لیفٹیننٹ گورنر نے یومِ شہدأ کے موقعہ پر تمام عظیم مردوں اور خواتین کی قربانیوں اور خدمات کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا
جموں// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی برسی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔اُنہوںنے کہا،’’میرا ماننا ہے باپو آج کی دنیا کیلئے ایک زندہ رہنما ہیں۔ عدم تشدد، سچائی اور خود انحصاری پر مبنی اُن کا فلسفہ آج بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا بھارت کی آزادی کی جدوجہد کے دوران تھا جو عصری بحرانوں سے نمٹنے اور عالمی معاشرے کے اِجتماعی مستقبل کو خطرہ پہنچانے والے اِختلافات کو دور کرنے کیلئے لازوال حکمت فراہم کرتا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر گاندھی گلوبل فیملی جموں و کشمیر کے زیر اہتمام منعقدہ ایک پُر وقار تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اُنہوںنے یومِ شہدأ کے موقعے پر تمام عظیم مردوں اورخواتین کی قربانیوں اور خدمات کو بھی یاد کیا اور اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔اُنہوں نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی دیرپا اَمن کی خواہش اور گاندھیائی اَقدار اور نظریات کی لازوال اہمیت پر بات کی جو ہمیں صدیوں سے رہنمائی فراہم کر رہی ہیں۔لیفٹیننٹ گورنرنے کہا ،’’پوجیا باپو نے اَپنی زِندگی اور اَپنے کاموں کے ذریعے یہ دکھایا کہ بامعنی تبدیلی کے لئے صرف طاقت نہیں بلکہ کردار اور مخلصانہ کوشش ضروری ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا،’’دُنیا اور عالمی معاشرہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ اِنسانیت آج نئے چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے آشوب دور میں پوجیا مہاتما گاندھی کی پُرسکون مگر مضبوط آواز عالمی معاشرے کو طاقت اور رہنمائی فراہم کرتی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے باپو کے ایک مضبوط، پُرامن اور جامع معاشرے کے ویژن کی مزید وضاحت کی۔اُنہوں نے کہا،’’باپو کا ویژن تھا کہ بنیادی حقوق۔اِنسانی وقار، مساوات، اِنصاف، پسماندہ طبقوں کی فلاح و بہبود، خواتین اور نوجوانوں کے حقوق، وقار اور اتحادکا تحفظ کرکے ہم سنگین چیلنجوںکے باوجود ایک مضبوط اور ناقابلِ شکست معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔‘‘
منوج سِنہا نے اَپنے خطاب میں نوجوانوں پر زوردیا کہ وہ گاندھی جی کی عدم تشدد کو کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ حوصلے کے طور پر تسلیم کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ قربانی اور ستیہ گرہ کے ذریعے گاندھی جی نے عدم تشدد کو عملی حکمت کے طور پر پیش کیا۔اُنہوں نے کہا،’’گاندھی جی نے اپنی پوری زندگی میں انتقام کے بجائے مکالمے، غصے کے بجائے ہمدردی اور تصادم کے بجائے سمجھوتے کی وکالت کی۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’باپو نے یہ ثابت کیا کہ اخلاقی اَقدار اِنسانیت کی اصل طاقت اور بیش قیمت خزانہ ہیںجو ایک متحد معاشرے کو ہر چیلنج پر قابو پانے کے قابل بناتے ہیں۔‘‘اُنہوں اَپنے پختہ یقین کا اظہار کیا کہ عالمی مایوسی کے وقت گاندھیائی اَقدار اور اصولوں سے اُمید ابھرے گی۔منوج سِنہانے کہا،’’گاندھی جی کی اقدار پر عمل پیرا ہو کر ہم موجودہ مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں، بہتر مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں، عالمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتے ہیں اور اِنسانی فلاح و بہبود کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔‘‘اُنہوںنے مشاہدہ کیا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں گاندھی جینتی کی عظیم تقریبات نے معاشرے پر گہرا اور اِنقلابی اثر ڈالا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی ’‘ترنگا یاترا‘،’ہر گھر ترنگا‘ اور’وندے ماترم‘جیسے قومی یکجہتی کے پروگراموں میں عوام کی بھرپور شرکت سے واضح طور پر نظر آتی ہے۔اُنہوں نے شہریوں سے ’اُجول جموںوکشمیر‘ اور’اُجول بھارت ‘ کے لئے اجتماعی عہد لینے کی بھی اپیل کی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے شہدأ اور آنجہانی ڈاکٹر راج کمار تھاپا کے اہلِ خانہ اور ان شہریوں کے اہلِ خانہ کو اعزاز سے نوازا جو آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی بلا اِشتعال فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے تھے۔سکولی طلباء کو گاندھیائی اقدار کے فروغ میں ان کی کوششوں کے اعتراف میں شانتی دوت پُرسکار سے نوازا گیا۔ اِس کے علاوہ سول اِنتظامیہ، جموں و کشمیر پولیس اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے اَفسران کو راشٹریہ سیوا پُرسکار بھی عطا کئے گئے۔اِس سے قبل بابائے قوم اورہندوستان کی جدوجہد آزادی کے دوران عظیم قربانیاں دینے والے شہدأ کے احترام میں دو منٹ کی خاموشی اِختیار کی گئی۔ یادگاری تقریب میں پدم شری ،صدر گاندھی گلوبل فیملی جموںوکشمیر ڈاکٹر ایس پی ورما ، اراکین قانون ساز اسمبلی یدھویر سیٹھی اور دیویانی رانا ، چیف الیکٹورل آفیسر جموںوکشمیر سنجیو ورما ، جی او سی 25 انفنٹر ڈویژن میجر جنرل کوشک مکھرجی، جی او سی 26 ڈویژن میجر جنرل اجیت ایم یولے،آئی جی پی جموں بھیم سین توتی، ڈِی آئی جی جموں ۔ سانبہ ۔ کٹھوعہ رینج شیو کمار شرما، ضلع ترقیاتی کمشنر جموںڈاکٹر راکیش منہاس،نائب صدر گاندھی گلوبل فیملی لیفٹیننٹ جنرل آر کے شرما (ریٹائرڈ)، سینئر اَفسران، سابق فوجی اہلکار، شہدأ کے اہلِ خانہ، ممتازشہری اور بڑی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی اور مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔










