editorial

یومِ جمہوریہ،آئین، شعور اور ذمہ داری کا دن

یومِ جمہوریہ محض ایک سرکاری تعطیل یا تقریب کا نام نہیں، بلکہ یہ دن ہمارے قومی ضمیر کی تجدید کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ایک قوم نے صرف آزادی حاصل کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے لیے ایک باقاعدہ آئینی راستہ منتخب کیا۔ 26 جنوری 1950ء کو ہندوستان نے خود کو صرف آزاد ہی نہیں بلکہ باقاعدہ طور پر ایک جمہوری ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اقتدار کا اصل سرچشمہ عوام ہیں اور آئین ہی وہ واحد حصار ہے جو ہمیں ظلم اور ناانصافی سے پناہ دیتا ہے۔
آج سوال یہ نہیں کہ ہم نے آئین بنا لیا، سوال یہ ہے کہ ہم نے آئین کو سمجھا کتنا؟ ہم نے مساوات، انصاف، آزادی اور اخوت جیسے الفاظ کو صرف کتابوں تک محدود کر دیا ہے یا انہیں اپنی عملی زندگی میں بھی جگہ دی ہے؟ ایک معاشرہ اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب آئین صرف عدالتوں میں نہیں بلکہ لوگوں کے کردار میں نظر آئے۔ ہمارے دستور سازوں نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی قیادت میں جو آئین ہمیں دیا، وہ دنیا کی بہترین جمہوری روایات کا نچوڑ ہے۔ یہ آئین ہمیں نہ صرف ‘اظہارِ رائے کی آزادی‘ دیتا ہے بلکہ ‘مساوات‘ اور ‘سماجی انصاف‘ کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں قدم قدم پر بولیاں بدلتی ہوں اور میلوں پر ثقافتیں رنگ بدلتی ہوں، وہاں آئین ہی وہ لڑی ہے جس نے اس عظیم ملک کو ایک لڑی میں پرو رکھا ہے۔ آج کے نوجوانوں کے لیے یہ دن خاص پیغام رکھتا ہے ـ جمہوریت وراثت میں ملنے والی چیز نہیں، اسے سنبھالنا پڑتا ہے۔ سوال کرنا سیکھو، مگر تہذیب کے ساتھ۔ اختلاف رکھو، مگر احترام کے ساتھ۔ تبدیلی چاہو، مگر شعور کے ساتھ۔
26 جنوری ہمیں ہمارے شہیدوں کی قربانیوں اور آئین سازوں کی محنت کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن ہندوستانیوں کو یاد دلاتا ہے کہ اقتدار عوام کے ہاتھ میں ہے اور ہمیں ملک کی وحدت و سالمیت کی حفاظت کرنی چاہیے اور ہمارا ہر عمل ملک کی سالمیت اور آئین کی حرمت کے لیے وقف ہونا چاہیے۔ اسی صورت میں ہم ایک حقیقی اور مضبوط جمہوریہ کہلانے کے حقدار ہوں گے۔