لیفٹیننٹ گورنرنے نوجوانوں کی تربیت، بے لوث خدمت کے فروغ اور ایک ترقی یافتہ معاشرے اور قوم کی تعمیر میں این سی سی کے کردار کو سراہا
جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے پیر کے روز کہا ،’’ایک ترقی یافتہ معاشرے اور ترقی یافتہ قوم کا اصل مطلب صرف بنیادی ڈھانچے، جدید ٹیکنالوجی، یا اقتصادی ترقی تک محدود نہیں ہے۔ ایک ترقی یافتہ معاشرہ اور قوم وہ ہوتی ہے جہاں لوگوں کا کردار مضبوط ہو، سماجی اَقدار مستحکم ہوں اور سماجی تانا بانا اتحاد کے ساتھ جڑا ہو۔‘‘ اُنہوں نے کہا کہ قوم کی اصل شناخت اس کے شہریوں کی سوچ، کردار اور باہمی اعتماد سے اُبھرتی ہے اور اس فکری و اخلاقی دولت کو نوجوان ہی تشکیل دیتے ہیں۔منوج سِنہانے کہا،’’ترقی یافتہ قوم کی بنیاد نوجوانوں کی طاقت پر ہوتی ہے ۔نوجوان کسی بھی ملک کی سب سے زیادہ متحرک، تخلیقی اور تبدیلی لانے والی قوت ہوتے ہیں۔ نوجوان ہی تبدیلی کے محرک ہوتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر این سی سی ڈائریکٹوریٹ جموں و کشمیر اور لداخ کے ان کیڈٹوں سے خطاب کر رہے تھے جو یوم جمہوریت کیمپ میں شرکت کے بعد نئی دہلی سے واپس آئے تھے۔اُنہوںنے نوجوانوں کی تربیت، بے لوث خدمت کے فروغ اور ایک ترقی یافتہ معاشرے اور قوم کی تعمیر میں نیشنل کیڈٹس کور( این سی سی )کے کردار کو سراہا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ این سی سی نے نوجوانوں کو اس فہم سے روشناس کیاہے کہ قومی مفاد ذاتی فائدے سے بالاتر ہے اور معاشرتی فلاح کیلئے اِجتماعی طور پر کام کرنا ہی حقیقی قیادت کی علامت ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’1948 سے این سی سی نے ملک کے نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد ہوتے ہیں۔ این سی سی نے کیمپوں، تربیت، ثقافتی پروگراموں اور سماجی مہمات کے ذریعے نظم و ضبط، قیادت، ٹیم ورک اور خدمت جیسی اَقدار کو لاکھوں نوجوانوں کی زندگیوں میں شامل کیا ہے۔ این سی سی نے نوجوانوں کو یہ شعور دیا ہے کہ قومی مفاد ذاتی فائدے سے مقدم ہے اور معاشرتی فلاح کے لئے اِجتماعی کوشش ہی حقیقی قیادت ہے۔‘‘
منوج سِنہا نے اِس بات پر زور دیا کہ جب تک نوجوان سہولیت کے بجائے فرض کو ترجیح نہیں دیتے اور ذاتی مفاد پر معاشرے کی فلاح کو مقدم نہیں رکھتے، تب تک حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ معاشرہ اور قوم تشکیل نہیں پا سکتی۔اُنہوں نے کہا، ’’جب دیانت داری، محنت اور خدمت کا جذبہ نوجوانوں کی زِندگی کا حصہ بن جاتا ہے تو ترقی محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رہتی بلکہ زِندگی کی اَقدار سے جُڑ جاتی ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے این سی سی کیڈٹوں سے خود کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کی اپیل کی۔اُنہوں نے کہا،’’آپ کی ذاتی ترقی براہِ راست ملک کی ترقی سے جُڑی ہوئی ہے۔ جب این سی سی کیڈٹوں اور نوجوان معاشرے میں کسی بھی شعبے میں نئے اعتماد کے ساتھ بہترین کارکردگی کی طرف بڑھتے ہیں تو وہ نہ صرف اَپنا مستقبل محفوظ کرتے ہیں بلکہ ملک کی ترقی میں بھی اپنا حصہ اَدا کرتے ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے اِس بات کو اُجاگر کیا کہ جموں و کشمیر کے این سی سی کیڈٹوں پر بھائی چارے کو مضبوط بنانے کی بڑی ذِمہ داری عائد ہوتی ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’میں جموں، کشمیر اور لداخ این سی سی ڈائریکٹوریٹ کے کیڈٹس سے چاہتا ہوں کہ وہ اَپنے اجتماعی کام سے علاقہ، زبان، ذات اور مذہب کی دیواروں کو ختم کریں۔ ترقی صرف ’میں‘تک محدود نہیں ہے بلکہ حقیقی معنوں میں ’ہم‘سے جڑی ہوئی ہے۔ اِس اجتماعی جذبے کو عملی شکل دینے میں ہندوستان کی کوئی اور تنظیم این سی سی سے زیادہ مؤثر کردار ادا نہیں کر سکی۔‘‘لیفٹیننٹ گورنرنے کہا،’’میں چاہتا ہوں کہ آپ قومی اور بین الاقوامی تجربات، مشترکہ تجربات اور مشترکہ اہداف کے ذریعے ہر ضلع کے سماجی ڈھانچے میں احترام اور اعتماد کے جذبات پیدا کریں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ باہمی بھائی چارہ تعاون، حساسیت اور اِجتماعی ذمہ داری سے پروان چڑھتاہے۔ تمام این سی سی کیڈٹوں کو مل کر ایسا ماحول بنانا چاہیے جہاں اتحاد روزمرہ کی مشق ہو اور تنوع کو معاشرے کی طاقت میں بدلا جائے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کے مختلف شعبوں میں کردار اَدا کرنے کے لئے ہمیںاَ خلاقیات اور سماجی ذِمہ داری پر مبنی قیادت کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آئی ٹی ہو، صنعت ہو، تعلیم ہو، آرمڈ فورسزہو یا ثقافت تمام شعبوں میں جوابدہی کے ساتھ کام ہونا چاہیے۔
منوج سِنہانے جموں، کشمیر اور لداخ این سی سی ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے تربیت میں ڈرون ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کے اقدام کی ستائش کی جو عالمی تبدیلیوں کے مطابق ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ مجھے پورا یقین ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف ملک کا مستقبل بلکہ اس کی موجودہ طاقت بنیں گے۔ انہوں نے دستے کی کامیابی میں نمایاں تعاون کرنے پر کیڈٹس کو سر ٹیفکیٹ آف ایکسیلنس سے بھی نوازا۔ اُنہوں نے کیڈٹس اور این سی سی افسران کو کرتاویہ پاتھ اور دیگر مختلف مقابلوں میں شاندار کارکردگی پر مُبارک باد دِی۔ کیڈٹس نے یوم جمہوریہ کیمپ میں اَپنے تجربات کا بھی اشترا ک کیا ۔اِس برس جموں، کشمیر اور لداخ این سی سی ڈائریکٹوریٹ کے کل 128 کیڈٹس نے یوم جمہوریت کی تقریبات میں شرکت کی۔بارہمولہ کی ایس یو او ارپندیب کور3 جے اینڈ کے بٹالین این سی سی کو آپریشن سندور کے دوران شاندار قیادت اور خدمات پر باوقار رکشا منتری پدک سے نوازا گیاجبکہ لیفٹیننٹ رُخسانہ کوثر کو فرض شناسی اور لگن کے اعتراف میں چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے توصیفی اعزاز سے نوازا گیا۔اِس کے علاوہ، ڈائریکٹوریٹ نے 11 ڈِی جی این سی سی تمغے اور توصیفی کارڈز حاصل کئے جو مختلف شعبوں میں شاندار کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔بارہمولہ کے کیڈٹ 7 جے اینڈ کے بٹالین این سی سی توحید الطاف کو کرتاویہ پتھ پر آل انڈیا این سی سی بوائز کنٹی جنٹ کا پریڈ کمانڈر مقرر کیا گیا۔ مزید اعزاز کے طور پر سمرتی کلہوریہ 8 جے اینڈ کے بٹالین این سی سی کی کیڈٹ کو پی ایم ریلی کے دوران وزیر اعظم ہند کی پائلٹ کے طور پر خدمات انجام دینے کا نادر موقع حاصل ہوا جس نے جموں، کشمیر اور لداخ کے این سی سی کیڈٹس میں رکھے گئے اعتمادکو اُجاگر کیا۔اِس کی مسلسل شاندار کارکردگی، تیز رفتار تبدیلی اور نمایاں کامیابیوں کے اعتراف میں این سی سی ڈائریکٹوریٹ جموں، کشمیر اور لداخ کو ڈائریکٹر جنرل کا ’’موسٹ امپرووڈ ڈائریکٹوریٹ ایوارڈ‘‘دیا گیا اور یوم جمہوریت 2026 کے دوران آل اِنڈیا سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ۔ا ِس موقعہ پر وِی ایس ایم ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل جموںوکشمیر اور لداخ ڈائریکٹوریٹ میجر جنرل اے بیولی، جموں و کشمیر اور لداخ این سی سی ڈائریکٹوریٹ کے سینئر اَفسران اور انسٹرکٹر، لوک بھون کے اَفسران بھی موجود تھے۔










