیلوں کی دستیابی سے طلبہ کو فراغت کے اوقات میں اور خراب موسمی حالات کے دوران بھی تعمیری مصروفیت میسر آئے گی۔ اس مقصد کے لئے 18 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
19۔میں 1,000 آنگن واڑی مراکز کو جدید بال ودیالیہ میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کرتا ہوں، جس پر فی مرکز 72,000 روپے لاگت آئے گی۔ ان مراکز میں بہتر تعلیمی ماحول، بچوں کے لیے موزوں بنیادی ڈھانچہ اور اعلیٰ حفاظتی معیار فراہم کیے جائیں گے، تاکہ ہمارے ننھے بچوں کو محفوظ اور تربیت بخش تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔
20۔مزید برآں، میں 127 نئے آنگن واڑی مراکزہر CDPO بلاک میں ایک مرکزتعمیر کرنے کی تجویز پیش کرتا ہوں، تاکہ بنیادی ڈھانچے کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور ہر بچے کو معیاری ابتدائی نگہداشت اور غذائی خدمات تک رسائی حاصل ہو۔
21۔میں 70 کروڑ کی رقم سے 3 لاکھ سے زائد قبائلی طلبہ کے لیے اسکالرشپ معاونت کی تجویز پیش کرتا ہوں، جس میں 2.82 لاکھ روپے پری میٹرک اور تقریباً 17,000 پوسٹ میٹرک درج فہرست قبائلی طلبہ شامل ہیں، تاکہ کوئی بھی قبائلی بچہ مالی دشواری کے باعث تعلیم سے محروم نہ رہے۔جنگلات پر مبنی روزگار کو فروغ دینے کے لیے PM ون دھن یوجنا کے تحت 15 کروڑ کی لاگت سے 100 ون دھن وکاس کیندر قائم کیے جا رہے ہیں۔میں سیاحتی صلاحیت رکھنے والے علاقوں میں قبائلی گھریلوقیام گاہ(Home Stays)کو فروغ دینے کی بھی تجویز پیش کرتا ہوں، جہاں فی یونٹ 5 لاکھ روپے کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی، تاکہ پائیدار آمدنی اور کمیونٹی پر مبنی سیاحت کے ماڈلز تیار کیے جا سکیں۔قبائلی دستکار کلسٹرز کے لیے 50 لاکھ کے ساتھ ایک پائلٹ کمیونٹی پلیٹ فارم بھی شروع کیا جا رہا ہے، تاکہ برانڈنگ اور مارکیٹ تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔
22۔ سری نگر میں واقع لال دیدہسپتال کے توسیعی بلاک کو 2026–27 کے دوران 118 کروڑ روپے کی لاگت سے فعال کیا جائے گا، جس کے ذریعے شعبۂ امراضِ نسواں و زچہ و بچہ کی استعداد میں 108 اضافی بستروں اور نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت یونٹ (NICU) کی سہولت کے ساتھ اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ لال دید ہسپتال میں آئی وی ایف (IVF) سہولت بھی متعارف کرائی جائے گی۔اسی طرح جی ایم سی اننت ناگ میں 249 بستروں پر مشتمل ماں اور بچہ نگہداشت اہسپتال کی تعمیر کا آغاز 2026–27 میں کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ میں آئندہ دو مالی برسوں کے دوران تمام سرکاری میڈیکل کالجوں میں مکمل ایمرجنسی میڈیسن شعبہ جات قائم کرنے کی تجویز پیش کرتا ہوں، تاکہ حادثات کے شکار افراد اور نازک حالت میں موجود مریضوں کے لیے چوبیس گھنٹے ٹراما کیئر، فوری ہنگامی ردِعمل اور بہتر بقا کے نتائج کو یقینی بنایا جا سکے۔
23۔کارڈیالوجی (قلبی امراض) کی خدمات کو جی ایم سی اننت ناگ اور جی ایم سی جموں میں دو نئے کیتھ لیبز کے افتتاح کے ساتھ مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ پی ایم–اے بی ایچ آئی ایم (PM-ABHIM) کے تحت 17 کریٹیکل کیئر بلاکس جن میں دو 100 بستروں اور بارہ 50 بستروں پر مشتمل زیرِ تعمیر ہیں۔ میں 2026–27 کے دوران جی ایم سی راجوری اور جی ایم سی بارہمولہ میں کیتھ لیبز کے قیام کے ذریعے جموں و کشمیر میں جدید قلبی نگہداشت کی خدمات کو مزید مستحکم کرنے کی تجویز پیش کرتا ہوں، جس پر مجموعی طور پر 30 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ اس کے علاوہ چناب ویلی کے لیے جی ایم سی ڈوڈہ میں بھی ایک کیتھ لیب قائم کی جائے گی۔
24۔حالیہ برسوں میں جموں و کشمیر میں کینسر کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو عوامی صحت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ اس مسئلے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے، میری حکومت NITI آیوگ اور ICMR کے اشتراک سے جموں و کشمیر کے لیے کینسر کنٹرول اسٹریٹیجی نافذ کرے گی۔اس حکمتِ عملی کا مرکز کینسر کے انتظام کے لئے مختلف اقدامات ہوں گے، جن میں انفراسٹرکچر کی ترقی، تربیت اور صلاحیت سازی شامل ہے، جو ٹاٹا میموریل سینٹر جیسے قومی سطح کے اداروں کے تعاون سے انجام دی جائے گی۔اس اسٹریٹیجی کا بنیادی زور روک تھام، ابتدائی تشخیص اور بہتر علاج پر ہوگا، جدید تشخیصی آلات اور علاج کی سہولیات کے ذریعے۔ حکومت آبادی پر مبنی کینسر رجسٹری بھی متعارف کرائے گی تاکہ مریضوں کے بہتر انتظام کو ممکن بنایا جا سکے۔
25۔جموں و کشمیر بھر میں طبی خدمات کے معیار اور دستیابی کو بہتر بنانے اور ضمنی (Peripheral) صحت کے نظام کو مضبوط کرنے کے لئے ، میری حکومت پہلے سے قائم ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر ضمنی میڈیکل کالجوں میں خدمات کی ترقی کے لیے ایک مقررہ مدت پر مبنی عملی منصوبہ نافذ کرے گی۔ اس مرکوز ترقی کے نتیجے میں صحت کی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں معیاری بہتری آئے گی، اعلیٰ درجے کے ہسپتالوں پر ریفرل کے دباؤ میں کمی ہوگی، اور بالخصوص دور دراز اور محروم علاقوں میں لوگوں کو ان کے گھروں کے قریب خصوصی طبی خدمات میسر آ سکیں گی۔
26۔میں سرحدی علاقوں میں، جو گولہ باری، سرحد پار واقعات اور قدرتی آفات کے خطرات سے دوچار رہتے ہیں، دو مخصوص ایمرجنسی ا ہسپتال ایک اُڑی اور دوسرا پونچھ میںقائم کرنے کی تجویز پیش کرتا ہوں۔ یہ ہسپتال چوبیس گھنٹے ٹراما کیئر، ہنگامی سرجری اور اہم طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر لیس ہوں گے، تاکہ حادثات، آفات اور سیکورٹی سے متعلق واقعات کے دوران فوری طبی امداد ممکن ہو سکے۔ یہ اقدام سرحدی علاقوں میں آفات سے نمٹنے کی تیاری اور شہری سلامتی کو نمایاں طور پر مضبوط کرے گا اور حساس علاقوں میں رہنے والے عوام کے تحفظ کے لیے حکومت کے عزم کا عکاس ہے۔
27۔میں سرحدی اضلاع کے لیے بلٹ پروف ایمبولینسز کی خریداری کی بھی تجویز پیش کرتا ہوں، جس کے تحت آئندہ مالی سال میں پونچھ اور ٹنگ ڈھارکے لیے ابتدائی طور پر دو ایمبولینسز فراہم کی جائیں گی۔
28۔میں معذور افراد (Persons with Disabilities) کے لیے موجودہ مفت سرکاری ٹرانسپورٹ سہولت کو وسعت دینے کی تجویز پیش کرتا ہوں۔ اس اقدام سے معذور افراد کو نقل و حرکت کی بہتر سہولت حاصل ہوگی۔
29۔مضبوط سماجی تحفظ کے نظام کو یقینی بنانے کے لیے، میں AAY خاندانوں سے تعلق رکھنے والے اُن تمام طلبہ کے لیے جو کلاس 9 سے 12 تک سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں اور کسی دوسری تعلیمی اسکالرشپ اسکیم کے تحت نہیں آتے، مکمل فیس معافی کی تجویز پیش کرتا ہوں۔ اس اقدام سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ انتہائی غریب خاندان کا کوئی بھی بچہ مالی مجبوریوں کی وجہ سے ثانوی تعلیم ترک نہ کرے۔ یہ اسکیم کم مالی بوجھ کے ساتھ انسانی وسائل میں اعلیٰ اثر انگیز سرمایہ کاری ثابت ہوگی۔
30۔اعلیٰ تعلیم تک غریب ترین نوجوانوں کی منصفانہ رسائی کو فروغ دینے اور معاشی مشکلات کے باعث کالج سطح پر ڈراپ آؤٹ کو روکنے کے لیے، میں AAY خاندانوں سے تعلق رکھنے والے اُن انڈر گریجویٹ طلبہ کے لیے، جو سرکاری ڈگری کالجوں میں زیر تعلیم ہیں اور کسی دوسری اسکالرشپ سے فائدہ نہیں اٹھا رہے، مکمل فیس معافی کی تجویز پیش کرتا ہوں۔ اس سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ غربت تعلیمی امنگوں میں رکاوٹ نہ بنے۔
31۔میں 6,000 یتیم بچوں کے لیے ایک اسپانسرشپ اسکیم متعارف کرانے کی تجویز پیش کرتا ہوں، جو اپنے دونوں والدین یا واحد کفیل سے محروم ہو چکے ہیں، آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں رکھتے اورMission Vatsalya کے تحت کسی بھی فائدے کے مستحق نہیں ہیں۔ہر بچے کو 4,000 ماہانہ Direct Benefit Transfer کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے، تاکہ تعلیم، غذا، صحت اور بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ یہ اقدام حکومت کے اس عزم کا مظہر ہے کہ کوئی بھی بچہ اپنی بس سے باہر حالات کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائے۔
32۔کمزور خاندانوں پر گھریلو توانائی کے بوجھ کو کم کرنے، ٹھوس ایندھن کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے ذریعے صحت کے بہتر نتائج حاصل کرنے اور مہنگائی کے دباؤ سے غریب گھرانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے، میں جموں و کشمیر کے تمام AAY خاندانوں کو سالانہ 6 مفت LPG سلنڈر فراہم کرنے کی تجویز پیش کرتا ہوں۔ یہ اسکیم انتہائی محروم طبقات کے لیے براہِ راست اخراجات میں ریلیف فراہم کرے گی۔
مالی سال 2025–26 کے لیے ضمنی گرانٹ
1۔مالی سال 2025–26 کے لیے اصل گرانٹ 1,40,310 کروڑ روپے گراس اور 1,12,310 کروڑ نیٹ، بشمول WMA کے 28,000 کروڑروپے مقرر کی گئی تھی۔ یکم اپریل 2025 سے 31 مارچ 2026 کے دوران، ڈیمانڈ نمبر 01۔جنرل ایڈمنسٹریشن، 02۔ہوم(Home)، 06۔محکمہ بجلی، 07۔تعلیم، 08۔خزانہ، 10۔قانون، 20۔سیاحت، 32-ہارٹی کلچر اور 36۔کوآپریٹو کے تحت خدمات اور ضروری مقاصد پر آنے والے اخراجات کی تکمیل کے لیے 3,077.04 کروڑ کی رقم گرانٹ سے زائد طور پر کنسولیڈیٹڈ فنڈ آف جموں و کشمیر(Consolidated Fund of Jammu & Kashmir) سے نکالی جائے گی۔یہ اضافی اخراجات بنیادی طور پر دربار موو ٹی اے، تنخواہوں کے بقایاجات، گاڑیوں کی خریداری، بجلی کی خریداری، HEPs میں ایکویٹی، مڈ ڈے میلز، پنشن فوائد، CDF، لیو سیلری، سبسڈی، شری امرناتھ جی یاترا اور ری کیپیٹلائزیشن (Recapitalization)سے متعلق اخراجات کے باعث ناگزیر ہوئے۔
مالی سال 2026–27 کے لئے محاصل سے متعلق تجاویز
2۔میری حکومت معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور طبقات کے لیے سماجی تحفظ کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ نچلی سطح کی اصلاحات کے ذریعے قومی معیشت میں جموں و کشمیر کی مسابقت بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔ یہ بجٹ نہ صرف فلاحی اقدامات کو مضبوط بناتا ہے بلکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، پیداواری صلاحیت اور معاشی نمو(Economic growth) کو تیز کرنے کے لیے انقلابی پروگراموں کو بھی فروغ دیتا ہے، تاکہ ایک خوشحال اور ہمہ گیر جموں و کشمیر کی تشکیل ممکن ہو۔ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ یہ تمام اقدامات مالیاتی احتیاط کے اصولوں کے تحت انجام دیے جائیں۔ ہمیں آمدنی میں اضافے کے تمام ممکنہ ذرائع تلاش کرنے ہوں گے، جبکہ غریب طبقات کے لیے سماجی تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ کفایت شعاری اور مؤثر انتظامی اقدامات کے ذریعے اخراجات میں بچت کو یقینی بنانا ہوگا، اور عوامی اخراجات کے اثر کو وسعت، مسابقت اور نجی شراکت کے ذریعے بہتر بنانا ہوگا۔اسی تناظر میں HSD پر رعایت میں 2 روپے فی لیٹر کمی کی تجویز پیش کی جاتی ہے۔ اس سے HSD کی قیمتوں میں معقولیت آئے گی اور صاف ستھری ٹیکنالوجیز کی جانب منتقلی کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اس رعایت میں کمی کے باوجود، جموں و کشمیر میں HSD کی قیمتیں اب بھی ہماری ہمسایہ ریاستوںپنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش اور دہلی کے مقابلے میں کم رہیں گی۔
بجٹ 2026–27
3۔مالی سال 2026–27 کے لیے مجموعی وصولیاں 1,27,767 کروڑروپے متوقع ہیں، جن میں Ways and means advancesاور over-draft کی مد میں 14,000 کروڑ شامل ہیں۔ ان وصولیوں کی بنیاد پر مجموعی اخراجات بھی 1,27,767 کروڑروپے اندازہ کیے گئے ہیں۔مالی سال 2026–27 کے لیے خالص بجٹ تخمینے 1,13,767 کروڑ ہیں، جن میںWays and means advancesاورover-draft شامل نہیں ہیں۔ اس میں 80,640 کروڑ اور 33,127 کروڑ بالترتیبRevenue Expenditure اورCapital Expenditure کے تحت شامل ہیں، جبکہBudget Estimates 2026–27 کے مطابق متوقع Revenue Receipt 90,018 کروڑروپے اورCapital Receipt 23,749 کروڑروپے ہیں۔محاصل (ٹیکس اور غیر ٹیکس دونوں) سے حاصل ہونے والی اپنی آمدنی 31,800 کروڑروپے اندازہ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، 42,752 کروڑروپے مرکزی معاونت کے طور پر اور13,400 کروڑروپے CSS کے تحت جموں و کشمیر کو موصول ہوں گے۔
مالیاتی اشاریے (Fiscal Indicators)
۴۔مالی سال 2025–26 کے لیے ٹیکس/جی ڈی پی شرح 7.5فیصدمتوقع تھی، جبکہ 2026–27 کے لیے یہ شرح 6.6 فیصدمتوقع ہے۔
مالی سال 2025–26 کے لیے مالیاتی خسارہ 2.98 فیصداندازہ کیا گیا تھا، جو 2024–25 (RE) کے 5.5 فیصدکے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھا۔ مالی سال 2026–27 کے لیے مالیاتی خسارہ 3.69 فیصدمتوقع ہے، جو 2025–26 (RE) کے 3.63 فیصدکے مقابلے میں قدرے زیادہ ہے۔
مالی سال 2025–26 کے لئے جی ڈی پی 2,88,422 کروڑروپے اندازہ کی گئی تھی، جس میں پچھلے سال کے مقابلے 9.5 فیصداضافہ ہوا۔ مالی سال 2026–27 کے لئے جی ڈی پی 3,15,822 کروڑ(Indicative Nominal GDP)متوقع ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے 9.5 فیصداضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
معزز سپیکر صاحب!
ان کلمات کے ساتھ، میں مالی سال 2026–27 کے لئے جموں و کشمیر کا بجٹ اس معزز ایوان کے غور و فکر کے لئے پیش کرتا ہوں۔
شکریہ!
جے ہند