دنیا میں انسانی بحران سے غیر مساوی انداز میں نمٹنے پر سربراہ ڈبلیو ایچ او کا اظہار افسوس

74 ممالک میں منکی پاکس کے 16 ہزار سے زیادہ کیس رپورٹ

منکی پاکس کا پھیلنا بین الاقوامی تشویش کا باعث ،وباء پر قابو پانے کیلئے کوششوں میںمصروف/ سربراہ عالمی ادارہ صحت

سرینگر// بھارت سمیت 70 سے زیادہ ممالک میں منکی پوکس کے کیس درج ہونے پر عالمی ادار ہ صحت نے وَبا کو’’غیر معمولی‘‘ صورتحال کے پیش نظرعالمی ایمرجنسی قراردے دیا ہے۔مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے طبی ماہرین کی کمیٹی نے اسی ہفتے آبل بندر کی پھیلتی ہوئی وبا سے پیداہونے والی صورت حال غورکیا تھا اور اس کو ہفتے کے روزعالمی ایمرجنسی قراردیا ہے۔اس اعلان کا یہ مطلب ہے کہ منکی پاکس کی وبا ایک ’’غیرمعمولی واقعہ‘‘ ہے اور یہ مزید ممالک میں پھیل سکتی ہے۔اس سے نمٹنے کیلئے مربوط عالمی ردعمل کی ضرورت ہے۔ڈبلیو ایچ او نے اس سے قبل صحتِ عامہ کے بحرانوں جیسے کووِڈ-19 وبا، 2014 میں مغربی افریقا میں پھیلنے والی ایبولا کی وبا، 2016 ء میں لاطینی امریکا میں زِکا وائرس اور پولیو کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کے لیے ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا تھا۔ہنگامی اعلان عام طورپرمزید عالمی وسائل کا رْخ وبا کی طرف مبذول کرانے کی درخواست کے طورپرکام کرتا ہے۔ ماضی کے اعلانات نے ملے جلے اثرات مرتب کیے کیونکہ اقوام متحدہ کا ادارہ صحت رکن ممالک سے کارروائی کروانے میں بڑی حد تک بے اختیارہے۔گذشتہ ماہ ڈبلیوایچ او کے ماہرین کی کمیٹی نے کہا تھا کہ دنیا بھرمیں منکی پاکس کی وبا ابھی تک بین الاقوامی ایمرجنسی کے مترادف نہیں ہے۔تاہم اس پینل کا صورت حال کا ازسرنوجائزہ لینے کے لیے رواں ہفتے اجلاس طلب کیا گیاتھا۔امریکا کے مرکزبرائے انسدادامراض اوربچاؤ(سنٹرفار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن) کے مطابق قریباًمئی سے اب تک 74 ممالک میں منکی پاکس کے 16 ہزار سے زیادہ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔البتہ آج تک صرف براعظم افریقا میں وبا ء سے اموات کی اطلاع ملی ہے جہاں اس وائرس کی زیادہ خطرناک قسم پھیل رہی ہے اور بنیادی طور پر نائجیریا اور کانگو میں اس سے زیادہ متاثرہ مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے۔افریقا میں، منکی پاکس بنیادی طور پر چوہوں جیسے متاثرہ جنگلی جانوروں سے لوگوں میں پھیلتا ہے۔اس نے ماضی میں کبھی وَبائی شکل اختیار نہیں کی اور نہ یہ کسی متاثرہ ملک سے سرحدپارپھیلی ہے۔ تاہم یورپ، شمالی امریکااور دیگر جگہوں پرمنکی پاکس کا وائرس ان لوگوں میں بھی پھیل رہا ہے جن کا جانوروں سے کوئی تعلق نہیں یا جنھوں نے حال ہی میں افریقا کا سفر بھی نہیں کیا ہے۔ڈبلیوایچ او کے منکی پاکس کے سرکردہ ماہر ڈاکٹر روزمنڈ لیوس نے رواں ہفتے کہا تھا کہ افریقا سے ماورا دوسرے ممالک میں منکی پاکس کے تمام متاثرہ کیسوں میں سے 99 فی صد مرد تھے اور ان میں بھی 98 فی صد وہ مرد شامل تھے جن کے دوسرے مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات تھے۔۔ییل یونیورسٹی میں صحت عامہ اور وبائی امراض کے پروفیسر ڈاکٹر البرٹ کو نے کہا کہ ’’اصل بات یہ ہے کہ ہم نے منکی پاکس کی وبائی مرض میں تبدیلی دیکھی ہے جہاں اب وسیع پیمانے پرغیر متوقع منتقلی ہو رہی ہے۔ وائرس میں کچھ جینیاتی تبدیلیاں ہوئی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے لیکن ہمیں اس قابوپانے کے لیے عالمی سطح پر مربوط ردعمل کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر کو نے جانچ کا عمل فوری طور پرتیزی سے بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ-19 کے ابتدائی دنوں کی طرح نگرانی کے عمل میں موجود نمایاں خلا کو بھی دور کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ’’ہم جو کیس دیکھ رہے ہیں وہ صرف برفانی تودے کی نوک ہیں۔