مسئلہ زندہ ہے لاء یونیورسٹی کا قیام جموں میں ہی قائم کیا جانا چاہیے /ممبر اسمبلی رانداوا
سرینگر/اے پی آئی// جموں کو وادی سے علیحدہ کرنے کے اپنے موقف سے دستبرداری سے انکار کرتے ہوئے بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ممبر اسمبلی نے کہا کہ میں نے 15سال پہلے جو مطالبہ کیا اُس پر چٹان کی طرح اب بھی قائم ہوں ، جس جموںوکشمیر کا وزیر اعلیٰ اس بات کا فلور آف دی ہاوس اقرار کرے کہ جموں وکشمیر تعمیر وترقی کا معاملہ نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ ہے اس جموں وکشمیر سے میں خود کو علیحدہ کرنا چاہتا ہوں ، میں ہندوستانی ہوں اور اپنے لوگوں کو مشکلات سے نجات دلانے کیلئے سیاست میں آیا ہوں، ادھر بی جے پی کے ایک اور ممبر اسمبلی نے کہا کہ جموں کا مطالبہ اب بھی زندہ ہے ، لاء یونیورسٹی یا توجموںمیں قائم ہونی چاہیے یا اس یونیورسٹی کا قیام ہی عمل میں نہ لایا جائے ۔ اے پی آئی نیوز کے مطاق بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اور ممبر اسمبلی شیام لعل شرما نے کہا کہ وہ اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں بلکہ جموں کو الگ ریاست کا درجہ دلانے کی بھر پور وکالت کرتا رہوں گا، جب تک نہ جموںکو الگ ریاست کا درجہ دیا جائے ۔ انہوںنے کہا کہ بی جے پی نے جموں صوبہ میں پارلیمنٹ کی دو نشستیں واضح اکثریت کے ساتھ حاصل کیں اور 29حلقوں میں بی جے پی کے ممبران اسمبلی نے کامیابی کے جھنڈے گارڈ ئیے ہیں ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جموں کو الگ ریاست کا درجہ دلانے والوں کی اکثریت جموں میں موجود ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جو سیاستدان انہیں الزام لگارہے ہیں کہ کانہ چک کو ریاست کا درجہ نہیں دیا جاسکتا ، انہیں آنکھیں کھول دینی چاہیے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس مسئلے سے آنکھیں بند نہیں کرسکتی ۔ انہوںنے کہا کہ 1947سے ہی جموں کے لوگوں کو مصائب و مشکلات سے گزرنا پڑرہا ہے اور ان مسائل کے حل کیلئے کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ اقدامات نہیں اٹھائے گئے ۔ انہوںنے کہا کہ میں نے پہلے 2010میں جموں کو الگ کرنے کا مطالبہ کیا جس پر کانگریس کی ڈسپلن کمیٹی نے انہیں نوٹس نکالی اور مجھے ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے جوابدہ ہونا پڑا۔دلائل رکھنے کے بعد کانگریس کی ڈسپلنری کمیٹی نے انہیں مجھے کلین چٹ دے دی ۔ بی جے پی کے ممبر اسمبلی نے کہا کہ نوگام میں تعمیراتی پروجیکٹ کا افتتاح کرنے کے موقعہ پر جب اس تقریب پر یو پی اے کی چیرپرسن سونیا گاندھی ، وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ 2009میں موجود تھے اُس وقت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر تعمیر وترقی کا نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ ہے اور اسے سیاسی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے ۔ انہوںنے کہا کہ استحصاب رائے کا نعرہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے دیا ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اٹانومی کا نعرہ بلند کیا اور مرحوم مفتی محمد سعید نے سیلف رول اور ڈویل کرنسی کا مطالبہ کیا ۔ جموں وکشمیر میں علیحدگی اور عسکریت پسندی کی بنیادیں مضبوط ومستحکم ہیں اور اس کا خمیازہ جموں کے لوگوں کو بھگتنا پڑرہا ہے ۔ لہذا ایسے جموں وکشمیر کا میں حامی نہیں ہوں میں ہندوستانی ہوں ، میں نے سیاسی اپنے لوگوں کو راحت پہنچانے کیلئے اختیار کی ہے ، انہیں مصائب ومشکلات میں مبتلاء کرنے کیلئے نہیں ۔ ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک اور ممبراسمبلی وکرم رانداوا نے کہا کہ جموں کے شہری الگ ریاست کا مطالبہ کررہے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ مسئلہ زندہ ہے اور اس سے جموں کے لوگوںکو راحت ملے گی ۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ممبر اسمبلی نے کہا کہ یہ مطالبہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک تاریخی عدم توازن سے جڑا ہوا ہے ۔ انہوںنے دعویٰ کیا کہ ماضی میں کشمیر نے لداخ پر بھی غلبہ قائم رکھا تھا جب لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنایا گیا تو صورتحال تبدیل ہوئی ۔ انہوںنے کہا کہ ہم علیحدگی نہیں چاہتے ہیں لیکن کشمیر نے ہمیشہ جموںکو دبائے رکھا ہے ۔ انہوںنے لاء یونیورسٹی کے قیام کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ صرف جموں میں ہی قائم ہونا چاہیے اوراس کے علاوہ یونین ٹیریٹری کے کسی اور حصے میں اس کے قیام کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔انہوںنے کہا کہ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ مرکز کے پاس ہے اور نئی دہلی کو کائل کرنے میں ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ لاء یونیورسٹی کا قیام جموں میں ہی عمل میں لایا جانا چاہیے ۔ جموں کی تعلیمی حیثیت کو اُجاگر کرتے ہوئے رانداوا نے دعویٰ کیا جموں ایک تعلیمی مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جہاں طلبہ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔










