ممبر اسمبلی علی محمد ساگر نے پبلک اَنڈر ٹیکنگز میٹنگ کی صدارت کی

ممبر اسمبلی علی محمد ساگر نے پبلک اَنڈر ٹیکنگز میٹنگ کی صدارت کی

جے کے ایم ایس سی ایل کے آڈِٹ پیراز کا جائزہ لیا اور سات دِن میں نئی رِپورٹ طلب کی

جموں// رُکن قانون ساز اسمبلی علی محمد ساگرکی صدارت میں آج یہاں اسمبلی کمپلیکس جموں میں کمیٹی برائے پبلک انڈرٹیکنگز (پی یو سی) کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی تاکہ 2018 کے سال کے لئے سی اے جی کی آڈِٹ رِپورٹ میں شامل صحت و طبی تعلیم (جموں و کشمیر میڈیکل سپلائز کارپوریشن لمیٹڈ) سے متعلق آڈِٹ پیرا نمبر 5.1کا جائزہ لیا جا سکے۔میٹنگ میں اراکین اسمبلی سیف اللہ میر، علی محمد ڈار، رنبیر سنگھ پٹھانیہ، ڈاکٹر بشیر احمد شاہ ویری، شوکت حسین گنائی اور تنویر صادق کے علاوہ سیکرٹری جے کے ایل اے منوج کمار پنڈت بھی موجود تھے۔جموں اور کشمیر میڈیکل سپلائیز کارپوریشن لمیٹڈ (جے کے ۔ ایم ایس سی ایل) کی طرف سے اَدویات اور آلات کی خریداری میں خامیوں کے بارے میں سی اے جی کے آڈِٹ پیرا نمبر 5.1 میں موجود مختلف مسائل پر سیر حاصل بحث و تمحیص ہوئی۔ اکاؤنٹنٹ جنرل جموں و کشمیر تسوانگ تھارچن نے بھی کمیٹی کو محکمہ صحت و طبی تعلیم (جے کے ایم ایس سی ایل) سے متعلق سی اے جی رِپورٹ میںبتائے گئے مسائل کے بارے میں آگاہ کیا۔کمیٹی نے مختلف مسائل تبادلہ خیال کیا جن میں معاہدوں کی شرح کی منظوری میںتاخیر اور اس کے نتیجے میں اَدویات، آلات، مشینری اور دیگر سازوسامان کی خریداری میں تاخیر یا عدم خریداری شامل تھی جس کے نتیجے میں کمپنی کے قیام کے مقصد کو نقصان پہنچا۔سیکرٹری محکمہ صحت و طبی تعلیم ڈاکٹر سیّدعابد رشید شاہ نے کمیٹی کو آڈِٹ پیراز کی صورتحال اور جے کے ایم ایس سی ایل کی کارکردگی کے بارے میں آگاہ کیا جبکہ منیجنگ ڈائریکٹر جے کے ایم ایس سی ایل ٹی ایچ گنائی نے بھی کمیٹی کو بریف کیا۔قانون سازوں نے اپنی قیمتی تجاویز پیش کیں اور جموں و کشمیر میڈیکل سپلائی کارپوریشن لمیٹڈ کے کام کاج کے علاوہ عوامی مسائل کو اُجاگر کیا۔کمیٹی محکمہ صحت و طبی تعلیم (جے کے ایم ایس سی ایل) کی جانب سے آڈِٹ پیرا کے حوالے سے پیش کی گئی وضاحت سے مطمئن نہیں تھی جس پر کمیٹی کے چیئرمین نے سینئر افسران کو ہدایت دی کہ سات دن کے اندر ایک نئی، جامع اور تفصیلی رَپورٹ کمیٹی کو جانچ پڑتال کے لئے پیش کی جائے۔میٹنگ میں ڈائریکٹر فائنانس محکمہ صحت و طبی تعلیم اور متعلقہ محکمے اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے دیگر سینئر اَفسران نے بھی شرکت کی۔