dooran

لشکر سے جڑے بنگلورو دہشت گردی سازش کیس

ماہرِ نفسیات سمیت تین افراد پر چارج شیٹ داخل

سرینگر//یو این ایس / قومی تحقیقاتی ایجنسی نے بنگلورو میں 2023 کے ایک دہشت گردی سازش کیس میں، جو پاکستان میں قائم لشکرِ طیبہ سے جڑا ہوا ہے، ایک ماہرِ نفسیات سمیت تین ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ چارج شیٹ جمعرات کو بنگلورو کی ایک عدالت میں داخل کی گئی۔این آئی اے کی جانب سے دائر دوسری ضمنی چارج شیٹ میں انیس فاطمہ، چن پاشا اے اور ناگراج ایس کے نام شامل ہیں۔ ان پر بھارتی تعزیراتِ قانون، غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ، دھماکہ خیز مواد ایکٹ، انسدادِ بدعنوانی ایکٹ اور کرناٹک پریزنز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔این آئی اے نے یہ کیس اکتوبر 2023 میں مقامی پولیس سے اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔ اس سے قبل ایجنسی نو ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کر چکی ہے، جن میں مفرور جْنید احمد بھی شامل ہے۔ یہ مقدمہ اصل میں جولائی 2023 میں بنگلورو سٹی پولیس نے درج کیا تھا، جس میں شہر میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کی سازش کے تحت اسلحہ، گولہ بارود اور ڈیجیٹل آلات کی برآمدگی عمل میں آئی تھی۔ حکام کے مطابق اس سازش کا مقصد بھارت کی خودمختاری اور سلامتی کو نقصان پہنچانا تھا۔این آئی اے کے بیان کے مطابق یہ سرگرمیاں لشکرِ طیبہ کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے کی جا رہی تھیں اور اس کا تعلق ایک بڑی سازش سے تھا، جس کے تحت متعدد دہشت گردی مقدمات میں عمر قید کی سزا یافتہ ٹی ناصر کو جیل سے عدالت لے جاتے وقت فرار کرانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ ناصر اس وقت 2008 کے بنگلورو سیریل بم دھماکوں کے مقدمات میں زیرِ سماعت قیدی تھا۔ چارج شیٹ میں شامل تین ملزمان میں انیس فاطمہ کو جْنید احمد کی والدہ بتایا گیا ہے۔ این آئی اے کے مطابق انہوں نے بنگلورو کی پارپنا اگراہارا سینٹرل جیل میں ٹی ناصر کو مالی اور لاجسٹک مدد فراہم کی۔ وہ اپنے بیٹے کی ہدایات پر ہینڈ گرنیڈز اور واکی ٹاکیز سنبھالنے اور مختلف ملزمان کے درمیان رابطہ قائم کرنے میں بھی ملوث رہیں۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ انیس فاطمہ نے اہم ملزم سلمان خان کو پناہ دی اور اس کے لیے سفری دستاویزات کا انتظام کر کے اسے دبئی فرار ہونے میں مدد دی۔ بعد ازاں سلمان خان کو روانڈا سے بھارت واپس لایا گیا۔چن پاشا اے، جو بنگلورو سٹی آرمڈ ریزرو (ساؤتھ) میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر تھا، پر الزام ہے کہ اس نے سلمان خان سے غیر قانونی رقم لے کر ٹی ناصر کی جیل سے عدالت لے جانے کے دوران سیکیورٹی اور اسکارٹ کی تفصیلات فراہم کیں۔تیسرے ملزم ناگراج ایس، جو پارپنا اگراہارا سینٹرل جیل اسپتال میں ماہرِ نفسیات کے طور پر تعینات تھا، پر الزام ہے کہ اس نے غیر قانونی طور پر موبائل فون جیل کے اندر اسمگل کیے اور قیدیوں کو فروخت کیے۔ این آئی اے کے مطابق ان میں سے ایک موبائل فون ٹی ناصر تک پہنچا، جس کے ذریعے اس نے اپنے ساتھی ملزمان سے رابطہ قائم کر کے دہشت گردی کی سازش کو آگے بڑھایا۔