وزیر اعظم کی بہتر کوششوں ، کاویشوں کے باعث جموں وکشمیر میں امن ، تعمیر وترقی کا آغاز ہوا ہے

وزیر اعظم کی بہتر کوششوں ، کاویشوں کے باعث جموں وکشمیر میں امن ، تعمیر وترقی کا آغاز ہوا ہے

نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی کے لیڈران ملک مخالف بیانات دینے سے گریز نہیں کرتے /رجنی سیٹھی

سرینگر//اے پی آئی// پی ڈی پی ، نیشنل کانفرنس کے بیانات کو ناقابل قبول اور جموں وکشمیر کو منقسم کرنے سے تعبیر کرتے ہوئے بی جے پی کی ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم پچھلے 11برسوں سے جموں وکشمیر کو ترقی کی منزلوں پر لے جانے ،تعمیر و ترقی کے کاموں کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھارہے ہیں تاہم پی ڈی پی ، بی جے پی کی جانب سے ایسے بیانات دئیے جارہے ہیں جن سے جموںوکشمیر کو تقسیم کرنے کی بو آرہی ہے ۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان راجنی سیٹھی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کی جانب سے دئیے جانے والے بیانات کو ناقابل قبول ، ملک دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2014سے وزیر اعظم نریندر مودی جموں وکشمیر کی تعمیر وترقی کیلئے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس دوران انہوںنے ہندئو اور مسلمانوں کو الگ الگ نہیں کیا بلکہ جموں وکشمیر کی مجموعی ترقی کیلئے اپنی خدمات انجام دیں ۔ ترجمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے مختلف مواقوں پر جو بیانات دئیے ہیں ان میں پاکستان کے خاکوں میں رنگ بھرنے اور ملک کے ساتھ برابری کی بوآتی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ دونوں لیڈران نے وقت وقت پر جموں وکشمیر کو کے عوام کو گمراہ کیا ، حال ہی میں وزیر اعلیٰ نے جموں کے طلاب کے بارے میں بیان دیا کہ وہ صلاحیتوں سے مالا مال نہیں ، کیا عمر عبداللہ صرف مسلمانوں کے وزیر اعلیٰ ہیں ہندئوں کے نہیں ، انہوںنے کہا کہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے لیڈروں کی جانب سے دئیے جانے والے بیانات سے وادی کشمیر کے لوگ بھی مشکوک بن گئے ہیں اور انہیں شک کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ایسے لیڈران ملک کی سہولیات استعمال کرتے ہیں اور گیت پاکستان کے گاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کی شہزادی التجا مفتی بنی بنائی کھیر کھانا چاہتی ہے اور ہندوتا کو جموں وکشمیر میں نہ چلنے کی دھمکیاں دے رہی ہیں جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پی ڈی پی ملک مخالف سرگرمیوں کیلئے اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ایک طرف سیاحت کو فروغ دینے اور سیاحوں کو لبھانے کے دعوے کئے جارہے ہیں اور دوسری جانب ہندئوں کو ڈرانے اور دھماکنے کی کارروائیاں بھی عمل میںلائی جارہی ہیں۔ بی جے پی ترجمان نے کہا کہ 1990میں فاروق عبداللہ کی سرکار نے کشمیری پنڈتوں کے انخلاء کو روکنے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے یہی وجہ ہے کہ کشمیری پنڈت دھر دھر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔