سکینہ اِیتو نے جموںوکشمیر کے تمام صحت مراکز میں صفائی ستھرائی کے جامع اَقدامات پر زور دیا

سکینہ اِیتو نے جموںوکشمیر کے تمام صحت مراکز میں صفائی ستھرائی کے جامع اَقدامات پر زور دیا

ہسپتالوں میں صفائی و ستھرائی برقرار رکھنے والے ڈاکٹروں اور عملے کو نقد انعامات اور اسناد دینے کی ہدایت

جموں//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو نے جموں و کشمیر بھر کے تمام گورنمنٹ میڈیکل کالجوں ، ضلعی ہسپتالوں، سب ڈِسٹرکٹ ہسپتالوں اور دیگر صحت مراکز میں صفائی و ستھرائی کے اَقدامات کومکمل طور پر بحال کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ حفظانِ صحت اور صفائی معیاری مریض نگہداشت اور عوامی اعتماد کا بنیادی ستون ہیں۔وزیر موصوفہ نے صوبہ جموں کے صحت اِداروںمیں صفائی و ستھرائی کے اقدامات کے بارے میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے صوبہ کشمیر کی کل کی میٹنگ کی مناسبت سے غیر صاف ستھری ہسپتالوں کے تئیں زیرو ٹالرنس کی پالیسی اَپنانے پر زور دِیا۔ اُنہوں نے پرنسپلوں اور میڈیکل سپراِنٹنڈنٹوں کو ہدایت دی کہ صفائی کے اصولوں کی سختی سے پابندی کریں، صفائی کے معیار کی باقاعدہ نگرانی کریں اور ہر سطح پر جوابدہی کو یقینی بنائیں۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ہسپتالوں اور دیگر صحت مراکز میں مریضوں اور اُن کے تیمارداروں کے لئے حفاظت، وقار اور ہمدردی کا ماحول ہونا چاہیے۔اُنہوںنے کہا،’’صاف ستھرے اور اچھی طرح سے برقرار رکھے ہوئے صحت اِدارے اختیاری نہیں ہیں بلکہ مؤثر صحت خدمات کی فراہمی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ بڑے گورنمنٹ میڈیکل کالجوں سے لے کر دُور دراز صحت مراکز تک ہر سہولیت میں صفائی و ستھرائی کے اعلیٰ ترین معیار ات کو برقرار رکھا جائے۔‘‘وزیر صحت نے جموں و کشمیر کے تمام ہسپتالوں میں مکمل صفائی، نظم و ضبط اور جوابدہی کے لئے سخت اور پُر اثر ہدایات جاری کیں اور کہا کہ غیر صاف ہسپتال محض اِنتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک اخلاقی، ثقافتی اور سماجی خیانت ہیں۔اُنہوں نے اِسلامی تعلیم ’’ اَلطَّہُوْرُشَطْرُالْاِیْمَانِ‘‘(صفائی نصف ایمان ہے) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر گھروں اور عبادت گاہوں میں صفائی ضروری ہے تو یہ ہسپتالوں میں مقدس بن جاتی ہے جہاں درد، دُعا اور اُمید ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں۔وزیر سکینہ اِیتو نے محکمہ کو ہدایت دی کہ مرکزی سطح پر ایک آڈِٹ کمیٹی تشکیل دی جائے اور جموں و کشمیر میں صحت مراکز کا پندرہ روزہ بنیاد وں پر باقاعدہ معائینہ کیا جائے جس میں بالخصوص صفائی و ستھرائی کے اَقدامات پر توجہ دی جائے۔اُنہوںنے ہسپتالوں کے دوروں کے دوران زمینی مشاہدات پر گہری تشویش کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ پریشان کن بات ڈاکٹروں یا محنت کی کمی نہیں بلکہ احساسِ ذمہ داری کا فقدان ہے۔ اُنہوں نے واضح طور پر کہا کہ صفائی ہر ایک ڈائریکٹر اور پرنسپل سے لے کر صفائی کرمچاری ملازم تک کی ذِمہ داری ہے۔وزیر صحت نے کہا،’’ہسپتالوں کے اِنتظام اور صفائی میں ہرایک کا کردار ہے، نہ صرف میڈیکل سپراِنٹنڈنٹ یا پرنسپل کا‘‘۔ اُنہوں نے کہا کہ ہسپتال ہمارے گھروں کی طرح صاف ہونے چاہئیں اور اِس معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔اُنہوں نے میڈیکل سپراِنٹنڈنٹوں سے یہ بھی کہا کہ وہ ہسپتالوں کی صفائی اور حفظانِ صحت کو برقرار رکھنے میں شامل صفائی ملازمین، ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو نقد انعامات اور توصیفی اسناد دیں۔
وزیر موصوفہ نے مزید ہدایت دی کہ ہسپتالوں کے اندر باہر سے کسی بھی قسم کا کھانا یا خوردنی اشیائے لانے کی اِجازت نہ دی جائے۔ اُنہوں نے ہسپتال کے احاطے میں پولی تھین بیگوں پر مکمل پابندی عائد کرنے پر بھی زور دیا۔اُنہوںنے پرنسپلوں اور میڈیکل سپر اِنٹنڈنٹوںکو ہدایت دی کہ وہ اَپنی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دیں جو روزانہ کی بنیاد پر اَپنے متعلقہ ہسپتالوں میں صفائی کے حوالے سے معائینہ کریں گی۔ اُنہوں نے انہیں مزید ہدایت دی کہ تیمارداروں میں ہسپتال کے احاطے میں کرنے اور نہ کرنے کے امورکے بارے میں بیداری فراہم کریں۔اُنہوں نے ان سے صفائی کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے اَفراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کو بھی کہا۔سکینہ اِیتو نے باقاعدہ آڈِٹ، ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کو بہتر بنانے ، ہاؤس کیپنگ خدمات کو مضبوط بنانے اور صفائی و بنیادی ڈھانچے میں موجود خامیوں کو دُور کرنے کے لئے متعلقہ ایجنسیوں کے ساتھ بہتر تال میل پر زور دیا۔ اُنہوں نے ہسپتال اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ عملے اور خدمات فراہم کرنے والوں کو حفظانِ صحت اور مریض دوست ماحول برقرار رکھنے کے حوالے سے حساس بنایا جائے۔اُنہوں نے ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی کے کارکنوں کو معقول بنانے اور اُن کے لئے مناسب ڈیوٹی روسٹر تیار کرنے پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے ہسپتال منتظمین سے کہا کہ صفائی کرمچاریوں کو ہر چھ ماہ یا اس سے کم مدت میں یونیفارم فراہم کی جائے اور ان کی مجموعی فلاح و بہبود کے لئے بھی اَقدامات کئے جائیں۔وزیر موصوفہ نے اِس بات پر زور دیا کہ جو لوگ ہسپتالوں کی صفائی کرتے ہیں وہ عبادت جیسا عمل انجام دے رہے ہیں اور وہ عزت، تحفظ، بروقت اُجرت، تربیت اور پہچان کے مستحق ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’جو ہسپتال اَپنے صفائی ملازمین کی بے عزتی کرتا ہے وہ کبھی حقیقی معنوں میں صاف نہیں ہو سکتا۔‘‘اُنہوں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ صفائی ستھرائی کے معیار کو بہتر بنانا اوّلین ترجیح رہے گی اور متنبہ کیا کہ صحت اِداروں میں صفائی برقرار رکھنے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اُنہوں نے عہد ہ داروں پر زور دیا کہ وہ لگن اور دیانت داری سے کام کریں تاکہ صحت عامہ مراکز لوگوںکی توقعات پر پورا اُتریں۔وزیرصحت نے ہسپتال منتظمین کو ہدایت دی کہ ناکارہ وہیل چیئرز اور ٹرالیوں کو مسلسل بنیادوں پر تبدیل کیا جائے اور ان کی جگہ نئی فراہم کی جائیں۔ اُنہوں نے غیر صحت بخش بستروں اور بستر وں کی تبدیلی پر بھی زور دیا تاکہ ہسپتالوں میں مریضوں کی مجموعی نگہداشت بہتر بنائی جا سکے۔اُنہوں نے غیر صحت بخش وارڈوں، گندے واش روموں اور بکھرے ہوئے کچرے کے مسئلے کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ طبی مہارت کی کوئی مقدار مریض کے وقار کے نقصان کی تلافی نہیں کر سکتی۔ اُنہوں نے کہا،’’ایک صاف ستھرا ہسپتال صدقہ جاریہ ہے۔‘‘سکینہ اِیتو نے عمر عبداللہ کی قیادت میںجموں و کشمیر میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کی مسلسل کوششوں کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جدید طبی خدمات جیسے ایل آئی این اے سی ، پی اِی ٹی سکین، بریچی تھراپی، رینل ٹرانسپلانٹ پروگرام، آنکولوجی مریضوں کی مالیکیولر تشخیص اور سپر سپیشلٹی ہسپتال اور جی ایم سی جموں میں دیگر جدید سہولیات نے صحت خدمات میں نمایاں بہتری لائی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ سٹیٹ کینسر اِنسٹی چیوٹ میں جدید کینسر علاج کی سہولیات اور دیگر جدید تشخیصی و علاج معالجے کی خدمات نے مریضوں کو علاقے سے باہر علاج کرنے کی ضرورت کو کم کردیا ہے۔میٹنگ میں ایم ڈِی جے کے ایم ایس سی ایل طارق حسین گنائی، پرنسپل جی ایم سی جموں ڈاکٹر آشو توش گپتا، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں ڈاکٹر عبدالحمید زرگر، ڈائریکٹر فیملی ویلفیئر و امیونائزیشن ڈاکٹر پونم سیٹھی، ڈائریکٹرفائنانس صحت و طبی تعلیم، ڈائریکٹر پلاننگ صحت و طبی تعلیم، پرنسپل گورنمنٹ ڈینٹل کالج جموں، جی ایم سیز کٹھوعہ، ڈوڈہ، راجوری اور اودھمپور کے پرنسپلوں، صوبہ جموں کے تمام ضلعی ہسپتالوں کے میڈیکل سپراِنٹنڈنٹوں، سی ایم اوز اور دیگر متعلقہ اَفسران نے ذاتی طور پر یا بذریعہ ویڈیو کانفسنگ شرکت کی۔