اننت ناگ// وزیربرائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو نے شہید ہمایوں مزمل میموریل گورنمنٹ ڈِگری کالج بوائز میں 77ویں یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے موقعہ پر قومی پرچم لہرایا۔اُنہوں نے پریڈ کا معائینہ کیا اور سی آر پی ایف، جموں و کشمیر پولیس، ہوم گارڈز، جموںوکشمیر پولیس بینڈ، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، این سی سی اور مختلف سکولوں کے طلبأ کے دستوں سے سلامی لی۔سکینہ اِیتونے یومِ جمہوریہ کے موقعے پر اَپنے خطاب میں اِس دن کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسی دن ہندوستان میں آئین نافذ ہوا اور ہمارا ملک ایک جمہوری ملک بنا۔اُنہوں نے کہا کہ یہ عظیم دن ہمیں یہ بھی یاد دِلاتا ہے کہ اصل طاقت کسی ادارے یا فرد کے بجائے عوام کے پاس ہوتی ہے۔وزیرموصوفہ نے اَپنے خطاب میں گزشتہ 15 ماہ کے دوران حکومت کی اہم کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرکوز طرزِ حکمرانی، عوام دوست پالیسیاں اور شفاف اِنتظامیہ نے مختلف شعبوں بالخصوص صحت، تعلیم، سماجی بہبود، آر اینڈ بی اور دیگر شعبوں میں عوامی خدمات کی فراہمی کو مضبوط کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد جموں و کشمیر میں ہر شعبے میں ترقی کی نئی صبح دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا،’’جموں و کشمیر ایک فلاحی ریاست ہے، مختلف فلاحی سکیموں کی عمل آوری کو مؤثر بنایا گیا ہے اور مستحق افراد اِن سکیموں سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 12 سے 14 ماہ کے دوران شادی امداد سکیم میں اضافہ، بڑھاپے کی پنشن، بیوہ پنشن، معذوری پنشن میں اضافہ اور شادی امداد سکیم سے تعلیمی پابندی کا خاتمہ حکومت کی نمایاں کامیابیوں میں شامل ہیں۔وزیر صحت نے کہا کہ جموں و کشمیر کے طول و عرض میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا گیا ہے بالخصوص دیہی اور دُور دراز علاقوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ دیہی اور پسماندہ علاقوں کے ہسپتالوں اور صحت مراکز میں ڈاکٹروں اور دیگر ضروری طبی عملے کی تعیناتی کی گئی ہے تاکہ لوگوں کو ان کے قریب ہی بہتر علاج کی سہولیت میسر ہو۔اُنہوں نے کہا،‘‘جموں و کشمیر میں صحت شعبے میں تیزی سے تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ تمام جی ایم سی اور ضلعی ہسپتالوں میں کیتھ لیب، ایم آر آئی، سی ٹی سکین اور دیگر جدید طبی سہولیات قائم کی جا رہی ہیں، تمام سب ڈِسٹرکٹ ہسپتالوں میں ڈائیلاسس مراکز بھی قائم کئے جا رہے ہیں اور صحت عملے کو عوامی ضروریات کے تئیں جوابدہ بنایا گیا ہے۔‘‘
وزیر موصوفہ نے صحت شعبے میں ہونے والی بڑی پیش رفت کا بھی ذکر کیا جن میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل عملے کی بہتر دستیابی، تشخیصی سہولیات میں توسیع اور بالخصوص دیہی و دور افتادہ علاقوں میں عوامی صحت سکیموں کی رسائی میں اضافہ شامل ہے۔اُنہوںنے تعلیمی شعبے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دسویں اور بارہویں جماعت کے نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ سرکاری سکولوں کے طلبأ کسی بھی میدان میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ان نتائج سے تعلیمی سرگرمیوں میں بہتری اور جموں و کشمیر میں بالخصوص سرکاری اِداروں میں تعلیمی شعبے کی ترقی ظاہر ہوتی ہے۔وزیر تعلیم نے تعلیمی شعبے میں نمایاں پیش رفت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سکولوں اور کالجوں کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری، معیاری تعلیم کے فروغ، ڈیجیٹل اقدامات اور سکل ڈیولپمنٹ پر نئی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو مستقبل کے چیلنجوں کے لئے تیار کیا جا سکے۔اُنہوں نے کہا کہ زراعت اور باغبانی شعبے بھی مختلف سکیموں اور پروگراموں کی مؤثر عمل آوری سے ترقی کر رہے ہیں۔وزیر موصوفہ نے حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز سکیموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ’’ مشن یووا‘‘ کا آغاز اس مقصد کے تحت کیا گیا ہے تاکہ نوجوانوں کو ملازمت کے متلاشیوں کے بجائے نوکری دینے والا بنایا جائے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات کے علاوہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے اسامیاں بھرتی ایجنسیوں کو بھیجی جا رہی ہیں۔اُنہوں نے سیاحتی شعبے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس سیاحت کی صنعت کو کچھ دھچکا لگا تھا لیکن وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی ذاتی کوششوں اور حکومت کے دیگر اقدامات کے باعث سیاحت آہستہ آہستہ دوبارہ پٹری پر آ رہی ہے۔ اُنہوں نے ہندوستان کے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر آئیں اور برف پوش پہاڑوں اور وادیوں کی مسحور کن خوبصورتی دیکھیں۔
وزیرموصوفہ نے منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بزرگ شہریوں، والدین، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ نوجوانوں کو منشیات کی بدعت سے بچانے کے لئے فعال کردار ادا کریں۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف سرکاری ادارے اکیلے نہیں جیت سکتے بلکہ اس کے لئے سماجی شراکت داری کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے قانون عملانے والے اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ منشیات کی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کریں اور اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنائیں۔ اُنہوں نے نوجوانوں کے تحفظ اور جموں و کشمیر کے صحت مند مستقبل کے لئے مربوط اقدامات، بیداری مہمات اور بحالی کے پروگراموں کی ضرورت پر زور دیا۔وزیرسکینہ اِیتو نے قوم کی تعمیر میں نوجوانوں کے کردار کو سراہا اور طلبأ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی توانائی تعلیم، اختراع اور سماجی خدمت کی طرف مرکوز کریں۔ اُنہوں نے ان سے اپیل کی کہ وہ امن، نظم و ضبط اور مثبت تبدیلی کے سفیر بنیں۔اِس موقعہ پر اُنہوں نے ضلع اننت ناگ میں تعلیم، صحت، زراعت، دیہی ترقی، خواتین اور نوجوانوں کو بااِختیار بنانے او ر مختلف سکیموں کے تحت بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے حوالے سے حاصل کی گئی اہم کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔ اُنہوں نے ہمہ گیر ترقی، بہتر صحت کے بنیادی ڈھانچے، خواتین کی فلاح و بہبود اور نوجوانوں و پسماندہ طبقوںکو بااختیار بنانے کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے دوران مختلف تعلیمی اِداروں کے طالب علموں نے رنگا رنگ ثقافتی پروگرام پیش کئے جو حب الوطنی کے جذبے کی عکاسی کر رہے تھے۔تقریبات کے موقعے پر وزیر سکینہ ایتو نے بہترین مارچ پاسٹ اور ثقافتی پروگراموں کے فاتحین اورشُرکأ کو انعامات بھی دئیے۔ مختلف محکموں کے متعدد ملازمین کو بھی اُن کی مثالی عوامی خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔اِس موقعہ پرارکان قانون ساز اسمبلی الطاف احمد وانی، ریاض احمد خان، عبدالمجید لارمی، ظفر علی کھٹانہ، پیرزادہ فیروز، چیئرمین ضلع ترقیاتی کونسل ایم وائی گورسی۔ضلع ترقیاتی کمشنر اننت ناگ ایس ایف حمید،ڈی آئی جی ایس کے آر، ایس ایس پی اننت ناگ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنرز (ریونیو اور ترقی)، فوج اور نیم فوجی دستوں کے افسران، مقامی لوگوں کی بڑی تعداد، طلبأاور سرکاری افسران موجود تھے۔










