accident

8سالوں میں20 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات

4ہزار اموات،24ہزار زخمی،سرینگر،جموں شاہراہ پر موت کا رقص

سرینگر/ یو این ایس // جموں و کشمیر میں گزشتہ8 سالوں کے دوران سڑکوں پر حادثات میں خوفناک اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 19,104 حادثات رونما ہوئے ہیں، جن میں 4,269 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 23,848 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعدادوشمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں سڑکوں پر حفاظتی تدابیر میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔وادی میں 2018 میں 345 حادثات ہوئے، جن میں 46 افراد کی موت اور 383 افراد زخمی ہوئے۔ 2019 میں ان حادثات کی تعداد 310 رہی، جس میں 45 افراد کی موت اور 323 افراد زخمی ہوئے۔ 2020 میں کووڈ کی پابندیوں کی وجہ سے حادثات میں کمی آئی اور 275 حادثات میں 45 اموات اور 265 افراد زخمی ہوئے۔ تاہم، 2021 میں حادثات کی تعداد 331 تک پہنچی، جس کے نتیجے میں 40 افراد کی موت اور 344 افراد زخمی ہوئے۔ 2022 میں حادثات کی تعداد بڑھ کر 426 ہو گئی، جن میں 56 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 460 افراد زخمی ہوئے۔ 2023 میں 476 حادثات رونما ہوئے، جس میں 56 افراد کی موت اور 489 افراد زخمی ہوئے۔ 2024 میںنومبر تک 429 حادثات ہو چکے ہیں، جن میں 57 افراد کی موت اور 441 افراد زخمی ہوئے ہیں۔جموں،سری نگر ہائی وے پر سب سے زیادہ حادثات رپورٹ ہوئے ہیں۔ 2018 سے 2024 کے دوران اس راستے پر 8,648 حادثات ہوئے ہیں، جن میں 1,734 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 12,185 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ 2018 میں 1,236 حادثات ہوئے، جن میں 291 افراد کی موت اور 1,698 افراد زخمی ہوئے۔ 2019 میں یہ تعداد بڑھ کر 1,386 ہو گئی، جس میں 324 افراد کی موت اور 2,000 افراد زخمی ہوئے۔ 2020 میں کووڈ کے دوران حادثات کی تعداد 963 رہی، جن میں 213 افراد کی موت اور 1,238 افراد زخمی ہوئے۔ 2021 میں 1,214 حادثات ہوئے، جن میں 230 افراد کی موت اور 1,400 افراد زخمی ہوئے۔ 2022 میں حادثات کی تعداد بڑھ کر 1,386 ہو گئی، جس میں 311 افراد کی موت اور 2,200 افراد زخمی ہوئے۔ 2023 میں 1,368 حادثات رپورٹ ہوئے، جس میں 323 افراد کی موت اور 2,500 افراد زخمی ہوئے۔ 2024 میںنومبر تک 2,034 افراد زخمی ہوئے ہیں اور اموات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔جموں شہر میں بھی سڑکوں پر حادثات کا تناسب زیادہ ہے، جہاں 2018 سے 2024 تک 7,864 حادثات ہوئے ہیں، جن میں 833 افراد کی موت اور 9,075 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ 2018 میں 1,246 حادثات ہوئے، جن میں 135 افراد کی موت اور 1,348 افراد زخمی ہوئے۔ 2019 میں 1,302 حادثات ہوئے، جن میں 118 افراد کی موت اور 1,474 افراد زخمی ہوئے۔ 2020 میں سڑکوں پر سرگرمیاں کم ہونے کے باوجود 974 حادثات ہوئے، جن میں 92 افراد کی موت اور 1,209 افراد زخمی ہوئے۔ 2021 میں یہ تعداد 1,038 رہی، جس میں 107 افراد کی موت اور 836 افراد زخمی ہوئے۔ 2022 میں 1,113 حادثات ہوئے، جس میں 98 افراد کی موت اور 1,476 افراد زخمی ہوئے۔ 2023 میں 1,179 حادثات ہوئے، جو کہ اب تک کا سب سے زیادہ تھا، جس میں 171 افراد کی موت اور 1,405 افراد زخمی ہوئے۔ 2024 میںنومبر تک 1,012 حادثات ہوئے ہیں، جن میں 112 افراد کی موت اور 1,327 افراد زخمی ہوئے ہیں۔جموں کے دیہی علاقوں میں بھی سڑکوں پر اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 2018 سے 2024 تک یہاں 1,764 افراد کی موت اور 3,269 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ 2018 میں 293 اموات ہوئیں، 2019 میں 252 اموات، 2020 میں 182 اموات ہوئیں، 2021 میں 101 اموات، 2022 میں 162 اموات، 2023 میں 204 اموات اور 2024 میں اب تک 166 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ماہرین اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی بہتر انجینئرنگ، سخت ٹریفک قوانین کا نفاذ، عوامی آگاہی کے پروگرام اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اس مسئلے کے حل کیلئے ضروری ہیں۔ جموں و کشمیر کی سڑکوں پر حفاظتی اصلاحات کرنا اب محض ایک آپشن نہیں بلکہ عوامی حفاظت کیلئے ایک انتہائی ضروری قدم بن چکا ہے۔