ماہی گیر اور مقامی لوگوں کا نالہ ویشو کو بچانے کا مطالبہ
سرینگر/ یو این ایس// جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں ویشوؤ نالہ کے کنارے آباد ماہی گیر اور مقامی باشندے غیر سائنسی اور مبینہ غیر قانونی کانکنی کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ مظاہرین نے پانی کی اس اہم گزرگاہ کے اطراف ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا کر ریلی نکالی اور ویشاؤ نالہ کو تباہی سے بچانے کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ریلی میں شریک افراد نے ’’ویشاؤ نالہ بچاؤ‘، ’آبی ذخائر کو بچاؤ‘، ’غیر قانونی کانکنی بند کرو‘‘ اور ’ماہی گیروں کو بچاؤ‘جیسے نعرے درج پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نالے سے ریت اور پتھر نکالنے کے لیے بھاری مشینری کے استعمال نے آبی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔مقامی ماحولیاتی کارکن یاسر احمد نے کہا کہ ویشاؤ نالہ کشمیر کے لیے ایک لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقامی لوگ قانونی اور محدود کانکنی کے خلاف نہیں ہیں، تاہم نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کے احکامات اور جموں و کشمیر معدنی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی جانے والی غیر سائنسی کانکنی ناقابل قبول ہے۔ویشؤ نالہ، جو کوسر ناگ۔اہربل علاقے سے نکل کر سنگم میں دریائے جہلم سے ملتا ہے، جہلم کے معاون دریاؤں میں سب سے زیادہ پانی کا بہاؤ رکھتا ہے۔ یہ نالہ جنوبی کشمیر کے 100 سے زائد دیہات کو روزانہ تقریباً ساٹھ لاکھ گیلن پینے کا پانی فراہم کرتا ہے اور زراعت، باغبانی اور ماہی پروری کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ جے سی بی مشینوں، ایل ایم ٹی گاڑیوں اور کرینوں کے ذریعے، بالخصوص رات کے اوقات میں، نالے سے بے دریغ معدنی مواد نکالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گہری مشینی کانکنی کے باعث زیر زمین پانی کی سطح میں کمی آئی ہے اور پانی آلودہ ہو چکا ہے۔نیشنل گرین ٹریبونل نے اس معاملے پر سماعت شروع کی، جو تاحال زیرِ غور ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ مسلسل بگاڑ کی صورت میں ٹراوٹ مچھلی سمیت حساس آبی حیات کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے اور زیریں علاقوں میں سیلاب کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔لائسنس یافتہ ماہی گیروں نے کہا کہ ان کا روزگار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ پہلو گاوں کے ماہی گیر سجاد احمد کے مطابق آلودہ پانی اور آبی حیات کی تباہی کے باعث مچھلیوں کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔مقامی باشندوں نے نالے کے کناروں پر کوڑا کرکٹ پھینکے جانے پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ مناسب ڈمپنگ یارڈ اور کچرے کی علیحدگی کے نظام کے فقدان کے باعث آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔لوگوں نے خبردار کیا کہ حد سے زیادہ کانکنی نے نالے کے پشتوں کو کمزور کر دیا ہے، جس سے اچانک سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2014 جیسے سیلابی حالات دوبارہ پیدا ہو سکتے ہیں۔آخر میں مظاہرین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور ویشاؤ نالہ کو ناقابلِ تلافی نقصان سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔










