election chair

873امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ

آج 20گنتی مراکز میں ووٹوں کی گنتی کا عمل صبح 8بجے سے شروع ہورہا ہے

سرینگر//جموں کشمیر اسمبلی کے 90نشستوں پر 873امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ آج ہورہا ہے ۔ گنتی کے عمل کو بہتر ڈھنگ سے منعقد کرانے کیلئے جموں کشمیر میں کل 20کاونٹنگ سنٹر قائم کئے گئے ہیں جن کو تین دائروں والی سیکورٹی میں رکھا گیا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں کشمیر اسمبلی چنائو کے سلسلے میں کل ووٹوں کی گنتی ہوگی اس طرح انتخابات کے نتائج کا انتظار ختم ہونے میں اب کچھ ہی گھنٹے باقی رہنے کے بیچ یونین ٹریٹری کے تمام بیس اضلاع میں ووٹوں کی گنتی کے لئے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی گئی ہے۔حکام نے بتایا کہ تمام ضلعی ہیڈ کوارٹروں پر ووٹوں کی خوشگوار اور ہموار گنتی کو یقینی بنانے کے لئے سیکورٹی کے کڑی انتظامات کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ووٹوں کے مراکز کے گرد و پیش تین دائروں والی سیکورٹی کی تعیناتی کو عمل میں لائی گئی ہے۔حکام نے شفافیت، درستگی اور گنتی کے نتائج کے بروقت اعلان کو یقینی بنانے کے لئے نگرانی اور حفاظتی اقدامات، بیٹھنے کے اِنتظامات، اِی وِی ایم کی ٹرانسپورٹیشن اور کاونٹنگ ہال میں تکنیکی سیٹ اپ کو بھی حتمی شکل دی ہے۔/انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امید واروں کے صرف مجاز کائونٹنگ ایجنٹوں اور گنتی ڈیوٹی پر تعینات عملے کو ہی گنتی ہالوں کے اندر جانے کی اجازت ہوگی‘۔انہوں نے کہا کہ ہر امیدوار کے ووٹوں کی تعداد کا اعلان کاؤنٹنگ ہالز کے باہر پبلک ایڈریس سسٹم پر گنتی کے ہر دور کے بعد کیا جائے گا۔جموں و کشمیر کی کل 90 اسمبلی سیٹوں میں سے وادی کشمیر میں 47 جبکہ جموں صوبے میں 43 سیٹیں ہیں۔ان90 سیٹوں پر کل 873 امید وار اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں جب رائے دہندگان کی کل تعداد 88 لاکھ سے زیادہ تھی۔سال رواں کے ان اسمبلی انتخابات میں جہاں جماعت اسلامی نے بھی آزاد امید وار کھڑا کئے اور جیل میں بند لیڈر سرجان برکاتی نے بھی دو سیٹوں سے الیکشن لڑے۔واضح رہے کہ جموں کشمیر میں لگ بھگ دس سال کے بعد اور 5اگست 2019کے بعد پہلی بار جموں کشمیر میں اسمبلی چنائو منعقد ہوئے ہیں ۔ اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کی مجموعی شرح 63.45 فیصد ریکارڈ ہوئی۔جہاں ایک طرف نیشنل کانفرنس اور کانگریس الائنس جموں وکشمیر میں اگلی حکومت بنانے کا دعویٰ کر رہی ہے وہیں بی جے پی بھی جموں وکشمیر میں پہلی بار حکومت بنانے کے اپنے دعوے پر قائم ہے۔شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں 6اسمبلی حلقوں کی کل ووٹوں کی گنتی ہوگی جن میں کرناہ ، ترہگام ، لولاب ، کپوارہ ، ہندوارہ اور لنگیٹ اسمبلی حلقے شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کپوارہ کی سبھی اسمبلی حلقوں میں کانٹے کامقابلہ بتایا جارہا ہے چند نشستوں پر تکونی مقابلہ ہے البتہ کل دوپہرتک صورتحال واضح ہوجائے گی ۔