2005 کے جیل وارڈرز بھرتی عمل کی تکمیل کا راستہ صاف
سرینگر/ یو این ایس// ایک اہم اور تاریخی پیش رفت میں، سپریم کورٹ آف انڈیا نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں مداخلت سے انکار کر دیا ہے، جس میں سال 2005 میں مشتہر کی گئی جیل وارڈرز کی 172 آسامیوں پر بھرتی کے طویل عرصے سے زیر التوا عمل کو مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی تقریباً دو دہائیوں بعد جموں و کشمیر محکمہ جیل خانہ جات میں تقرریوں کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنچ نے جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کی جانب سے دائر خصوصی اجازتِ درخواست کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کے خواہاں نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملے سے متعلق تمام زیر التوا درخواستیں بھی نمٹا دی گئیں۔یہ ایس ایل پی جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے 21 دسمبر 2023 کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی، جس میں سنٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل کے اس حکم کو برقرار رکھا گیا تھا، جس کے تحت حکومت کی جانب سے بھرتی عمل منسوخ کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔یو این ایس کے مطابق ہائی کورٹ کے فیصلے میں، جسٹس تاشی ربستان اور جسٹس راجیش سیکھری پر مشتمل بنچ نے حکام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھرتی کا عمل ایک اعلیٰ مرحلے تک پہنچنے کے باوجود اچانک منسوخ کرنا صوابدیدی اور غیر منصفانہ اقدام ہے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ امیدواروں نے 2010 میں جسمانی و آؤٹ ڈور ٹیسٹ، جبکہ جنوری 2011 میں تحریری امتحان اور دستاویزات کی جانچ مکمل کر لی تھی، اس کے باوجود نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا۔عدالت نے کہا کہ حکام نے اس معاملے کو 13 برس سے زائد عرصے تک لٹکائے رکھا اور بالآخر فروری 2019 میں مبینہ طریقہ کار کی خامیوں کا حوالہ دے کر بھرتی عمل منسوخ کر دیا، جبکہ امیدواروں کے خلاف کسی بھی قسم کی دھاندلی یا بدعنوانی کا کوئی الزام موجود نہیں تھا۔ مزید برآں، محکمہ قانون نے بھی دو مرتبہ اس مرحلے پر بھرتی منسوخ نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا’’جب انتخابی عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہو، تو حکام سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اس قدر طویل مدت بعد، اور وہ بھی اس وقت جب 2005 سے آسامیاں خالی پڑی ہوں، من مانے انداز میں اسے منسوخ کریں۔‘‘ عدالت نے ان امیدواروں کی حالتِ زار کا بھی ذکر کیا جو تقریباً 20 برس سے انصاف کے منتظر تھے اور جن میں سے کئی اب عمر کی حد عبور کر چکے ہیں۔ عدالت نے حکام کو تین ماہ کے اندر بھرتی مکمل کرنے اور تقرریوں کے وقت ہمدردانہ رویہ اختیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔سپریم کورٹ میں 172 امیدواروں کی نمائندگی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ، سید عادل منیر اندرابی نے کی، جو یونیورسٹی آف کشمیر کے قانون گریجویٹ (2007-2010 بیچ)، سرینگر سے تعلق رکھتے ہیں اور جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری کے ساتھ ساتھ کشمیر ایڈووکیٹس ایسوسی ایشن کے بھی عہدیدار ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے مداخلت سے انکار کے بعد، ہائی کورٹ کے احکامات کو حتمی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، جس سے جموں و کشمیر محکمہ جیل خانہ جات میں جیل وارڈرز کی طویل عرصے سے زیر التوا بھرتی اب مکمل ہونے جا رہی ہے۔










