جموں کشمیر میں82 ہزار درختوں کی کٹائی کا اعتراف

جموں کشمیر میں82 ہزار درختوں کی کٹائی کا اعتراف

این جی ٹی کی حکومت کو سرزنش، جنگلاتی قوانین کی خلاف ورزیوں پر سنگین سوالات

سرینگر/یواین ایس // جموں و کشمیر میں ماحولیاتی طرزِ حکمرانی شدید عدالتی جانچ کی زد میں آ گئی ہے، جب حکومت نے نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) میں جمع کرائی گئی اپنی تعمیلی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے دوران 82 ہزار سے زائد درخت کاٹے گئے، جبکہ لازمی کمپنسیٹری افارسٹیشن (متبادل شجرکاری) کی شرائط پہلے پوری نہیں کی گئیں۔ اس انکشاف نے جنگلاتی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔یو این ایس کے مطابق یہ معاملہ ماحولیاتی کارکن اور وکیل راسخ رسول بٹ کی جانب سے دائر کردہ درخواست (اصل درخواست نمبر 163/2024) کے تحت سامنے آیا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جنگلات کے تحفظ کے قانون 1980 کے تحت جنگلاتی اراضی کے کسی بھی استعمال سے قبل متبادل شجرکاری اور دیگر حفاظتی اقدامات لازمی ہیں، مگر متعدد منصوبوں میں ان اصولوں کو نظر انداز کیا گیا۔چیف سیکریٹری جموں و کشمیر کی جانب سے این جی ٹی میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق 145 سے 154 ترقیاتی منصوبوں کے دوران مجموعی طور پر 82,327 درختوں کی کٹائی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق حکومت پر 80.73 کروڑ روپے کی کمپنسیٹری افارسٹیشن کی ذمہ داری بنتی ہے، جس میں سے 45.33 کروڑ روپے تاحال ادا نہیں کیے گئے، اس کے باوجود کئی منصوبوں کو آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی۔حکومت نے ان خلاف ورزیوں کی ایک بڑی وجہ 30 جولائی 2019 کے ریاستی انتظامی کونسل کے ایک پالیسی فیصلے کو قرار دیا ہے، جس کے تحت محکموں کو اجازت دی گئی تھی کہ وہ کمپنسیٹری لیویز کی مکمل ادائیگی کے بغیر بھی جنگلاتی اراضی کو غیر جنگلاتی استعمال کیلئے منظور کر سکیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس فیصلے کا مقصد ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کو روکنا تھا۔اس کیس میں خاص توجہ ہندواڑہ،بنگس روڈ پروجیکٹ پر مرکوز ہے، جو ضلع کپواڑہ کے حساس جنگلاتی علاقوں سے گزرتا ہے۔ 35.5 کلومیٹر طویل اس سڑک کا تقریباً 28 کلومیٹر حصہ جنگلاتی زمین سے گزرتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو متعلقہ کمیٹیوں اور کابینہ سے منظوری حاصل تھی اور حتمی کلیئرنس ستمبر 2019 میں دی گئی۔تاہم درخواست گزار راسخ رسول بٹ نے این جی ٹی کے سامنے موقف اختیار کیا کہ تعمیراتی کام اکتوبر 2017 سے ہی شروع ہو چکا تھا، یعنی باضابطہ منظوری سے قبل، جو ماحولیاتی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ رپورٹ میں خلاف ورزیوں کو درست کرنے کے بجائے بعد ازاں قانونی جواز دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق درخواست گزار نے ہندواڑہ اور راجوار علاقوں میں ندی نالوں سے غیر قانونی مٹی اور بجری نکالنے کے الزامات بھی عائد کیے، جس سے ماحولیاتی توازن بگڑنے، دریا کناروں کو نقصان پہنچنے اور عوامی انفراسٹرکچر کو خطرات لاحق ہونے کی بات کہی گئی۔ حکومت نے تاہم ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کان کنی قواعد و ضوابط کے مطابق کی گئی۔مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ جنگلاتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر مداخلت کے باعث انسان اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ قدرتی مسکن متاثر ہونے سے جنگلی جانور انسانی آبادیوں کا رخ کر رہے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق منصوبوں کی منظوری کے وقت وائلڈ لائف مینجمنٹ پلان تیار نہیں کیا گیا، جو ایک سنگین کوتاہی ہے۔درخواست گزار نے اس بات پر بھی اعتراض اٹھایا کہ حکومت نے اپنی رپورٹ میں خلاف ورزیوں کا اعتراف تو کیا، مگر کسی بھی افسر یا ذمہ دار کے خلاف تادیبی یا قانونی کارروائی کی سفارش نہیں کی گئی، جس سے جوابدہی کا نظام کمزور ہوتا ہے۔سماعت کے دوران جموں و کشمیر حکومت کے وکیل نے این جی ٹی سے چار ہفتوں کی مہلت طلب کی تاکہ تفصیلی ایکشن ٹیکن رپورٹ پیش کی جا سکے۔ ٹریبونل نے اس کیس کی اگلی سماعت اپریل 2026 میں مقرر کی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ کیس جموں و کشمیر میں جنگلات کے تحفظ، انتظامی جوابدہی اور ماحولیاتی قانون کی عملداری کے حوالے سے نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے یہ بنیادی سوال بھی جڑا ہے کہ آیا حکومتی پالیسیاں قانونی تحفظات کو کمزور کر سکتی ہیں یا نہیں۔