72 لاکھ روپے کے چیک باؤنس کیس میں سزا

72 لاکھ روپے کے چیک باؤنس کیس میں سزا

ملزم عدالت سے فرار، سی جے ایم نے فوری گرفتاری کا حکم دے دیا

سرینگر//یو این ایس// 72 لاکھ روپے کے ایک بڑے چیک ڈس آنر معاملے میں سزا سنائے جانے کے فوراً بعد ایک مجرم عدالت کے احاطے سے فرار ہو گیا، جس پر چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر نے اس کی فوری گرفتاری اور سینٹرل جیل سرینگر میں بند کرنے کے احکامات جاری کیے۔یو این ایس کے مطابق عدالت کے مطابق، ملزم جو ضلع بڈگام کے علاقے بیروہ کا رہائشی ہے، کو نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کے تحت قصوروار ٹھہرایا گیا۔ یہ معاملہ ایک زمین کے سودے سے جڑی 72 لاکھ روپے کی مالی لین دین سے متعلق تھا۔ عدالت نے ملزم کو ایک سال کی سادہ قید اور 1 کروڑ 44 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی، جو چیک کی رقم کا دوگنا ہے۔استغاثہ کے مطابق، ملزم نے سال 2018 میں ڈوڈہ پتھری علاقے میں پانچ کنال اراضی فروخت کرانے کے وعدے پر 72 لاکھ روپے وصول کیے تھے، تاہم بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ زمین نہ تو فروخت کے لیے دستیاب تھی اور نہ ہی ملزم کو اس پر کسی قسم کا اختیار حاصل تھا۔رقم کی واپسی کے مطالبے پر ملزم نے فروری 2021 میں جموں و کشمیر بینک کی سرینگر برانچ سے جاری ایک چیک دیا، جو ناکافی بیلنس کے باعث باؤنس ہو گیا۔ قانونی نوٹس کے باوجود رقم ادا نہ کیے جانے پر معاملہ عدالت میں پہنچا۔دورانِ سماعت، صفائی کے وکیل نے چیک پر دستخط تسلیم کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خالی دستخط شدہ چیک کا غلط استعمال کیا گیا، تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو اس حوالے سے کبھی کوئی شکایت درج کرائی گئی اور نہ ہی بینک کو اسٹاپ پیمنٹ کی ہدایت دی گئی۔ عدالت نے ایکٹ کی دفعات 118 اور 139 کے تحت قانونی قرض کے قیام کو ثابت شدہ قرار دیا۔عدالت نے جرمانے کی وصولی کے لیے ضلع کلکٹر بڈگام کو وارنٹِ وصولی جاری کرنے، نیز ملزم کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کی اجازت بھی دی۔ متعلقہ تھانہ کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر کو ہدایت دی گئی ہے کہ ملزم کو بلا تاخیر گرفتار کیا جائے۔