چلہ کلان کے آخری ایام میں سرینگر بھی برف پوش

تازہ برفباری نے پورے خطے کو سفید چادر میں لپیٹ لیا،فضائی و زمینی راستے بند

سرینگر//یو این ایس// وادی میں منگل کے روز ہونے والی تازہ برفباری نے پورے خطے کو سفید چادر میں لپیٹ لیا، تاہم اس خوبصورتی کے ساتھ ساتھ معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے۔ مسلسل برفباری کے باعث سرینگر–جموں قومی شاہراہ کو قاضی گنڈ اور بانہال کے درمیان بند کر دیا گیا، جبکہ فضائی اور ریل آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔یو این ایس کے مطابق محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کے نئے سلسلے کے زیر اثر وادی کے بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی اور بالائی علاقوں میں درمیانی سے شدید برفباری ریکارڈ کی گئی۔ سرینگر سمیت میدانی علاقوں میں ہلکی تا درمیانی برف پڑی، جبکہ سونہ مرگ، گلمرگ اور پہلگام جیسے سیاحتی مقامات بھاری برفباری کے باعث مکمل طور پر برف پوش ہو گئے، جس سے یہ علاقے ایک بار پھر سرمائی جنت کا منظر پیش کرنے لگے۔برفباری کے نتیجے میں سڑک، ریل اور فضائی ٹریفک میں شدید خلل پیدا ہوا۔ حکام کے مطابق سرینگر–جموں قومی شاہراہ پر برف جمع ہونے کے باعث ہر قسم کی ٹریفک معطل کر دی گئی ہے اور برف ہٹانے کا عمل جاری ہے، تاہم تاحال کسی بھی طرف سے گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ریل حکام نے بتایا کہ بانہال سے بڈگام کے درمیان چند مسافر ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ بعض سروسز مکمل طور پر معطل ہیں۔ اسی طرح سرینگر ایئرپورٹ پر رن وے پر برف جمع ہونے کے باعث فضائی آپریشن بری طرح متاثر ہوا اور اب تک کم از کم 50 پروازیں (25 آمد اور 25 روانگی) منسوخ کی جا چکی ہیں۔ ایئرپورٹ حکام کے مطابق انڈیگو اور ایئر انڈیا کی تمام پروازیں آج کے لیے منسوخ کر دی گئی ہیں اور مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ایئرلائن سے رابطہ کریں۔

سڑکوں اور پروازوں کی بندش کے باعث بڑی تعداد میں مسافر اور سیاح مختلف مقامات پر پھنس گئے ہیں۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے مختلف اضلاع میں کنٹرول رومز قائم کر دیے ہیں اور ہیلپ لائن نمبرز جاری کیے گئے ہیں تاکہ عوام کی مدد کی جا سکے۔یو این ایس کے مطابق محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ منگل کی شام تک بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش یا برفباری جبکہ بعض مقامات پر درمیانی سے شدید برفباری، گرج چمک اور تیز ہواؤں کا امکان ہے۔ بدھ کے روز بھی چند علاقوں میں ہلکی برفباری یا بارش ہو سکتی ہے۔دریں اثنا، جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے گیارہ اضلاع کے لیے بلند اور درمیانی درجے کے برفانی تودوں کی وارننگ جاری کی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق گاندربل ضلع میں 2000 میٹر سے بلند علاقوں میں شدید خطرہ ہے، جبکہ اننت ناگ، بانڈی پورہ، بارہمولہ، کولگام، کپواڑہ، ڈوڈہ، کشتواڑ، پونچھ، راجوری اور رام بن اضلاع میں درمیانے درجے کا خطرہ لاحق ہے۔ عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور بلند و خطرناک علاقوں کا رخ نہ کریں۔شدید برفباری کے باوجود سیاحوں کے چہروں پر خوشی دیکھی گئی۔ سرینگر میں موجود کئی سیاحوں نے وادی کو ‘‘حقیقی جنت’’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ برفباری کے دوران کشمیر کی خوبصورتی ناقابلِ بیان ہے۔ ایک سیاح نے کہا، ‘‘میں نے کشمیر کی تصویریں دیکھی تھیں، مگر حقیقت میں یہ جگہ اس سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق زوجیلا پاس میں تقریباً تین فٹ، سونہ مرگ میں دو فٹ، گگن گیر اور کلن گنڈ میں ڈیڑھ فٹ جبکہ گاندربل کے کنگن علاقے میں چار انچ برف ریکارڈ کی گئی ہے۔ ڈائریکٹر محکمہ موسمیات لداخ، سونم لوٹس نے بتایا کہ موسم میں بہتری کا امکان 28 جنوری سے ہے، تاہم سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور برفانی تودوں کا خطرہ برقرار رہے گا۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ایڈوائزری پر عمل کریں اور موسم بہتر ہونے تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔