fire

کشمیر میں 24 گھنٹوں کے دوران 11 آتشزدگی کے واقعات

رہائشی، تجارتی اور زرعی املاک کو نقصان، بروقت کارروائی سے بڑا حادثہ ٹل گیا

سرینگر// کشمیر ڈویژن میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 11 آتشزدگی کے واقعات پیش آئے، جن میں رہائشی مکانات، تجارتی املاک اور زرعی اثاثوں کو نقصان پہنچا۔ حکام نے منگل کے روز بتایا کہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام مقامات پر آگ کو پھیلنے سے روک دیا، جس کے نتیجے میں بڑے جانی و مالی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کشمیر ڈویڑن کے مطابق سرینگر کے عمر کالونی، لال بازار میں ایک تین منزلہ رہائشی مکان آگ کی زد میں آ گیا، جس سے عمارت کو نقصان پہنچا۔یو این ایس کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور کے دیوان باغ میں ایک سنگل اسٹوری اسکول عمارت میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ ضلع گاندربل کے صفاپورہ کے چیوہ علاقے میں مویشیوں کے چارے کے لیے استعمال ہونے والا ایک گھاس کا ڈھیر جل کر خاکستر ہو گیا۔جنوبی کشمیر میں ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ کے لتہ پورہ علاقے میں جی سی آئی شیٹس سے بنی ایک شیڈ کو آگ سے نقصان پہنچا، جبکہ ضلع شوپیاں کے بونگام علاقے میں ایک دکان آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔ ضلع کولگام کے قاضی گنڈ علاقے کے گنڈ میں ایک دو منزلہ رہائشی مکان کو بھی آتشزدگی سے نقصان پہنچا۔ضلع کپواڑہ میں پیر خان آباد علاقے میں ایک اخروٹ کا درخت آگ لگنے سے متاثر ہوا، جبکہ ماگام علاقے میں ایک گاؤشالہ کو نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق باقی واقعات معمولی نوعیت کے تھے، جن پر فوری قابو پا لیا گیا، جس سے بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔یو این ایس کے مطابق محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خاص طور پر موسم سرما کے دوران فائر سیفٹی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر محکمہ کو اطلاع دیں تاکہ بروقت امدادی کارروائی کی جا سکے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 کے دوران جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 6,752 فائر کالز موصول ہوئیں، جن میں 42 جھوٹی کالز بھی شامل تھیں۔ اس دوران 2,938 عمارتیں آگ سے متاثر ہوئیں، تاہم فائر سروسز کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں تقریباً 1,699 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کو بچا لیا گیا۔ زیادہ تر آتشزدگی کے واقعات کی وجوہات میں ایل پی جی لیکیج، برقی اوورلوڈ، شارٹ سرکٹ اور ہیٹنگ آلات کا حد سے زیادہ استعمال شامل رہا۔محکمہ کے مطابق سال 2025 کے دوران پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعات کے حتمی اعداد و شمار تاحال جاری نہیں کیے گئے ہیں۔