انتشار پھیلانے والوں کے ا رادوں کو عوام کامیاب نہیں ہونے دیگا /طاریق حمید قرہ
سرینگر/اے پی آئی// جموں صوبہ کے ساتھ کسی بھی نابرابری یا سوتیلی ماں کے سلوک کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے پردیش کانگریس کے صدر نے وادی کشمیر یں لاء یونیورسٹی قائم کرنے اور جموں کی کئی تنظیموں کی جانب سے اس کی مخالفت اور مہم شروع کرنے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی لوگ اپنی سیاست کو چمکانے کیلئے اداروں کے خلاف مہم جوئی شرو ع کرنا چاہتے ہیں جو جموں وکشمیر کے مفاد میں نہیں ہے ۔ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کا حال ہمارے سامنے ہے کیا اب لاء یونیورسٹی کے قیام کو بھی ناممکن بنانا چاہتے ہیں ۔ وقت آئے گا جب جموں صوبہ میں بھی لاء یونیورسٹی قائم ہوگی ۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق وادی کشمیر میں لاء یونیورسٹی کا قیام عمل میں لانے اور جموں صوبہ میں کئی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں ، کارکنوں کی جانب سے جموں صوبہ کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے اور یونیورسٹی قائم کرنے کے خلاف عوامی رابطہ مہم چھیڑنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے پردیش کانگریس کے صدر طاریق حمید قرہ نے کہا کہ جب آنجہانی مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے ایوان میں بجٹ کے دوران سرینگر شہر کو سمارٹ سٹی میں تبدیل کرنے کا منصوبہ رکھا اُس وقت کانگریس سمیت دوسری سیاسی پارٹیوں نے اُس وقت کے وزیر خزانہ کو مشورہ دیا کہ جموں وکشمیر ریاست کے دو دارالخلافہ ہے ایک جموں میں ہے ایک سرینگر میں ۔ اگر سرینگر کو سمارٹ سٹی کا درجہ ملے گا تو جموں کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ انہوںنے کہا کہ پچھلے کئی برسوں سے کئی بڑے ادارے جموں وکشمیر میں قائم ہوئے کیا جموں صوبہ کو برابر کا حق نہیں ملا ،وہ آئی آئی ایم اور دوسرے ادارے ہوں کیا جموں صوبہ میں ان کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا ۔ لاء یونیورسٹی کے خلاف عوامی مہم شروع کرنے کے پیچھے سیاسی اغراض ومقاصد ہیں اور جو لوگ یہ کرنا چاہتے ہیں وہ جموں وکشمیر کے مفادات کے خلاف ہیں ۔ اگر لاء یونیورسٹی کا قیام یا اس کی بنیاد صوبہ کشمیر میں ہونے جارہی ہے کیا وقت نہیں آئے گا کہ جموں میں اس کا کیمپس عمل میں نہیں لایا جاسکتا ۔ پردیش کانگریس کے صدر نے کہا کہ جموں وکشمیر میں انتشار پھیلانے اور یہ تاثر دینے کی بھر پور کوشش ہورہی ہے کہ ایک صوبہ کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے جو حقیقت پر مبنی نہیں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی رجسٹریشن منسوخ ہونا کیا جموں صوبہ کے مفاد میں ہے ۔ طلبہ کے داخلے کے خلاف مہم شروع کی گئی اور نوبت یہاں تک پہنچائی کہ میڈیکل کالج کو ہی بند کرایا ، اب ایسے عناصر لاء یونیورسٹی کے پیچھے پڑے ہیں تاہم ان کے ارادوںکو جموں وکشمیر کا عوام کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیگا۔










