وزیر اعلیٰ نے جنوبی اور شمالی کشمیر کے اضلاع کے اراکین اسمبلی سے پری بجٹ مشاورت کی

وزیر اعلیٰ نے جنوبی اور شمالی کشمیر کے اضلاع کے اراکین اسمبلی سے پری بجٹ مشاورت کی

جموں و کشمیر بھر میں متوازن ، جامع اور منصفانہ ترقی کے عزم کا اعادہ کیا

سرینگر//بجٹ سیشن 2026-27 کیلئے جاری پری بجٹ مشاورت کے سلسلے کے تحت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز یہاں سول سیکرٹریٹ میں جنوبی اور شمالی کشمیر کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اراکین سے ملاقات کی ۔ اس اجلاس میں وزراء سکینہ ایتو ، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما ، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، پرنسپل سیکرٹری فائنانس ، متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز ، فائنانس ڈیپارٹمنٹ کے سینئر افسران اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے ۔ اجلاس کے دوران جنوبی کشمیر کے اضلاع اننت ناگ ، پلوامہ ، کلگام اور شوپیاں کے اراکین اسمبلی نے اپنے حلقوں میں انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ اور شہری مرکزیت والی فلاح و بہبود کے اقدامات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مختلف تجاویز پیش کیں ۔ اسی طرح شمالی کشمیر کے اضلاع بشمول کپواڑہ ، بارہمولہ اور بانڈی پورہ کے اراکین اسمبلی نے وزیر اعلیٰ کے سامنے اپنے مطالبات اور تجاویز پیش کیں اور بجٹ 2026-27 میں ترقیاتی کاموں اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کیلئے مناسب بجٹ کی فراہمی کا مطالبہ کیا ۔ جنوبی کشمیر کے اضلاع سے شرکت کرنے والے اراکین اسمبلی ( ذاتی طور پر اور ورچوئلی ) میں پیر زادہ محمد سید ، غلام احمد میر ، بشیر احمد شاہ ویری ، عبدالمجید بھٹ ، الطاف احمد وانی ، ریاض احمد خان ، وحید الرحمان پرہ ، حسنین مسعودی ، غلام محی الدین میر ، رفیق احمد نائیک ، محمد یوسف تاریگامی ، پیر زادہ فیروز احمد ، شبیر احمد کلے ، ظفر علی کھٹانہ اور شوکت احمد گنائی شامل تھے ۔ اسی طرح شمالی کشمیر کے اضلاع سے شرکت کرنے والے اراکین اسمبلی میں سیف اللہ میر ، جاوید احمد مرچال ، شیخ خورشید احمد ، جاوید حسن بیگ ، فاروق احمد شاہ ، ڈاکٹر سجاد شفیع ، ریاض جاوید بیدار ، ارشاد رسول کار ، عرفان حافظ لون ، ہلال اکبر لون ۔ نظام الدین بھٹ اور نذیر احمد خان گریزی شامل تھے ۔ قانون سازوں نے بجٹ میں بالخصوص صحت ، تعلیم ، زراعت ، باغبانی ، آبپاشی ، سڑکوں کی توسیع ، کمیونٹی ہالز ، نوجوانوں پر مبنی اقدامات ، کھیلوں کے انفراسٹرکچر ، روز گار کی فراہمی اور دور دراز علاقوں میں فائر اسٹیشنز کے قیام کے چشعبوں میںاضافہ شدہ تخصیصات کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے قدرتی آفات کے دوران جان و مال کے نقصان کو روکنے کیلئے موسمیاتی تبدیلی کے تخفیف کے اقدامات ، عوامی لائیبریریوں اور ہنر مندی کے مراکز کے قیام اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے فنڈز کے بروقت استعمال کیلئے مختص رقوم کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔ اس کے علاوہ قانون سازوں نے آبپاشی کے انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے اور علاقے کے سیاحت کے ممکنہ امکانات کو تلاش کر کے مقامی نوجوانوں کیلئے پائیدار روز گار کے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے قانون سازوں کو یقین دلایا کہ ترقیاتی ترجیحات کے بارے میں پیش کئے گئے مشوروں اور تجاویز کو آنے والے بجٹ میں مناسب غور کیا جائے گا ۔ انہوں نے جموں و کشمیر بھر میں متوازن ، جامع اور علاقائی طور پر منصفانہ ترقی کیلئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ۔