یہ دونوں عظیم شخصیات جدید ہندوستان کے وِیژنری معمار ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر
جموں// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے جمعرات کے روز مہامنا پنڈت مدن موہن مالویہ اور سابق وزیر اعظم اَٹل بہاری واجپائی کو ان کی یومِ ولادت کے موقعہ پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔اُنہوںنے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کے لئے مہامنا اور اَٹل جی کے نظریات و ویژن اور سماجی ہم آہنگی، مساوات اور اِنصاف کا ان کا پیغام ہمیشہ لوگوں کو ترغیب دیتا رہے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ دونوں عظیم شخصیات جدید ہندوستان کے ویژنری معمار ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر غازی پور میں پنڈت مدن موہن مالویہ اِنٹر کالج میں منعقدہ ایک یادگاری تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اِس برس مہامنا پنڈت مدن موہن مالویہ کی 164ویں اور سابق وزیر اعظم اَٹل بہاری واجپائی کی 101ویں یومِ ولادت منائی جا رہی ہے۔اُنہوں نے ہندوستان کی تعلیمی، ثقافتی اور صنعتی ترقی میں مہامنا مالویہ کی بے مثال خدمات کو اُجاگر کیا۔اُنہوںنے کہا کہ مہامنا پنڈت مدن موہن مالویہ نے جدید تعلیم کو ترقی کے ایک طاقتور محرک میں تبدیل کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’مہامنا نے عوامی عطیات اور عوامی شراکت کے ذریعے بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) قائم کی۔ اُن کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے ہم نے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے تحت بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی ہے اور جموں و کشمیر میں آپریشن سندور کے دوران پاکستانی گولہ باری اور حالیہ آفاتِ سماوی سے متاثرہ کنبوں کے لئے زائد اَز1,800 مکانات کی بنیاد رکھی گئی ہے۔‘‘اُنہوں نے سابق وزیر اعظم اَٹل بہاری واجپائی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اٹل جی نے ہندوستان کی اندرونی قوت کو بیدار کیا اور عالمی سطح پر ہندوستانیوںمیں خود اعتمادی کا جذبہ پیدا کیا۔منوج سِنہانے کہا،’’اٹل جی نے بہتر طرزِ حکمرانی اور معاشی ترقی کو ترجیح دی۔ اُن کا اثر ہمہ گیر تھا۔ اُن کی اِنتظامی اِصلاحات اور شفافیت، جوابدہی اور مؤثر، عوام دوست خدمات کی فراہمی پر توجہ نے جامع، ہمہ گیر اور تیز رفتار ترقی کو یقینی بنایا۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مہامنا اور اٹل جی کے خواب اَب پورے ہو رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دُنیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کے طور پرہندوستان کا ابھرنا اِسی تبدیلی کا ثبوت ہے۔لیفٹیننٹ گورنرنے کہا،’’تاریخ میں پہلی بار ہم ایک مضبوط اور فیصلہ کن حکومت کو آتم نر بھر بھارت کے ویژن پور ا کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ قدیم ثقافت کی بحالی، غریب ترین لوگوں کی ترقی اور دیہاتوں کو متحرک مراکز میں تبدیل کرنے سے وزیر اعظم اُن عظیم شخصیات کے نظریات کو حقیقت میں بدل رہے ہیں۔‘‘










