انٹرنیٹ بلیک آؤٹ، 2 ہزار سے زائد طلبہ خصوصاً میڈیکل طلاب سے رابطہ منقطع
سرینگر/یو این ایس//ایران میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور ملک گیر انٹرنیٹ بندش کے باعث کشمیر کے سینکڑوں خاندان شدید ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا ہیں، کیونکہ وہاں زیرِ تعلیم ان کے بچوں سے کئی دنوں سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو پا رہا۔ ان طلبہ کی اکثریت میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی ہے جو ایران کی نسبتاً کم فیس اور آسان داخلہ پالیسی کے باعث وہاں تعلیم کے لیے گئے ہیں۔یو این ایس کے مطابق کشمیر سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زائد طلبہ اس وقت ایران کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہیں، جو اسے کشمیری نوجوانوں کے لیے بیرونِ ملک تعلیم کا ایک بڑا مرکز بناتا ہے۔ تاہم زمینی حالات کی بگڑتی صورتحال نے والدین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ فون کالز نہیں لگ رہیں، میسجنگ ایپس بند ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی خاموش ہیں، جو عموماً آخری سہارا ہوتے ہیں۔ کئی والدین نے بتایا کہ وہ دن رات خبروں کے چینلز اور بین الاقوامی میڈیا پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں تاکہ اپنے بچوں کی خیریت کے بارے میں کوئی اطلاع مل سکے۔یو این ایس کے مطابق سرینگر کی ایک طالبہ نے مقامی نیوز روم کو فون پر بتایا’’میری دوست ایران میں ہے، کئی دنوں سے اس سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ اس کی والدہ کی حالت تشویشناک ہے۔‘‘چند طلبہ نے انٹرنیٹ کی عارضی بحالی کے دوران مختصر پیغامات بھیجے جن میں انہوں نے زمینی صورتحال کو نہایت خوفناک قرار دیا، جو ان کے بقول گزشتہ سال کی جنگی صورتحال سے بھی زیادہ خراب ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے ملک گیر احتجاج کے دوران لگائی گئی سخت انٹرنیٹ پابندیوں کو اس تشویش کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق بعض علاقوں میں کنیکٹیوٹی ایک فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے اور یہ بندش 80 گھنٹوں سے زائد عرصے سے جاری ہے۔والدین نے حکومتِ ہند اور وزارتِ خارجہ سے فوری مداخلت، واضح ایڈوائزری، ایمرجنسی ہیلپ لائنز اور ضرورت پڑنے پر طلبہ کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔ اگرچہ حکومت نے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت جاری کی ہے اور بھارتی سفارتخانہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم تاحال کسی نئے انخلائی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا۔خاندانوں کو ماضی کی مثالوں سے امید بندھی ہوئی ہے، جن میں کورونا وبا کے دوران اور جون 2025 میں آپریشن سندھو کے تحت سینکڑوں کشمیری طلبہ کو ایران سے بحفاظت وطن واپس لایا گیا تھا۔کشمیر میں متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ دن نہایت کرب ناک ثابت ہو رہے ہیں۔ رابطے منقطع، اطلاعات محدود اور صورتحال غیر یقینی ہونے کے باعث والدین خوف اور امید کے درمیان معلق ہیںکسی ایک فون کال، پیغام یا سرکاری اقدام کے انتظار میں۔










