دونوں ممالک کے مابین ٹریک ٹو ڈپلومیسی کی ضرورت تاکہ سرکاری سطح پر بات چیت کا سلسلہ شروع ہوسکے /ماہرین
سرینگر//اے پی آئی// سال 2025کے دوران بھارت پاکستان کے مابین بڑی جنگ شروع نہ ہونے کو خطے کے امن ، ترقی اور خوشحالی کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے بھارت پاکستان کے سابق فوجی افسروں ، تجزیہ کاروں نے کہا کہ دونوں ممالک کو اب اس بات کا احساس ہوچکا ہے کہ جنگ ان کیلئے انتہائی ناموافق ہے تاہم مسائل کو حل کرنے کیلئے مذاکرات کی میز سجانا انتہائی لازمی ہے اور دونوں ممالک کی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ زمینی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے خطے میں اعتماد سازی کی بحالی ، امن کو قائم کرنے کیلئے فکر سے ٹریک ٹو کا آغاز کریں تاکہ سرکاری سطح پر بات چیت کا آغاز ہوسکے ۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق 30دسمبر کو بھارت پاکستان پرائیویٹ نیوز چینلوں کے ٹاک شو میں دونوں ممالک کے سابق فوجی افسروں اور تجزیہ کاروں نے شرکت کے دوران بھارت پاکستان کے مابین کشیدہ تعلقات اور دونوں ممالک کے مابین دوری کو انتہائی ناموافق قرا ردیتے ہوئے کہا کہ یورپی اور مغربی ممالک کو بھی اپنے وقت میں کشیدگی ، تنائو کی صورتحال سے گزرنا پڑا۔ سابق فوجی افسروںنے کہا کہ 7اور 8مئی کو دونوں ممالک کے مابین جنگ شروع ہوئی تاہم یہ جنگ صرف 88گھنٹوں تک جاری رہی ۔ دونوں ممالک کی فوجی اور سیاسی قیادت نے اس صوروتحال پر قابو پایا ۔ سائز فائر کا اعلان ہوا جو ایک مثبت اقدام تھا اور پوری دنیا کے دفائی ماہرین اس بات پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہیں کہ بھارت پاکستان نیوکلیائی ہتھیار استعمال کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے تاہم صرف ایک گھنٹے کے اندر اندر فوجی اور سیاسی قیادت کی سوچ بدل گئی اور جنگ کو ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا ۔ تجزیہ کاروں اور سابق فوجی افسروں نے کہا کہ موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور دونوں ممالک کے عوام اس سے ناخوش ہے ۔ برصغیر کی تقسیم 76سال پہلے ہوئی ہے ، اب دونوں ممالک نیوکلیئر طاقت ہیں اور ان چھ دہائیوں کے دوران کئی جنگیں لڑیں جہاں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ بھارت ہر سال اپنی بجٹ کا 14سے 19فیصد دفائی اخراجات پر خرچ کرتا ہے جبکہ پاکستان 8سے 10فیصد بجٹ اسلحہ ، جدید لڑکا طیارے ، میزائل ، ٹیکنالوجی ، ڈرون طیارے خریدنے پر صرف کررہا ہے ۔ دونوں ممالک میں 30سے 35فیصد آبادی خطہ افلاس سے نیچے زندگی بسر کررہی ہیں۔ 20سے 25فیصد آبادی کو بنیادی سہولیات کی کمی ہے ۔ 31سے 35فیصد آبادی دور جدید کی ٹیکنالوجی سے محروم ہیںجبکہ 25فیصد نونہالوں کو بنیادی تعلیم دستیاب نہیں ہے ۔ ٹاک شو میں شرکت کرنے والوں نے بھارت پاکستان فوجی اور سیاسی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایک گھنٹے کے اندر اندر جنگ روک دینا ایک بہت بڑی بات ہے ۔ جس سیاسی اور فوجی قیادت کے پاس اتنی بڑی صلاحیت ہو کیا وہ اپنے مستقبل کو تابناک ، روشن بنانے کیلئے اقدامات نہیں اٹھاسکتے ۔ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کا وجود تسلیم کریں ،ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا آغاز کریں تاکہ یہ سلسلہ سرکاری سطح پر بات چیت شرو ع ہونے سے ختم ہوسکے ۔










