خود انحصاری کیلئے دیسی ساز و سامان اسٹریٹجک ضرورت ہے// آرمی چیف
سرینگر/یو این ایس//بری فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے کہا ہے کہ بھارتی فوج خود کو مستقبل کی جنگوں کے لیے تیار ایک مضبوط اور جدید فورس کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے اور اس مقصد کے لیے دیسی ساز و سامان کا فروغ اب محض ایک ہدف نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکا ہے۔آرمی ڈے پریڈ کے بعد جے پور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل دویدی نے کہا کہ بھارتی فوج کے پاس تربیت یافتہ جوان، جدید آلات اور ملٹی ڈومین آپریشنل صلاحیتیں موجود ہیں، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سپاہی کو مزید باصلاحیت بنایا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا’’گزشتہ چند برسوں میں بھارتی فوج کی سوچ میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ ہم صرف موجودہ چیلنجز سے نمٹ نہیں رہے بلکہ مستقبل کی جنگوں کی بھی تیاری کر رہے ہیں۔ اسی سمت میں نئے ڈھانچے تشکیل دیے جا رہے ہیں، جنہیں مستقبل کی ضروریات کے مطابق تربیت اور ساز و سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔‘‘ آرمی چیف نے بتایا کہ بھیرَو بٹالین اور شکتی بان رجمنٹ جیسے نئے یونٹس قائم کیے گئے ہیں، جو ایک چست، متحرک اور مشن پر مبنی فوج کی عکاسی کرتے ہیں، جو آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ پریڈ کے بارے میں بات کرتے ہوئے جنرل دویدی نے کہا کہ اس میں روایت اور تبدیلی کا حسین امتزاج نظر آیا۔ نیپال آرمی بینڈ نے دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کو اجاگر کیا، جبکہ نئے یونٹس نے فوج کی ابھرتی ہوئی طاقت کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج ہر وقت کسی بھی قسم کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور مستقبل کی جنگی ضروریات کے مطابق خود کو مسلسل ڈھال رہی ہے۔ انہوں نے کہا ’’پریڈ میں ہم نے اپنی تیاریوں کا عملی مظاہرہ کیا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ تیاری مزید مضبوط کی جائے گی‘‘۔‘میڈ اِن انڈیا’ ساز و سامان کی نمائش کا حوالہ دیتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ فوجی تبدیلی کی بنیاد خود انحصاری ہے۔انہوں نے کہا’’بھارتی فوج کو مستقبل میں ایسا ساز و سامان درکار ہے جو ملک میں ہی ڈیزائن اور تیار کیا گیا ہو۔ دیسی سازی اب صرف ایک مقصد نہیں بلکہ اسٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے۔‘‘جنرل دویدی نے کہا کہ ایسے وسائل پر خاص توجہ دی جا رہی ہے جو فوجی کے ساتھ ساتھ شہری مقاصد کے لیے بھی مفید ہوں اور ملک کی مجموعی ترقی میں حصہ ڈالیں۔یو این ایس کے مطابق جے پور میں آرمی ڈے پریڈ کے انعقاد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ راجستھان بہادروں کی سرزمین ہے، جہاں کئی جانبازوں نے تاریخ رقم کی، اسی لیے اس مقام کا انتخاب کیا گیا۔ روس،یوکرین جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ اس تنازعے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی جنگ کی مدت کا پہلے سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ مستقبل کی جنگیں چند دنوں پر میحیط ہو سکتی ہیں اور برسوں تک بھی چل سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کارکردگی بڑھاتی ہے، لیکن یہ افرادی قوت کا متبادل نہیں ہو سکتی۔‘‘چھوٹے اور تیز رفتار یونٹس زیادہ مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ بھیرَو بٹالین کو گھاتک اور اسپیشل فورسز کے درمیان خلا پْر کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا میدانِ جنگ تیزی سے بدل رہا ہے اور ہمیں بھی اسی رفتار سے آگے بڑھنا ہوگا۔‘‘تحقیق و ترقی پر زور دیتے ہوئے جنرل دویدی نے کہا کہ طویل جنگ لڑنے اور مکمل خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ساز و سامان ملک کے اندر ہی تیار اور مرمت کیا جائے۔انہوں نے کہتحقیق و ترقی نہایت اہم ہے۔ جب تک ہم اس پر توجہ نہیں دیں گے، طویل جنگ لڑنے اور خود کفالت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ بھارتی فوج، ڈی آر ڈی او اور تعلیمی اداروں کے اشتراک سے مستقبل کی حکمتِ عملی پر غور و خوض کر رہی ہے، جبکہ انفارمیشن وارفیئر میں ساکھ اور اعتماد کو بھی نہایت ضروری قرار دیا۔










