قبائلی ورثے کا تحفظ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے ۔ رانا
جموں//وزیر برائے جل شکتی ، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور مسٹر جاوید احمد رانا نے زور دیا کہ قبائلی ورثہ ایک زندہ اور متحرک علم کا نظام ہے جو زبان ، عقائد کے ڈھانچے ، روائتی طریقوں اور سماجی تنظیم میں جڑا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے تحفظ کیلئے ایک شرکت پر مبنی ، کمیونٹی کی طرف سے چلایا جانے والا تحقیق فریم ورک درکار ہے جو مقامی معرفتیات اور زندہ روایات کو تسلیم کرے ۔ وزیر نے بطور مہمان خصوصی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ( آئی آئی ٹی ) جموں کی جانب سے منعقدہ ورکشاپ ’’ میپنگ ٹرائبل ہیریٹیج ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورکشاپ ہندوستان بھر کے مقامی کمیونٹیز کی ٖیجیٹل دستاویزی آرکائیول ٹیکنالوجیز اور ثقافتی اظہار ، زبانی روایات اور سماجی ۔ ثقافتی تشکیلات کے ساتھ تنقیدی مصروفیت پر مرکوز تھی ۔ مسٹر رانا نے زور دیا کہ قبائلی ورثے کی حفاظت کو بیرونی مداخلت تک محدود نہیں رکھا جا سکتا بلکہ اسے کمیونٹی کی نگرانی اور نسلوں کی منتقلی میں جڑا ہونا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا ’’ قبائلی ورثہ صرف اس وقت زندہ رہ سکتا ہے جب کمیونٹیز خود اپنی روایات کی فعال نگہبان بنیں ۔ تحفظ ان لوگوں کے اندر سے نامیاتی طور پر پروان چڑھنا چاہئیے جو اس ورثے کو روانہ عمل میں لاتے اور منتقل کرتے ہیں ۔ ‘‘ گوجری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک عصری مواصلاتی ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسی زبان ہے جس کی گہری تاریخی اور تہذیبی وراثت ہے اور اس کے بولنے والے اس کے مستند وارث اور محافظ ہیں ۔ وزیر نے آئی آئی ٹی جموں کی قبائلی تحقیق میں پیش رفت کی تعریف کی اور اسے ایک سماجی طور پر ذمہ دار تعلیمی اقدام قرار دیا ۔










