350 واقعات رپورٹ، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی لاپرواہی اب بھی بڑا خطرہ
سرینگر/ یو این ایس// چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ کشمیر، عرفان رسول وانی نے کہا ہے کہ سال 2025 کے دوران کشمیر میں جنگلاتی آگ کے واقعات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اب تک تقریباً 350 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔ انہوں نے منگل کے روز کہا کہ یہ کمی خوش آئند ہے تاہم خطرات اب بھی موجود ہیں۔یو این ایس کے مطابق عرفان رسول وانی نے کہا کہ جنگلاتی آگ عموماً طویل خشک موسم کے دوران شدت اختیار کرتی ہے اور اس میں موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا عنصر بن چکی ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، خشک گھاس اور مسلسل خشک موسم جنگلات کو انتہائی حساس بنا دیتے ہیں، جہاں ایک معمولی چنگاری بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ کشمیر میں رپورٹ ہونے والی زیادہ تر آگ سطحی نوعیت کی ہوتی ہے، تاہم انسانی عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق شرارت اور انسانی لاپرواہی بھی کئی مواقع پر جنگلاتی آگ کی بڑی وجوہات بنتی ہیں۔چیف کنزرویٹر نے کہا کہ محکمہ جنگلات ہر وقت الرٹ ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ضلع میں جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں، جنہیں ضروری آلات اور وسائل سے لیس کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے بروقت اطلاع اور فوری کارروائی انتہائی ضروری ہے، اسی لیے حساس علاقوں میں فائر واچرز تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی واقعے کی فوری نشاندہی ہو سکے۔عرفان رسول وانی نے کہا کہ خشک موسم کے دوران جنگلاتی آگ ایک عالمی مسئلہ ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلی کے باعث کشمیر کے جنگلات خاص طور پر زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ صرف اجتماعی ذمہ داری کے ذریعے ہی اس مسئلے پر بروقت قابو پایا جا سکتا ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جنگلات میں آتش گیر مواد چھوڑنے سے گریز کریں اور کسی بھی جنگلاتی آگ کے واقعے کی فوری اطلاع قریبی محکمہ جنگلات کے دفتر کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔










