کبھی کشمیر کی سردیاں روشنی، برف اور رونق کا تیوہار لگتی تھیں۔ مگر اب یہی موسم ایک انجانے خوف میں بدل گیا ہے۔ روز کسی نہ کسی گھر سے خبر آتی ہے: کہیں اچانک دل تھم گیا، کہیں سانس نے ساتھ چھوڑ دیا، کہیں معمولی سی تکلیف نے جان لیوا شکل اختیار کر لی۔ بچے ہوں یا بزرگ سردی سب کے لیے ایک آزمائش بنتی جا رہی ہے۔
آج زکام اور کھانسی بھی معمولی بات نہیں رہ گئی۔ مہینوں تک چلتی ہے، کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر بدل کیا گیا ہے؟ موسم، ماحول یا ہماری زندگیاں؟
ہم نے گھروں کو گرم رکھنے سے زیادہ اپنی رفتار کو تیز رکھنے کی فکر کر لی ہے؛ احتیاط پیچھے رہ گئی ہے، بےاحتیاطی آگے۔ آلودگی، کمزور غذائیں، بے قاعدہ طرزِ زندگی اور علاج میں تاخیر یہ سب مل کر سردیوں کو موت کا موسم بنا رہے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس موسم سے ڈرنے کے بجائے اسے سمجھیں: بروقت طبی مشورہ، مناسب لباس، صاف گھر، گرم خوراک اور سب سے بڑھ کر بزرگوں اور بیماروں کا خیال۔ اگر ہم نے یہ شعور پیدا نہ کیا تو سردی صرف باہر نہیں بڑھے گی ہمارے اندر بھی اترتی چلی جائے گی۔










