روایت، محنت اور امید کی کہانی ، ایک مرتی ہوئی ہنر مندی کی نئی زندگی کی تلاش
سرینگر/ یو این ایس// سری نگر کی تنگ گلیوں اور قدیم محلّوں میں آج بھی کہیں کہیں اون کی مخصوص خوشبو اور ہاتھوں کی مسلسل حرکت ایک ایسی روایت کی گواہی دیتی ہے جو خاموشی سے معدوم ہو رہی تھی مگر اب دوبارہ سانس لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ روایت نمدہ سازی کی ہے۔کشمیر کی وہ قدیم دستکاری جس نے صدیوں تک گھروں کی زمین کو حرارت بخشی، مگر جدید دور میں خود بقا کی جنگ ہوئے ہیں، جو اس ہنر کے زوال کی واضح علامت ہے۔یو این ایس کے مطابق نمدا، اون کو بْننے کے بجائے فیلٹنگ کے ذریعے تیار کیا جانے والا قالین ہوتا ہے، ۔ روایت ہے کہ نْبی نامی ایک شخص نے مغل بادشاہ اکبر کے بیمار گھوڑے کے لیے اون سے نرم بچھونا تیار کیا، جو بعد میں نمدا کے نام سے مشہور ہوا۔ وقت کے ساتھ یہ فن صرف شاہی محلوں تک محدود نہ رہا بلکہ عام گھروں، خانقاہوں اور دیہی زندگی کا حصہ بن گیا۔ نمدہ سازی کا عمل بظاہر سادہ مگر حقیقت میں نہایت محنت طلب ہے۔ مقامی بھیڑوں کی اون کو صاف کر کے تہہ در تہہ بچھایا جاتا ہے، اس پر صابن ملا پانی چھڑکا جاتا ہے اور پھر اسے جوٹ یا گھاس کی چٹائی میں لپیٹ کر گھنٹوں ہاتھوں اور پاؤں کی مدد سے رول کیا جاتا ہے تاکہ ریشے آپس میں جڑ جائیں۔ بعد ازاں اس سادہ نمدہ کو رنگین اون یا کشمیری آری کڑھائی سے مزین کیا جاتا ہے، جو اسے ایک فن پارے میں بدل دیتا ہے۔مگر جہاں پشمینہ شال اور لکڑی کی کاریگری عالمی منڈی میں اپنی مضبوط جگہ بنا چکی ہیں، وہیں نمدا جدید صنعتی مصنوعات، مشینی پیداوار اور صارفین کی بدلتی ترجیحات کے باعث پیچھے رہ گیا۔ کم اجرت، سخت جسمانی مشقت، خام مال کی محدود دستیابی، جدید ٹیکنالوجی سے دوری اور ناقص مارکیٹنگ نے اس ہنر کو تقریباً ناپید ہونے کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ کئی کاریگر مجبور ہو کر دوسرے پیشوں کی طرف چلے گئے اور نمدا سازی صرف جزوقتی مشغلہ بن کر رہ گئی۔یو این ایس کے مطابق نمدا کاریگر فاروق احمد خان ان چند لوگوں میں شامل ہیں جو آج بھی اس روایت کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے یہ کام چھوڑ دیا تھا، مگر یہی ہنر ان کے لیے روزگار کا واحد سہارا بنا اور اسی نے انہیں اپنے خاندان کی کفالت کے قابل بنایا۔ مگر وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ روزانہ محض تین سو روپے کی اجرت نئی نسل کو اس پیشے سے جوڑنے کے لیے ناکافی ہے، خاص طور پر جب عام مزدوری میں اس سے کہیں زیادہ آمدنی ممکن ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج کاریگروں کی نئی نسل تقریباً ناپید ہوتی جا رہی ہے۔اسی طرح روایت اور ٹیکنالوجی کے امتزاج نے بھی نئی راہیں کھولی ہیں۔ نونو فیلٹنگ جیسی تکنیک، جس میں ریشم اور اون کو ملا کر ہلکا اور نفیس کپڑا تیار کیا جاتا ہے، اب کشمیر میں بھی متعارف ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایک نئی رولنگ مشین، جسے زلفا اقبال نے تیار کیا، نے پیداواری صلاحیت کو غیر معمولی طور پر بڑھا دیا ہے۔ جہاں پہلے دو کاریگر پورا دن لگا کر ایک قالین بناتے تھے، اب وہی کام آدھے گھنٹے میں ممکن ہو گیا ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مناسب ٹیکنالوجی اپنائی جائے تو یہ ہنر نہ صرف زندہ رہ سکتا ہے بلکہ معاشی طور پر بھی مستحکم ہو سکتا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ نمدہ کی بحالی کے لیے صرف ہنر کو بچانا کافی نہیں بلکہ پورے نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ کاریگروں کو براہ راست مارکیٹ سے جوڑنا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی دینا، آن لائن فروخت کی تربیت فراہم کرنا، اور نمدا کو جی آئی ٹیگ دلوانا ایسے اقدامات ہیں جو اس ہنر کو عالمی سطح پر پہچان دے سکتے ہیں۔ سیاحت کے شعبے کو بھی اس سے جوڑا جا سکتا ہے تاکہ کشمیر آنے والے سیاح نمدا کو نہ صرف خریدیں بلکہ اسے زندہ ثقافت کے طور پر دیکھ بھی سکیں۔یو این ایس کے مطابق نمدا صرف ایک قالین یا دستکاری نہیں بلکہ کشمیر کی تہذیبی یادداشت ہے۔ اگر یہ روایت ختم ہو گئی تو یہ صرف ایک پیشے کا زوال نہیں ہوگا بلکہ ایک پوری ثقافتی شناخت مٹ جائے گی۔یہ سفر ابھی طویل ہے، مشکلات اب بھی موجود ہیں، مگر اب کہانی مکمل مایوسی کی نہیں رہی۔ اگر حکومت، سماجی ادارے، ڈیزائنرز، تعلیمی ادارے اور خود کاریگر مشترکہ طور پر سنجیدہ کوشش جاری رکھیں تو بعید نہیں کہ نمدا ایک بار پھر کشمیر کی پہچان بن جائے ، نہ صرف روایت کے طور پر بلکہ ایک مضبوط معاشی طاقت کے طور پر بھی۔










