نائب وزیرا علیٰ سریندر کمار چودھری نے بخشی سٹیڈیم میں قومی پرچم لہرایا
سری نگر//سری نگر کے بخشی سٹیڈیم میں 77 واں یوم جمہوریہ بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا گیاجہاں نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چودھری نے مرکزی تقریب میں قومی پرچم لہرایا اور سلامی لی۔اُنہوں نے پریڈ کا معائینہ کیا اور جے کے پی، بی ایس ایف، سی آر پی ایف، جے کے اے پی، ایس ایس بی، آئی ٹی بی پی، آئی آر پی، خواتین دستوں، فارسٹ پروٹیکشن فورس اور این سی سی کے دَستوں سے سلامی لی۔نائب وزیراعلیٰ نے یومِ جمہوریہ کی مُبار ک باد پیش کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز اور ہندوستانی فوج کو ملک کی حفاظت میں ان کی مسلسل چوکسی اور قربانیوں پرمُبارک باد دِی۔ اُنہوں نے ملی ٹینسی کے خلاف 36 سالہ طویل جدوجہد کو تسلیم کرتے ہوئے جموں و کشمیر پولیس کا شکریہ اَدا کیا اور اُن بہادر اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے ڈیوٹی کے دوران اَپنی جانیں نچھاور کیں۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ سیکورٹی کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ منشیات کے خطرے کے خاتمے اور نوجوانوں کو منشیات کی لت سے بچانا بھی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔اُنہوں نے پہلگام حملے میں جاں بحق ہوئے سیاحوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بار بار کشمیر کے امن اور سیاحتی شعبے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے مگر اَب ایسی سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ اُنہوں نے کہا،’’ہماری عوام اور ہماری سیکورٹی فورسز ہر ایسی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے متحد ہیں۔‘‘سریندر کمار چودھری نے ملک اور بیرونِ ملک سے آنے والے سیاحوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آج کشمیر میں پُراَ من ماحول ہے اور یہ سیاحوں کے اِستقبال کے لئے تیار ہے۔ اُنہوں نے کہا،’’آئیے، زمین پر جنت کی قدرتی خوبصورتی دیکھیں اور کشمیر کی مہمان نوازی اور بھائی چارے کا تجربہ کریں اور سیاحوں کو محفوظ اور گھر جیسا ماحول فراہم کرنے کی یقین دہانی کی۔‘‘اُنہوں نے یومِ جمہوریہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 26 ؍جنوری فخر، عزت اور حب الوطنی کی علامت ہے کیوں کہ اسی دن 1950 میں ہندوستان کا آئین نافذ ہوا اور بھارت ایک خودمختار، سوشلسٹ، سیکولر اور جمہوری جمہوریہ بنا۔
نائب وزیراعلیٰ نے جموں و کشمیر کے ترقیاتی سفر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شیرِ کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے خطے میں اتحاد، بھائی چارے اور ترقی کی مضبوط بنیاد رکھی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس میراث کو آگے بڑھایا اور موجودہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں جموں و کشمیر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔اُنہوں نے نوجوانوں کو بااِختیار بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر تسلیم کرتی ہے اور منشیات کے استعمال نمٹنے کے لئے سخت اقدامات کر رہی ہے۔ اُنہوں نے مشن یووا ڈیجیٹل امپاورمنٹ کا ذکر کیاجو ایک جامع ویب پورٹل اور موبائل ایپ ہے جس میں اے آئی پر مبنی ڈِی پی آر جنریشن، تقریباً 25 ہزار تعلیمی ویڈیوز اور قریب 600 اِی کورسز شامل ہیں جو نئے کاروبار ی اَفراد کے لئے مددگار ہیں۔نائب وزیرا علیٰ نے سکل ڈیولپمنٹ کے بارے میں بتایا کہ آئی ٹی آئی سری نگر میں نئے دور کے کورسز متعارف کئے گئے ہیں اور سمارٹ سٹی سے متعلق شعبوں جیسے آئی او ٹی ٹیکنیشن، سولر ٹیکنیشن اور سمارٹ فون ایپلی کیشن ٹیسٹر میں 68 نئی نشستیں شامل کی گئی ہیں۔ حکومت کا مقصدویژن جموںوکشمیر کو 2030 کے تحت شمالی ہند کا سکل کیپٹل بنانا ہے اور 2030 تک 15 لاکھ نوجوانوں کو ہنرمند بنانا ہدف ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت صنعتی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے اور ایک لوکل ایمپلائمنٹ پالیسی تیار کی جا رہی ہے تاکہ آنے والے اِنڈسٹریل اسٹیٹس میں مقامی نوجوانوں کو روزگار میں پہلا حق یقینی بنایا جاسکے۔
سریندر کمار چودھری نے صحت اور تعلیمی شعبوں میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طبی سہولیات کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور میڈیکل ایجوکیشن کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ دومیل پونی، سندربنی، حیدرپورہ، پورمنڈل، عیدگاہ، بونیاراور نگروٹہ میں سات ڈِگری کالجوں کی عمارتیں مکمل ہو چکی ہیں۔اُنہوں نے ڈیولپڈ ا،نڈیا @ 2047 کے ویژن کے تحت کئے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی میں آرٹیفیشل اِنٹلی جنس، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس اور نینو ٹیکنالوجی جیسے جدید پروگرام شروع کئے گئے ہیں، پانچ اہم ریسرچ کالجوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ’’ڈیزائن یور ڈگری‘‘ پہل شروع کی گئی ہے جس سے طلبأ اپنی کیریئر ترجیحات کے مطابق تعلیم کا راستہ خود منتخب کر سکتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ نصاب میں اِنڈین نالج سسٹم (آئی کے ایس) کی شمولیت طلبأ کو ہندوستان کی سائنسی، فلسفیانہ اور ثقافتی وراثت سے جوڑتی ہے۔نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چودھری نے لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے 89 کستوربا گاندھی بالیکا ودھیالیوں میں 5 ہزار طالبات کو مفت رہائش، کھانا، وظیفہ اور بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ 85 گرلز ہوسٹل تعمیر کئے جا رہے ہیں جن میں سے 48 مکمل ہو چکے ہیں۔اُنہوں نے شہری اور دیہی ترقی کے حوالے سے کہا کہ شہری ترقی کے تحت شروع کئے گئے 288 منصوبوں میں سے 277 مکمل ہو چکے ہیں اورسمارٹ سٹی کے بڑے منصوبے شہری ڈھانچے کو بدل رہے ہیں۔
نائب وزیراعلیٰ نے فلاحی اَقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بیوہ پنشن، بڑھاپے کی پنشن اور میریج اسسٹنس میں اضافہ کیا گیا ہے اور خواتین کے لئے مفت بس سفر سے لاکھوں خواتین مستفید ہوئی ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ 2025 کے دوران جے کے آر ٹی سی نے زائد اَز 62 لاکھ مسافروں کو سفر کیا جن میں 28 لاکھ خواتین شامل تھیں۔اُنہوں نے روایتی دستکاری اور زرعی مصنوعات کے لئے جی آئی ٹیگز کو محفوظ بنانے، کاریگروں اور کسانوں کی روزی روٹی کو مضبوط بنانے میں کامیابیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ جل جیون مشن کے تحت پیش رفت، خوراک کی حفاظت کے اقدامات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹ، سوچھ بھارت مشن کے تحت صفائی کے اقدامات اور منریگا کے تحت روزگار پیدا کرنے کا بھی خاکہ پیش کیا گیا۔سریندر کمار چودھری نے مالی مشکلات اور بار بار آنے والی آفاتِ سماوی کا ذکر کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت خطے کے مخصوص چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری مالی مدد فراہم کرے گی۔اُنہوں نے اتحاد اور ہم آہنگی کی اپیل کرتے ہوئے لوگوںسے کہا کہ جموں و کشمیر کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لئے مل کر کام کریں اور یقین دِلایا کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل اور اَپنے وعدوں کی تکمیل کے لئے ہر ممکن کوشش کرتی رہے گی۔اِس موقعہ پر طلبأ، جموںوکشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لنگویجز کے فنکاروں اور دیگر گروپوں کی جانب سے رنگا رنگ ثقافتی پروگرام پیش کیا گیا جس میں حب الوطنی کے نغمے اور دیگر پروگرام شامل تھے اور سامعین خوب محظوظ ہوئے۔تقریب میں سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، متعدد اراکینِ اسمبلی، صوبائی کمشنر کشمیر، آئی جی پی کشمیر، اِنتظامی سیکرٹریز، ضلع ترقیاتی سری نگر، پولیس و سول اِنتظامیہ کے اعلیٰ اَفسران، مختلف محکموں کے سربراہان، سرکاری اَفسران، بڑی تعداد میں لوگ اور سکولی بچے بھی موجود تھے۔اِس سے قبل نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چودھری نے بلیدان سمب میں شہدأ کوگُل دائرے چڑھائے اور خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔










