پی او سی ایس او ایکٹ پر دو روزہ اورنٹیشن پروگرام جموں میں اِختتام پذیر

پی او سی ایس او ایکٹ پر دو روزہ اورنٹیشن پروگرام جموں میں اِختتام پذیر

جموں// چیف جسٹس جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ اورسرپرست اعلیٰ جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی جسٹس ارون پلی کی سرپرستی اور جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی کی گورننگ کمیٹی کی چیئرپرسن و اَراکین کی رہنمائی میں بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون (پی اور سی ایس او ا)یکٹ 2012 پر دو روزہ اورنٹیشن پروگرام سمواد( ایس اے ایم وِی اے ڈِی) کے تربیتی مینول ’’ بچوں کے جنسی استحصال کے معاملات میں کام کے لئے ضروری مداخلتیں اور مہارتیں۔نفسیاتی و قانونی پہلوئوں کا تعارف‘‘اورنیشنل جوڈیشل اکیڈیمی کے فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں کے تربیتی ماڈیول کے حوالے سے کنونشن سینٹرکنال روڈجموں میں اِختتام پذیر ہوا۔ جج ہائی کورٹ جموں وکشمیر اور لداخ اور رُکن گورننگ کمیٹی جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی جسٹس جاوید اِقبال وانی نے اِس بات پر زور دیا کہ بچے کے خلاف جرم محض مجرمانہ فعل نہیں ہے بلکہ اعتماد اور وقار کی سنگین پامالی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں اِنصاف اِنسانی، بروقت اور بچوں پر مرکوز ہونا چاہیے اور عدالتیں بچوں کے متاثرین کے لئے اعتماد، تحفظ اور اِنصاف کی آخری اُمید کاکی جگہ بننی چاہئیں۔اُنہوں نے مشاہدہ کیا کہ پی او سی ایس او ایکٹ 2012 اس لئے نافذ کیا گیا تاکہ اِنصاف کے نظام میں بچوں کے متاثرین کے ساتھ برتاؤ کے طریقۂ کار کو بدل دیا جائے اور ہر مرحلے پر بچے کے بہترین مفاد اور وقار کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ بحالی اور معاوضہ بھی اِس قانون کے تحت اِنصاف کے لازمی اجزا ٔہیں اور یہ نتیجہ اَخذ کیا کہ ہر پی او سی ایس او کیس حساسیت کا امتحان ہے اور ہر بچہ ہمارے انصاف کے لئے عزم کا پیمانہ ہے۔دوسرے دن سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس ہریانہ ڈاکٹر کے پی سنگھ نے ’’پی او سی ایس او مقدمات میں مؤثر تفتیش اور دستاویز بندی‘‘کے موضوع پر پہلی تکنیکی نشست لی۔ اُنہوں نے پولیس تفتیش میں بہترین عملی طریقوں، پی او سی ایس او ایکٹ کی دفعات 24 اور 25 کے تحت تفتیشی اَفسران کی ذِمہ داریوں، درست دستاویز بندی، ٹیکنالوجی کے اِستعمال اور رازداری کی اہمیت کا اشتراک کیا اورساتھ ہی عام تفتیشی خامیوں کی نشاندہی کی جو بریت کا سبب بنتی ہیں۔پروفیسر نیشنل جوڈیشل اکیڈیمی بھوپال ڈاکٹر ہمایوں رشید خان نے ’’ پی او سی ایس او عدالتوں میں ٹرائل مینجمنٹ ۔چیلنجز، حساسیت اور کیس لأ‘‘ پر دوسری سیشن منعقد کیا۔ اِس سیشن میں بچوں کے لئے موافق عدالتی طریقۂ کار، کمسن گواہوں کے بیان کو سنبھالنے، خصوصی عدالتوں کا کردار، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹو ںکے حالیہ فیصلے، کمزور گواہوں کا تحفظ اور نیشنل جوڈیشل اکیڈیمی کے تربیتی ماڈیولز کے تحت طے شدہ فاسٹ ٹریک طریقہ ٔ کار پر توجہ مرکوز کی گئی۔تیسری نشست میں ایڈ وکیٹ جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ مندیپ رین نے ’’پی اوسی ایس او ایکٹ اور قواعد کی اہم دفعات‘‘ اورپی او سی ایس او ایکٹ اور جووینائل جسٹس (نگہداشت و تحفظِ اطفال) ایکٹ 2015 کے درمیان تعامل پر خطاب کیا۔ اُنہوں نے صنفی مرکزی دھارے میں شمولیت، کام کی جگہ پر مساوات، داخلی اور مقامی شکایات کمیٹیوں کے کردار اور صنفی دقیانوسی زبان کے استعمال کی ممانعت پر زور دیا جس کے حوالے سے سپریم کورٹ آف اِنڈیا کی طرف سے جاری کردہ ہینڈ بک کا حوالہ بھی دیا گیا۔ڈائریکٹرجموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی نذیر احمد ڈارنے شکریہ کی تحریک پیش کی۔اِس کے بعد ایک اِستفساری سیشن منعقد ہوا جس میں شرکأ نے اَپنے تجربات، درپیش چیلنجوں اور آرأکا اشتراک کیا جس سے عملی میدان سے حاصل شدہ بصیرت سے مباحث کو مزید تقویت ملی۔