119 کروڑ روپے کے پروجیکٹس کی بنیاد رکھی ، 33 کروڑ روپے کے پروجیکٹس کا افتتاح کیا
جموں//وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے گاندھی نگر میں پی ڈبلیو ڈی کانفرنس ہال میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پبلک ورکس ( روڈز اینڈ بلڈنگز ) ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے چلائے جا رہے پروجیکٹس کا جامع جائیزہ لیا ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ورچوئل موڈ کے ذریعے آر اینڈ بی پروجیکٹس کی 119 کروڑ روپے مالیت کی بنیاد رکھی اور 33 کروڑ روپے مالیت کے آر اینڈ بی پروجیکٹس کا ای افتتاح بھی کیا ۔ اجلاس میں نائب وزیر اعلیٰ مسٹر سریندر کمار چوہدری ، وزیر اعلیٰ کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی ، چیف سیکرٹری مسٹر اتل ڈولو ، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری مسٹر دھیرج گپتا ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی ( آر اینڈ بی ) انیل کمار سنگھ ، کمشنر سیکرٹری فارسٹ ، ایکالوجی اینڈ انوائیرنمنٹ ، چیف انجینئر پی ڈبلیو ڈی ، سینئر انجینئرز ، ایگزیکٹو انجینئرز اور بیکن ، سمپرک ، این ایچ اے آئی اور این ایچ آئی ڈی سی ایل کے نمائندوں سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی ۔ تمام ڈپٹی کمشنرز اور فیلڈ افسران نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی ۔ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے مختلف ایجنسیوں بشمول بیکن ، سمپرک ، این ایچ اے آئی ، این ایچ آئی ڈی سی ایل اور پی ڈبلیو ڈی ( آر اینڈ بی ) کی طرف سے جموں و کشمیر بھر میں چلائے جا رہے بڑے روڈ اور پُل پروجیکٹس کا جائیزہ لیا ۔ روڈ کنیکٹیویٹی کی تیز رفتار بحالی ، مستقل بحالی کے کاموں اور خاص طور پر کمزور اور اسٹریٹجک طور پر اہم علاقوں میں طویل المدتی زیر التواء پلوں کی بحالی پر تفصیلی پریذنٹیشن پیش کی گئی ۔ تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے ہر پروجیکٹ کیلئے واضح ٹائم لائینز طلب کیں اور رائٹ آف وے ( آر او ڈبلیو ) مسائل اور فاریسٹ کلیئرنسز کی صورتحال کا جائیزہ لیا ۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایات دیں کہ وہ جنگلاتی کلیرئنسز کو مربوط انداز میں تیزی سے مکمل کریں اور زور دیا کہ طریقہ کار کی تاخیر کو ڈیڈ لائینز سے چوک جانے کا بہانہ نہیں بننے دیا جانا چاہئیے ۔ وزیر اعلیٰ نے کئی پروجیکٹس میں ٹائم لائینز سے چوک جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور عمل آوری ایجنسی کو ہدایت دی کہ وہ رکاوٹوں کی نشاندہی کریں اور انہیں فوری طور پر حل کریں ۔ انہوں نے زور دیا کہ کام کی سست رفتار انفراسٹرکچر کی ترقی کے مقصد کو شکست دیتی ہے اور عوام کو غیر ضروری تکلیف کا باعث بنتی ہے ۔
عوامی مفاد کو خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دیتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے ایجنسیوں خاص طور پر این ایچ اے آئی اور این ایچ آئی ڈی سی ایل کو ہدایت دی کہ جہاں ٹنل اور بڑے ہائی وے کے کام جاری ہیں وہاں موجودہ سڑکوں کی مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنائیں ۔ انہوں نے عمل آوری ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ جہاں نئے پروجیکٹس یا کام شروع کرنے کی تجویز ہو وہاں جنگلاتی کلیرنسز کا مسئلہ متعلقہ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ باقاعدگی سے اٹھائیں اور یہ سختی سے فارسٹ کنزرویشن ایکٹ ( ایف سی اے ) کی شقوں کے مطابق ہو ۔ وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ پروجیکٹ کے نفاذ کے آخری مراحل میں تاخیر سے بچنے کیلئے فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ابتدائی اور مسلسل رابطہ ضروری ہے ۔ اجلاس میں 2025-26 کے سال کیلئے کیپیکس اخراجات کے تحت بڑی کامیابیوں اور سینٹرلی سپانسرڈ اسکیموں ( سی ایس ایس ) کی کارکردگی کا بھی جائیزہ لیا گیا ۔ وزیر اعلیٰ نے فنڈز کے بہترین استعمال پر زور دیا اور محکموں سے کہا کہ وہ نتائج پر مبنی منصوبہ بندی اور نفاذ کو یقینی بنائیں ۔ شہری مراکز میں بڑھتے ہوئے ٹریفک کی بھیڑ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے محکمہ کو سرینگر اور جموں کے جڑواں شہروں میں فلائی اوورز اور سڑک منصوبوں کیلئے اچھی طرح سوچے سمجھے اور تکنیکی طور پر مضبوط تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس ( ڈی پی آرز ) تیار کرنے کی ہدایات دیں ۔ پائیداری اور موسمیاتی لچک کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ تمام سڑک منصوبوں میں لازمی طور پر مناسب نکاسی آب کے نظام شامل کئے جائیں ۔ وزیر اعلیٰ نے آخر میں دوبارہ زور دیا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی حکومت کی کلیدی ترجیح ہے اور عمل آوری ایجنسیوں کو قریبی تعاون ، اعلیٰ معیار کے معیارات برقرار رکھنے اور منصوبوں کو رابطے اور عوامی سہولت میں حقیقی اور نظر آنے والی بہتری میں تبدیل کرنے کی ہدایات دیں ۔ اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے گاندھی نگر میں پی ڈبلیو ڈی گیسٹ ہاوس کے از سر نو مرمت شدہ کانفرنس ہال اور متعلقہ سہولیات کا افتتاح کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے انجینئرز میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کئے ۔










