قبائلی طبقے کی اہم شخصیات جاوید رانا سے ملاقی

قبائلی طبقے کی بہبودی سے متعلق اقدامات پر کیا تبادلہ خیال

سری نگر//وزیر برائے جل شکتی ، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی اَمور جاوید احمد رانا نے حکومت کی شراکتی اور جامع حکمرانی کے عزم کی عکاسی کرتے ہوئے ایک بڑے عوامی اقدام کے تحت سری نگر میں کشمیر ڈویژن کی قبائلی کمیونٹیوں کے ممتاز شخصیات کے ساتھ اعلیٰ سطحی اِستفساری سیشن کی صدارت کی۔دن بھر کے اِستفساری سیشن میں قبائلی فنکاروں، مصنفین، شاعروں، سماجی کارکنوں، ماحولیاتی تحفظ کے علمبرداروں، عوامی نمائندوں اور کمیونٹی رہنماؤں کا ایک معزز اجتماع اکٹھا ہواجس نے حکومت اور عوامی نمائندگی رکھنے والی اَقدامات کے درمیان براہ راست گفتگو کے لئے ایک معنی خیز پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔سیشن کا مقصد قبائلی فلاح و بہبود کی حکومت کی پالیسیوں اور پروگراموں کو بہتر بنانے کے لئے حقیقی تجربات اور معلوماتی تجاویز حاصل کرنا تھا۔وزیر جاوید احمد رانا نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس بات چیت کو معمول کی میٹنگ کے بجائے ایک مشترکہ کاوش قرار دیا اور زور دیا کہ حقیقی قبائلی ترقی کمیونٹیوںکی اَپنی خواہشات اور عملی حالات کے مطابق ہونی چاہیے۔اُنہوںنے کہا، ’’یہ بات چیت قبائل کی شمولیت، بااِختیاری اور عزت کے بارے میں ہماری مشترکہ ذِمہ داری کی عکاس ہے۔ ترقی تب ہی دیرپاہو سکتی ہے جب اسے ان لوگوں سے رہنمائی ملے جن کی خدمت کے لئے یہ کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘وزیر موصوف نے جموںوکشمیر کے دُور دراز قبائلی اکثریتی علاقوں میں مؤثر پالیسیوں کی تشکیل اور ان پر عمل آوری کی نگرانی میں ماہرین، منتخب نمائندوں اور سماجی طور پر مؤثر رہنمائی کے اہم کردار پر زور دیا۔اُنہوںنے کہا، ‘‘یہ طریقۂ کار مشترکہ حکمرانی کو فروغ دیتا ہے جہاں پالیسی کا مقصد زمینی حقائق کے مطابق ہوتا ہے۔ جب کمیونٹی کی حکمت عملی اور اِنتظامی عمل ساتھ چلیں تو عوامی فلاح وبہبود کے نتائج بامعنی اور دیرپا بن جاتے ہیں۔‘‘وزیر جاوید رانا نے ادیبوں، فن کاروں، شعرأ اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ قبائلی اور دیگرپسماندہ کمیونٹیوں کے فلاح و بہبودکے اقدامات میں پیش پیش رہیں کیوں کہ ان کا ثقافتی اور سماجی اثر انہیں معاشرے کی رہنمائی اور متحرک کرنے کے لئے ایک منفرد مقام دیتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اِستفساری سیشن ایک سٹریٹجک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا جس سے حکومت قبائلی آبادیوں کی بدلتی ہوئی سماجی، ثقافتی اور اِقتصادی ضروریات کے جواب میں مؤثر طور پر مشغول رہ سکے گی۔
وزیرموصوف نے’’ذمہ دارانہ حکمرانی‘‘ کے ویژن پر زور دیتے ہوئے شرکأ کو یقین دِلایا کہ ان کی فراہم کردہ معلومات مستقبل کی پالیسی فریم ورک میں براہِ راست مددگار ثابت ہوں گی۔بات چیت کے دوران تعلیم ایک اہم توجہ کا مرکز بن کر سامنے آئی۔وزیر جاوید رانانے اس بات کا اعادہ کیا کہ قبائلی تعلیم حکومت کی اوّلین ترجیح ہے جس میں جدید ہوسٹلوں کے ذریعے معیاری رہائشی تعلیم، شیڈولڈ ٹرائب کے طلباء کے لئے بروقت وظیفے اور منظم تعلیمی بیداری پروگراموں پر خاص زور دیا گیا تاکہ کوئی بھی قبائلی بچہ پیچھے نہ رہ جائے۔اُنہوں نے بتایا کہ گجر اور بکری وال ہوسٹلوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا جا رہا ہے اور ایکلاویہ ماڈل رہائشی سکول (اِی آر ایم ایس) کی عمل آوری کے ذریعے معیار تعلیم کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔وزیر موصوف نے روایت کے ساتھ ترقی کے توازن کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی تاریخ، زبانوں، فن اور زبانی روایات کی منظم دستاویز سازی اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ثقافتی تحفظ قبائلی شناخت اور خود اعتمادی کو مضبوط بنانے کے لئے مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور قبائلی تحقیقی ادارے جیسے ادارے اس کوشش میں اہم کردار اَدا کریں گے۔اُنہوں نے کہا کہ عمر عبد اللہ کی قیادت والی حکومت جموں و کشمیر کی قبائلی آبادی کی جامع ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے پوری طرح پُرعزم ہے۔ اُنہوں نے مرکزی حکومت کی قبائلی فلاح و بہبودپر توجہ کو بھی اُجاگر کیا اور فلاحی اقدامات کے ہم آہنگ، مشن موڈ نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر نے قبائلی فلاح کے لئے عملائی جانے والی اہم سکیموں کی تفصیل دی جن میں کیپیکس بجٹ، قبائلی ذیلی سکیم کے لئے خصوصی مرکزی معاونت (ٹی ایس ایس ٹو ایس سی اے)، پردھان منتری آدی آدرش گرام یوجنا (پی ایم اے اے جی وائی )، دھرتی ابھا جنجاتیہ گرام اتکرش ابھیان (ڈِی اے ۔ جے جی یو اے) اور وزیر اعظم وَن دھن یوجنا (پی ایم وِی ڈی وائی) شامل ہیں۔اِستفساری سیشن میں رُکن قانون ساز اسمبلی کوکر ناگ ظفر کھٹانہ، ڈِی ڈِی سی چیئر پرسن اننت ناگ محمد یوسف کوہلی اور ڈِی ڈِی سی وائس چیئر پرسن اننت ناگ نذیر چودھری نے شرکت کی۔ سینئر افسران میں ڈائریکٹر قبائلی امورجموںوکشمیر ممتاز علی، ڈپٹی ڈائریکٹر قبائلی امور جموں اور نوڈل افسر قبائلی تحقیقی ادارہ ڈاکٹر عبد الخبیر اور ڈپٹی ڈائریکٹر قبائلی امور کشمیر سیّد مشتاق رضوی شامل تھے۔
کشمیر ڈویژن کی مختلف قبائلی کمیونٹیوں کے ممتازشہریوں، مصنفین، فنکاروں اور شاعروں نے استفساری سیشن میں بڑھ چڑھ حصہ لیا اور اپنے مطالبات اور تجاویز وزیر کو گوش گزار کئے۔ اہم مسائل میں قبائلی علاقوں میں سہولیات کی اپ گریڈیشن، زبانی تاریخوں کی دستاویز سازی، قبائلی زبانوں اور ثقافت کو فروغ دینا اور کمیونٹی فلاحی سرگرمیوں کے لئے جنگلات سے متعلق اجازت ناموں کو آسان کرنا شامل تھے۔وزیر نے تمام مسائل کوبغور سُنا اور متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ ُاٹھائے گئے مسائل کا فوری اور وقتی ازالہ کو یقینی بنائیں۔ یہ سیشن اعتماد مضبوط کرنے، شمولیتی حکمرانی کو یقینی بنانے اور قبائلی کمیونٹیوں کو جموں و کشمیر کی ترقی کے سفر میں برابر کے شراکت دار کے طور پر بااختیار بنانے کے مشترکہ مقصد کی طرف ایک اہم قدم ہے۔